طلاق کے بعد رجوع، عدت، خلع اور بیوی کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

معروف طریقہ پر روکے رکھنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا

طلاق دینے کے بعد جب عدت کی مدت مکمل ہونے کو ہو تو شوہر کو دو میں سے کوئی ایک بات اختیار کرنی چاہیے :
◈ یا تو معروف طریقہ پر روکے رکھنے یعنی حسن سلوک اور اصلاح کے ارادہ سے رجوع کر لے، لڑنے اور تکلیف دینے کا ارادہ نہ ہو۔
◈ یا پھر معروف طریقہ پر علیحدگی اختیار کر لے یعنی عدت پوری ہونے تک اسے چھوڑے رکھے اور اس کے بعد کوئی الجھن پیدا کیے بغیر اور کسی قسم کا نقصان نہ پہنچاتے ہوئے نیز ادائیگی حقوق کے معاملہ میں بخل سے کام نہ لیتے ہوئے جدا ہو جائے۔
شوہر کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ جب عدت ختم ہونے کو ہو تو اذیت دہی اور عدت کو لمبا کرنے کی غرض سے رجوع کرے اور بیوی کو ممکنہ طویل مدت تک دوسرے نکاح سے محروم رکھے۔
اہل جاہلیت اس قسم کی حرکتیں کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طرح عورت کو تکلیف دینا حرام ٹھہرایا ہے۔ اور یہ حرمت ایسے مؤثر پیرایہ میں بیان فرمائی ہے کہ دل دہل جاتے ہیں۔ فرمایا :
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے تو بھلے طریقہ سے انہیں روک لو یا بھلے طریقہ سے انہیں رخصت کر دو ستانے کے لیے انہیں نہ روکو کہ یہ زیادتی ہوگی۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرے گا اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ اور اللہ کے فضل کو نہ بھولو اور اس کتاب و حکمت (سنت) کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے نازل کی ہے۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔“
سورہ البقرہ : 231

مطلقہ کو اپنی مرضی سے دوسرا نکاح کرنے سے روکا نہ جائے

مطلقہ کی عدت جب پوری ہو جائے تو اسے اپنی مرضی سے کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے سے روکنا، نہ سابق شوہر کے لیے جائز ہے اور نہ ولی کے لیے اور نہ ہی کسی اور شخص کے لیے۔ اور اگر منگیتر اپنی منسوبہ سے معروف اور عرفی طریقہ پر باہم راضی ہو جاتے ہیں تو عورت کے اس انداز رغبت پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ بعض طلاق دینے والے مرد، عورت پر اپنا اثر باقی رکھنا چاہتے ہیں اور دوسرے نکاح کے بارے میں اسے ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔ یہ سب جہالت اور جاہلیت کے کام ہیں۔ اسی طرح اگر عورت اپنے سابق شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہو اور معروف طریقہ پر اس واپسی کے سلسلہ میں دونوں راضی ہوں تو ولی یا گھر والوں کا اس معاملہ میں رکاوٹ پیدا کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالصُّلْحُ خَیْرٌ
اور صلح کر لینا ہی بہتر ہے۔
(سورہ النساء : 128)
نیز فرمایا :
وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن إذا تراضوا بينهم بالمعروف
”جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم اس بات میں مزاحم نہ ہو کہ وہ اپنے (ہونے والے) شوہروں سے نکاح کر لیں، جبکہ وہ معروف طریقہ سے باہم نکاح کر لینے پر راضی ہو جائیں۔“
(سورہ البقرة : 232)

عورت کا حق جبکہ شوہر اسے پسند نہ ہو

عورت کو اگر شوہر پسند نہ ہو اور اس کے خیال میں اس کے ساتھ نباہ نہ ہو سکتا ہو تو وہ حق مہر واپس دے کر اپنے نفس کو چھڑا سکتی ہے۔ شوہر کی طرف سے جو مہر تحفہ وغیرہ ملا ہو اسے مفاہمت کے ذریعہ کم و بیش واپس کر کے اپنے کو زوجیت کے بندھن سے آزاد کرا سکتی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ شوہر نے جو کچھ دیا تھا اس سے زیادہ واپس نہ لے۔ ارشاد الہی ہے :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ
”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ دونوں حدود الہی پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو ان دونوں پر اس معاملہ میں کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے۔“
(سورہ البقرة : 229)
حدیث میں ہے :
وقد جاءت امرأة ثابت بن قيس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالت يا رسول الله ثابت بن قيس ما أعيب عليه فى خلق ولا دين ولكني لا أطيقه بغضا فسألها عما أخذت منه فقالت حديقة فقال لها أتردين عليه حديقته؟ قالت نعم فقال النبى صلى الله عليه وسلم لثابت اقبل الحديقة وطلقها تطليقة
”ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور دینداری میں کوئی عیب نکالنا نہیں چاہتی لیکن مجھے وہ پسند نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تمہیں اس سے کیا ملا تھا؟ اس نے کہا : باغ۔ فرمایا : تم اس باغ کو واپس کرنے کے لیے تیار ہو؟ اس نے کہا : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے کہا : باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔“
بخاری کتاب الطلاق باب الخلع : 5273
بیوی کے لیے جلد بازی سے کام لے کر شوہر سے طلاق طلب کرنا حرام ہے جبکہ نہ اسے شوہر کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچ رہی ہو اور نہ علیحدگی اختیار کرنے کی کوئی معقول وجہ ہو۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
أيما امرأة سألت زوجها الطلاق من غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة
”جو عورت اپنے شوہر سے ایسی صورت میں طلاق طلب کرتی ہے جبکہ شوہر کی طرف سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچ رہی ہو تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“
ابو داود كتاب الطلاق باب في الخلع ح : 2226 ترمذى كتاب الطلاق باب ما جاء في المختلعات ح : 1187 ابن ماجه كتاب الطلاق باب كراهية الخلع للمرأة ح : 2055

