كتاب الجمعة
غسل جمعہ کے احکامات
① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا أراد أحدكم أن يأتى الجمعة فليغتسل
”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے“۔
بخاری کتاب الجمعہ 877 ، 794 مسلم، کتاب الجمعہ 844۔ ترمذی، کتاب الجمعہ 292۔
② سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
حق لله على كل مسلم أن يغتسل فى كل سبعة أيام يغسل رأسه وجسده
”اللہ کے لیے ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ ہر سات ایام میں غسل کرے جس میں وہ اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے“۔
مسلم کتاب الجمعہ 849۔ سیر اعلام النبلاء الجزء 14 الصفحة 172 (342/2)۔
③ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غسل الجمعة واجب على كل مسلم
”غسلِ جمعہ ہر مسلمان پر واجب ہے“۔
بخاری کتاب الجمعہ 880۔ مسلم، کتاب الجمعہ 846۔
جمعے کے دن خاموشی اختیار کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ الإمام من خطبته ثم يصلي معه غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام
”جو شخص غسل کر کے جمعے کے لیے آتا ہے پھر حسبِ توفیق نوافل ادا کرتا ہے۔ پھر امام کے اپنے خطبے سے فارغ ہونے تک خاموش رہتا ہے اور پھر اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے اس جمعے سے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے درمیان ہونے والے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں“۔
مسلم، کتاب الجمعہ ، حدیث 857/26۔
② سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعے کے دن امام کے خطبے کے دوران دو آدمیوں کو باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے انہیں کنکریاں ماریں تاکہ وہ خاموش ہو جائیں۔
الموطا ، کتاب الجمعہ، حدیث 9۔
جمعہ کی سنتوں کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا
”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ پڑھے تو وہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے“۔
مسلم، کتاب الجمعہ 88۔ ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1131۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھا کرتے تھے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے الگ ہو جاتے اور اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے۔
بخاری، کتاب الجمعہ 937، مسلم، کتاب الجمعہ 882۔
نماز جمعہ کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من توضأ فأحسن الوضوء ثم أتى الجمعة فاستمع وأنصت غفر له ما بينه وبين الجمعة وزيادة ثلاثة أيام ومن مس الحصى فقد لغا
”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور خاموشی کے ساتھ غور سے خطبہ سنے تو اس کے جمعہ سے جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور جس شخص نے دورانِ خطبہ کنکریوں کو چھوا (ان کے ساتھ مشغول رہا) تو اس نے لغو کام کیا“۔
مسلم، کتاب الجمعہ 857 ابو داؤد، کتاب الجمعہ 1050۔
② سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الجمعة حق واجب على كل مسلم إلا أربعة: عبد مملوك أو امرأة أو مسافر أو مريض
”چار قسم کے لوگوں: مملوک غلام، عورت، مسافر یا مریض کے سوا جمعہ ہر مسلمان پر حقِ واجب ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الجمعہ 1067۔ دارقطنی 3/2۔ بیہقی 183/3۔
③ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الجمعة على كل من سمع النداء
”جمعہ ہر اس شخص پر واجب ہے جس نے اذان سنی“۔
ابو داؤد، کتاب الجمعہ 1056۔ روایت حسن ہے۔