الله تعالىٰ کی رضا طلب كرنا
① سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف خط لکھا کہ وہ انہیں نصیحت آموز خط لکھیں لیکن وہ کچھ زیادہ نہ ہو۔ پس انہوں نے خط لکھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام:
آپ پر سلامتی ہو۔ اما بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من التمس رضا الله بسخط الناس كفاه الله مؤنة الناس ، و من أرضى الناس بسخط الله وكله الله إلى الناس
”جو شخص لوگوں کی ناراضی میں اللہ کی رضا طلب کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کی کفالت کے بارے میں کافی ہو جاتا ہے اور جو شخص اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کو خوش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ والسلام علیک۔“
یہ روایت صحیح ہے۔ ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2414۔
فضول کاموں کو ترک کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه
”آدمی کے اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ غیر متعلق چیز کو چھوڑ دے۔“
روایت صحیح ہے۔ ترمذی، کتاب الزہد 2317، ابن ماجہ، کتاب الفتن 3976۔
② سیدنا مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ لقمان حکیم سے پوچھا گیا کہ آپ کس بنا پر (فضل کے) اس مقام پر فائز ہوئے؟ انہوں نے فرمایا:
”سچی بات کہنا، امانت ادا کرنا، غیر متعلق چیز کو چھوڑ دینا اور عہد کو وفا کرنا۔“
موطا 2/ 990۔ اس کتاب کے محقق بیان کرتے ہیں اس کے موصولاً روایت کرنے کا مجھے علم نہیں۔
اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتے ہوئے زینت ترک کرنا
① سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ترك اللباس تواضعا وهو يقدر عليه دعاه الله تعالى يوم القيامة على رؤوس الخلائق حتى يخير من أى حلل الإيمان شاء يلبسها
”جو شخص قدرت ہونے کے باوجود (فاخرانہ) لباس ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کی موجودگی میں اسے بلائے گا حتیٰ کہ اسے اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایمان کے جس جوڑے کو چاہے پہن لے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2481۔ روایت حسن ہے۔ مستدرک حاکم 61/1۔
مساکین سے محبت
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني فى زمرة المساكين يوم القيامة
”اے اللہ! مجھے زندہ رکھنا تو مسکینی کی حالت میں، مجھے فوت کرنا تو مسکینی کی حالت میں اور روزِ قیامت مجھے مساکین کی جماعت کے ساتھ اٹھانا۔“
راوی بیان کرتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين خريفا ، يا عائشة لا تردي مسكينا ولو بشق تمرة. أحبي المساكين وقربيهم يقربك الله يوم القيامة
”وہ مال دار لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ اے عائشہ رضی اللہ عنہا! کسی مسکین کو خالی ہاتھ نہ لوٹانا خواہ کھجور کا کچھ حصہ (ٹکڑا) ہی دے دینا۔ مساکین سے محبت کرنا اور انہیں قریب رکھنا، روزِ قیامت اللہ تمہیں قرب نصیب فرمائے گا۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2352، بیہقی، السنن الکبریٰ للبیہقی الجزء السابع صفحہ نمبر 12، 12/7۔ روایت صحیح ہے۔