کثرت سجود اور رکوع میں کمر سیدھی رکھنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کثرت سجود کے متعلق احکامات

① سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رات بسر کیا کرتا تھا۔ میں وضو کے لیے پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتا یا کوئی اور کام ہوتا تو میں کر دیا کرتا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اسألني
”مجھ سے مانگو“۔
میں نے عرض کیا: میں آپ سے جنت میں آپ کے ساتھ رہنے کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أو غير ذلك؟
”کیا اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتا؟“
میں نے عرض کیا، بس یہی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعني على نفسك بكثرة السجود
”اس مسئلے میں کثرتِ سجود کے ساتھ میری مدد کر“۔
مسلم، كتاب الصلوة 489۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة 1320۔
② سیدنا معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان سے ملا تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے میں کروں اور وہ مجھے جنت میں داخل کر دے۔ یا میں نے کہا: اللہ کو جو اعمال پسند ہیں ان کے متعلق بتائیں۔ وہ خاموش رہے۔ پھر میں نے ان سے سوال کیا تو وہ خاموش رہے۔ پھر تیسری مرتبہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
عليك بكثرة السجود لله فإنك لا تسجد لله سجدة إلا رفعك الله بها درجة ، وحط عنك بها خطيئة
”تم اللہ کے لیے کثرتِ سجود کا اہتمام و التزام کرو۔ اس لیے کہ تم جو سجدہ کرو گے اس کی وجہ سے اللہ تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کی وجہ سے تمہارا ایک گناہ مٹا دے گا“۔
مسلم، كتاب الصلوة 488۔ ترمذی، کتاب الصلوة 388، 389۔
معدان بیان کرتے ہیں، اس کے بعد میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ثوبان کی طرح ہی جواب دیا۔

رکوع میں کمر سیدھی رکھنے کے احکامات

① سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجزئ صلاة أحدكم حتى يقيم ظهره فى الركوع والسجود
”جب تک تم میں سے کوئی رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہ رکھے تو اس کی نماز درست نہیں“۔
ابوداؤد، كتاب الصلوة 855۔ ترمذى، كتاب الصلوۃ 265۔ روایت صحیح ہے۔
② شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو نماز میں اپنی کمر سیدھی نہ کرتے ہوئے دیکھا تو جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو اسے بلایا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تم نے نماز نہیں پڑھی اور اگر تم فوت ہو جاتے تو تم اس دین پر فوت نہ ہوتے جس پر اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا“۔
بخاری، کتاب الاذان 791۔
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يقبل الله صلاة بغير طهور ، ولا صدقة من غلول
”اللہ طہارت کے بغیر پڑھی گئی نماز اور چوری کے مال میں سے کی گئی خیرات قبول نہیں کرتا“۔
مسلم كتاب الطهارة 224/1۔ ترمذي، كتاب الطهارة 1۔