بیوی کو ستانا حرام ہے

بیوی کو ستانا اور اس کے ساتھ برا سلوک کرنا (اس نیت سے) تاکہ وہ فدیہ (خرچہ وغیرہ) دے کر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مجبور ہو جائے، ہرگز جائز نہیں ہے الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب ہو جائے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ
”تم نے جو کچھ اپنی بیویوں کو دیا ہے اس کا ایک حصہ واپس لینے کی غرض سے انہیں تنگ نہ کرو الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں۔“
(سورہ النساء : 19)
اور اگر شوہر کو بیوی پسند نہ ہو اور وہ خود اسے علیحدہ کر کے دوسری سے نکاح کا خواہشمند ہو تو ایسی صورت میں بیوی سے کچھ واپس لے لینا جائز نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :
وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
”اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانے کا ارادہ کر لو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اور صریح حق تلفی کر کے اسے واپس لو گے؟“
(سورہ النساء : 20)

بیوی کو چھوڑنے کی قسم کھانا حرام ہے

اسلام نے حقوق نسواں کا بڑا لحاظ کیا ہے۔ اس کی ایک درخشندہ مثال یہ ہے کہ اس نے شوہر کے لیے اس بات کو حرام ٹهرایا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر غصہ ہو کر اس سے خوابگاہ میں اتنے طویل عرصہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لے جس کی عورت متحمل نہ ہو۔ شوہر جب بیوی سے علیحدہ رہنے کی قسم کھا بیٹھے تو اس کے لیے چار ماہ تک کی مہلت ہے۔ ممکن ہے اس مدت میں اس کا غصہ ٹھنڈا پڑ جائے اور وہ اپنا ارادہ بدل دے۔ اگر اس نے چار ماہ گزرنے سے پہلے اپنی بیوی سے تعلق قائم کر لیا تو اس سے جو گناہ سرزد ہوا، اس کو اللہ معاف کر دے گا اور اس کے لیے توبہ کی قبولیت کا وسیع دروازہ کھولے گا۔ ایسی صورت میں اس پر قسم کا کفارہ ادا کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر یہ مدت گزر گئی اور اس نے اپنے ارادہ سے رجوع نہیں کیا اور قسم نہیں توڑی تو اس کی بیوی اس سے جدا ہو جائے گی۔ بیوی کے حقوق کی طرف سے بے اعتنائی برتنے کا یہ ٹھیک ٹھیک بدلہ ہے۔
بعض فقہاء کے نزدیک مذکورہ مدت کے گزر جانے پر طلاق پڑ جاتی ہے۔ قاضی یا حاکم کے فیصلہ کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور بعض فقہاء مدت گزر جانے پر حاکم کے سامنے معاملہ پیش کرنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ حاکم اسے دو میں سے کوئی ایک بات اختیار کرنے کا موقع دے گا۔ یا تو وہ اپنے ارادہ پر نظر ثانی کر کے اپنی بیوی کو رضا مند کر لے یا پھر طلاق دے دے۔ دو میں سے جو چیز اسے شیریں معلوم ہو، اختیار کر لے۔
بیوی سے قربت نہ کرنے کی اس قسم کو شرعی اصطلاح میں ایلا کہا جاتا ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 226 وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
”جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھیں ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے۔ اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ اور اگر طلاق کا فیصلہ کر لیں تو اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔“
(سورہ البقرة : 226-227)
چار ماہ کی مہلت اس لیے دی گئی ہے تاکہ شوہر کو نظر ثانی کرنے اور ہوش سے کام لینے کا پورا موقع مل جائے۔ ایک عورت اپنے شوہر سے عادۃ زیادہ سے زیادہ اس عرصہ تک صبر کر سکتی ہے۔
اس سلسلہ میں مفسرین نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قصہ نقل کیا ہے کہ ایک رات جب آپ سراغ رسانی کے لیے نکلے تو ایک عورت کی آواز سنی جس کا شوہر جہاد کے لیے چلا گیا تھا۔ اس کی عدم موجودگی سے متاثر ہو کر وہ بے تابانہ اشعار گنگنا رہی تھی :
رات طویل ہوگئی اور ہر طرف تاریکی چھا گئی۔ اور مجھے یہ تصور رلا رہا ہے کہ میرا خلیل میرے پاس موجود نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کھیلوں۔ قسم سے اگر اللہ کے عذاب کا ڈر نہ ہوتا تو اس چار پائی کے بازو حرکت میں آجاتے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ حال سن کر اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ شوہر کی غیر موجودگی میں عورت کب تک صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا : چار ماہ! اس وقت امیر المؤمنین نے یہ فیصلہ فرمایا : کسی شخص کو اس کی بیوی سے چار ماہ سے زیادہ دور نہ رکھا جائے۔
تفسير ابن كثير ص : 180 بحواله موطا امام مالك و محمد بن اسحاق و انظر أيضاً فتوح البلدان ص : 148