زہد کی فضیلت، تقویٰ کے احکامات، عبادت کے لیے وقف ہونا اور اللہ پر توکل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کتاب الزهد

زہد کی فضیلت

① سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الزهادة فى الدنيا ليست بتحريم الحلال ، ولا إضاعة المال ، ولكن الزهادة فى الدنيا أن لا تكون بما فى يديك أوثق مما فى يد الله تعالى، و أن تكون فى ثواب المصيبة إذا أنت أصبت بها أرغب فيها لو أنها أبقيت لك
”دنیا سے کنارہ کشی اس چیز کا نام نہیں کہ حلال کو حرام کر لیا جائے اور مال کو ضائع کر دیا جائے۔ بلکہ دنیا سے کنارہ کشی اور بے رغبتی یہ ہے کہ جو چیز تمہارے ہاتھ میں ہے وہ اس چیز سے زیادہ قابل اعتبار نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے بدلے میں ملنے والے اجر و انعام کی وجہ سے تمہاری خواہش ہونی چاہئے کہ میں اس مصیبت میں مبتلا رہوں۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2340، ابن ماجہ، کتاب الزہد 4100۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ عمرو بن واقد متروک الحدیث ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کیا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں کیا ہے کہ جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوتے ہیں اور ہم دنیا سے بے رغبت ہوتے ہیں اور آخرت ایسے ہوتی ہے گویا کہ وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنے اہل و عیال کے ساتھ مانوس و مشغول ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو أنكم إذا خرجتم تكونون على حالكم عندي لزارتكم الملائكة فى بيوتكم ولصافحتكم فى طرقكم
”جب تم چلے جاتے ہو اگر اس وقت بھی تمہاری وہی حالت ہو جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آئیں اور تمہاری راہوں میں تم سے مصافحہ کریں۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2526۔ روایت حسن ہے۔
③ سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں، جب میں وہ کروں تو میں اللہ اور لوگوں کا محبوب اور پسندیدہ بن جاؤ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إزهد فى الدنيا يحبك الله ، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس
”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اللہ تمہیں پسند کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ تو تم لوگوں کے محبوب بن جاؤ گے۔“
ابن ماجہ، کتاب الزہد 4102۔ روایت حسن ہے۔

تقویٰ کے متعلق احکامات

① سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن الله يحب العبد التقي الغني الخفي
”بے شک اللہ متقی، غنی اور گمنام بندے کو پسند کرتا ہے۔“
مسلم، کتاب الزہد 2965، مسند سعد بن ابی وقاص 168/1۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! لوگوں میں سے زیادہ معزز لوگ کون ہیں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتقاهم
”ان میں سے جو متقی ہیں۔“
انہوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس بارے میں نہیں پوچھتے۔“
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فعن معادن العرب تسألون خيارهم فى الجاهلية خيارهم فى الإسلام إذا فقهوا
”تو تم عربوں کی اصل اور سرشت کے بارے میں پوچھتے ہو؟ ان میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں، بشرطیکہ وہ غور و فکر کریں۔“
بخاری، کتاب احادیث انبیاء 3353، 3490، مسلم، کتاب الفضائل 2378۔
③ سیدنا یزید بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی حدیثیں سنی ہیں، مجھے ان کے بھول جانے کا اندیشہ ہے۔ مجھے کوئی جامع کلمہ بتائیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتق الله فيما تعلم
”جو کچھ تمہیں علم ہے اس بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔“
ترمذی، کتاب العلم 2683، 2607 بترقیح احمد شاکر۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں بلکہ مرسل ہے۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ جنت میں داخل ہوں گے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تقوى الله وحسن الخلق
”اللہ کا تقویٰ اور حسنِ خلق۔“
اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا گیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگ جہنم میں جائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الفم والفرج
”منہ اور شرمگاہ۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في حسن الخلق 2004۔ روایت صحیح ہے۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد 4246، 1927، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 7566 442/2۔
⑤ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحسب المال والكرم التقوى
”حسب مال ہے اور شرافت و بزرگی تقویٰ ہے۔“
ترمذی، کتاب التفسیر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، باب من سورة الحجرات 3271، 3194۔ اپنے شواہد کی وجہ سے صحیح ہے۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد 4219۔
⑥ ابوطریف عدی بن حاتم الطائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من حلف على يمين ثم رأى أتقى لله خيرا منها فليأت التقوى
”جس نے کوئی قسم اٹھائی پھر اس نے اللہ کے لیے زیادہ تقویٰ والی چیز دیکھی تو وہ اس تقویٰ والی چیز کو اختیار کرے۔“
مسلم، کتاب الإیمان 3116 بترقیم احمد شاکر 1651/15۔
⑦ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتق الله حيث كنت وأتبع السيئة الحسنة تمحها وخالق الناس بخلق حسن
”تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو اور برائی سرزد ہو جانے کے بعد نیکی کرو وہ اسے ختم کر دے گی اور لوگوں سے حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول اللہ 1910، 1987۔ یہ روایت صحیح ہے۔ مسند احمد، مسند الانصار، رقم 20392، 153/5، 228۔
⑧ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الدنيا حلوة خضرة وإن الله تعالى مستخلفكم فيها فلينظر كيف تعملون فاتقوا الدنيا واتقوا النساء فإن أول فتنة بني إسرائيل كانت فى النساء
”دنیا شیریں، سرسبز و شاداب ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں جانشین بنائے گا اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ پس دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کے بارے میں تھا۔“
مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، رقم 2742 ، 4920۔
⑨ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:
أللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى
”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، عفت و پاکدامنی اور مال کی کفالت کا سوال کرتا ہوں۔“
بخاری في الأدب المفرد 674، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، رقم 4920 ، 2721، ترمذی، کتاب الدعوات عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 4389، ابن ماجہ، کتاب الدعاء 3832۔

عبادت کے لئے وقف ہو جانا

① سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقول الله تبارك وتعالى إبن آدم تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنى ، و أسد فقرك وإلا تفعل ملأت يديك شغلا ولم أسد فقرك
”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میری عبادت کے لئے وقف ہو جا، میں تیرے سینے کو مال داری سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو روک دوں گا۔ اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو میں تیرے ہاتھوں کو مشغول رکھوں گا لیکن تیری محتاجی نہیں روکوں گا۔“
الترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2466۔ یہ روایت حسن ہے۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد 4107، مسند احمد 2/ 358۔

اللہ پر توکل

① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لو أنكم تتوكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير تغدو خماصا وتروح بطانا – أى ممتلئة البطون .
”اگر تم اللہ پر ویسے توکل کرو جس طرح اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں بھی ویسے ہی رزق فراہم کرے جس طرح پرندوں کو رزق فراہم کرتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔“
روایت صحیح ہے۔ ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2344۔