گناہوں سے بچنے کا ثواب
امام مسلم رحمہ اللہ نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا:
الإثم ما حاك فى صدرك وكرهت أن يطلع عليه الناس .
”گناہ وہی ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے، اور تمہیں پسند نہ ہو کہ لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جائے۔“
صحيح مسلم، کتاب البر والصلة، رقم: 6516 .
گناہ ظاہر ہو یا پوشیدہ اسے یکسر چھوڑ دینا واجب ہے، جو لوگ گناہوں سے تائب ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
﴿إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
”مگر جو شخص توبہ کرے گا، اور ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، بے حد مہربان ہے۔“
(25-الفرقان:70)
[گناہ کے موضوع کو مکمل تفصیل سے جاننے کے لیے ہماری کتاب ” گناہ اور توبہ“ کا مطالعہ کریں۔ ]
گناہوں سے بچنے والے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
”ہاں اگر کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا ڈر ہو، اس لیے اگر کوئی شخص رشتہ داروں کے درمیان صلح کرا دے، تو ایسا کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ غفور کرنے والا، اور رحم کرنے والا ہے۔“
(2-البقرة:182)
کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر وہ کام جو جنت میں لے جانے، اور ہر وہ کام جو جہنم میں دخول کا سبب بنے واضح کر دیا۔ اور اس بارے میں ترغیب و ترہیب دی، لا محالہ جہنم میں وہی شخص جائے گا جو رب کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا۔ رب کی نافرمانی گناہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جو کبیرہ و صغیرہ ہیں۔ کبیرہ گناہ جن میں کفر، شرک، سحر، کہانت، والدین کی نافرمانی قتل وغیرہ وغیرہ ہیں، سے اجتناب جنت میں دخول کا ذریعہ ہے۔ بلکہ بعض ایسے کبیرہ گناہ بھی ہیں کہ اگر صرف انہی سے اجتناب کیا جائے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمادیتا ہے۔ جیسا کہ شرک ہے۔ اگر کوئی شخص دیگر امور میں کوتاہی کے ارتکاب کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تو اس کی برکت سے جنت میں جائے گا۔
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾
”یقیناً اللہ شرک کو معاف نہیں کرے گا، اس کے علاوہ دیگر گناہوں کو معاف کر دے جس کے لیے چاہے گا۔“
(4-النساء:48)
مزید فرمایا:
﴿ وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ﴾
”اور تم کھلے اور چھپے سب گناہوں سے باز آ جاؤ۔ بے شک جو لوگ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ عنقریب اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔“
(6-الأنعام:120)
اسی طرح شرک کے علاوہ اگر کوئی دیگر کبیرہ گناہوں سے بھی اجتناب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و کرم فرماتا ہے اگر اس سے کچھ خطائیں، لغزشیں صادر بھی ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا۔
جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
﴿إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا﴾
”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ مٹادیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔“
(4-النساء:31)