فجر کی سنتوں کی اہمیت اور ظہر، عصر، مغرب و عشاء کی سنتوں کے متعلق احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

فجر کی سنتوں کی اہمیت

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے فجر کی دو رکعتوں کا بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے۔
بخاري، كتاب الجمعة 1163 مسلم، کتاب صلوة المسافرين وقصرها 724/94۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها
”فجر کی دو رکعتیں دنیا اور مافیہا (جو کچھ اس دنیا میں ہے) سے بہتر ہیں۔“
مسلم، كتاب صلوة المسافرين وقصرها 725۔ ترمذى، كتاب الصلوة 416۔

ظہر کی سنتوں کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔
بخاري، كتاب الجمعة 1180۔ مسلم، کتاب صلوة المسافرين وقصرها 729۔
② سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر وأربع بعدها حرمه الله على النار
”جس شخص نے ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار رکعتوں کی حفاظت کی، اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیا“۔
ابوداؤد، كتاب الصلوة 1269۔ ترمذى، كتاب الصلوۃ 427۔ روایت صحیح ہے۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھتے تو پھر آپ انہیں ظہر کے بعد پڑھ لیتے ۔
ترمذى، كتاب الصلوۃ 436۔ روایت حسن ہے۔

عصر کی سنتوں کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رحم الله امرأ صلى قبل العصر أربعا
”اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتا ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الصلوة 1271۔ ترمذى، كتاب الصلوة 430۔ روایت حسن ہے۔
② سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
ابوداؤد، كتاب الصلوۃ 1272۔ روایت حسن ہے۔

مغرب سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھنے کے متعلق احکامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم مدینہ میں تھے تو جب مؤذن نماز مغرب کے لیے اذان دیتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنهم مسجد کے ستونوں کی طرف جلدی سے بڑھتے اور وہ دو دو رکعتیں پڑھتے ۔ حتی کہ اگر کوئی اجنبی شخص مسجد میں آتا تو وہ کثرت کے ساتھ ان دو رکعتوں کو پڑھتا ہوا دیکھ کر یہ خیال کرتا کہ نماز ہو چکی ہے۔
مسلم، کتاب صلاة المسافرين و قصرها 837۔ بخاری، کتاب الصلوة 625۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔
سنن ابی داود۔

عشاء کی سنتوں کے متعلق احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بين كل أذانين صلاة ، بين كل أذانين صلاة. قال فى الثالثة لمن شاء
”ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے مابین نماز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: جو چاہے اس کے لیے“۔
بخاری، کتاب الاذان 624۔ مسلم، كتاب صلوة المسافرين وقصرها 838۔
② ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ جمعہ کے بعد، مغرب کے بعد اور عشاء کے بعد دو دو رکعتیں پڑھیں۔
متفق عليه كتاب الجمعة۔