قیامت کی نشانی : سورج مغرب سے طلوع ہوگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : سورج مغرب سے طلوع ہوگا

ارشاد باری تعالی ہے :
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ قُلِ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ
کیا یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا ان کے پاس آپ کا رب آئے یا آپکے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے؟ جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔ آپ فرما دیں کہ تم منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں۔
(الانعام : 158)

احادیث کی روشنی میں

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فإذا طلعت ورآها الناس آمنوا أجمعون وذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها ثم قرأ الآية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سورج (مشرق کی بجائے) مغرب سے طلوع ہوگا پس جب ایسا ہو گا اور لوگ اسے مغرب سے طلوع ہوتا دیکھیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ
”یعنی اس وقت ایمان لانا کسی کو نفع نہیں دے گا جو اس سے قبل ایمان نہ لایا ہوگا۔“
بخاری : كتاب التفسير : سورة الانعام : باب لا ينفع نفسا ايمانها (4636) مسلم (248) ابو داود (4312) ابن ماجه (4119) السنن الكبرى (180/9) ابو عوانة (10711)
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بادروا بالأعمال ستا : طلوع الشمس من مغربها
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چھ علامتوں سے پہلے نیک اعمال کی طرف جلدی کرو : سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔“
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية من أحاديث الدجال (2947) احمد (428/2) ابن حبان رحمہ اللہ (199/15) حاكم (561/4) شرح السنة (431/7) ابو يعلى (397/11) مسند طیالسی (2549)
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا لم أنسه بعد سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة على الناس ضحى وأيهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على إثرها قريب
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی جسے میں نے آج تک یاد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ علامات (قیامت) میں سب سے پہلے سورج مغرب سے طلوع ہوگا پھر بوقت چاشت ایک جانور لوگوں کی طرف آئے گا۔ ان دونوں (بڑی) علامتوں میں سے جو بھی پہلے رونما ہوئی، دوسری اس کے فوری بعد واقع ہوگی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في خروج الدجال (2941) ابو داؤد (114/4) حاکم (590/4) احمد (265/2) ابن ماجة (4120) شرح السنة (4186) طبری (407/5) ابن ابی شيبة (619/8)
عن أبى ذر رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم لأبي ذر حين غربت الشمس أتدرى أين تذهب ؟ قلت : الله ورسوله أعلم ، قال : فإنها تذهب حتى تسجد تحت العرش فتستأذن فيؤذن لها ويوشك أن تسجد فلا يقبل منها وتستأذن فلا يؤذن لها فيقال لها : ارجعى من حيث جئت فتطلع من مغربها فذلك قوله تعالى : وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَاؕ-ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سورج جب غروب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں علم ہے کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے پھر دوبارہ آنے کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی بلکہ اسے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا چنانچہ اس دن مغرب ہی سے نکلے گا اس آیت : وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا …. میں اسی طرف ہی اشارہ ہے۔
بخاری : کتاب بدء الخلق : باب صفة الشمس والقمر (3199) مسلم : (159) ترمذی (2186) احمد (214/5 – 227) شرح السنة (4187) ابو عوانة (108/1)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من تاب قبل أن تطلع الشمس من مغربها تاب الله عليه
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے قبل توبہ کر لی تو اللہ تعالٰی اس کی توبہ قبول فرمالیں گے۔
مسلم : كتاب الذكر والدعا : باب استحباب شرح السنة : كتاب الدعوات (1292)
عن معاوية رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہجرت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور توبہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔
احمد (138/4) ابو داؤد : كتاب الجهاد : باب في الهجرة هل انقطعت (2479) دارمی (312/2) التمهيد (3989/8) المعجم الكبير (378/19) الدر المنثور (59/3) فتح البارى (362/11) صحيح الجامع (1244/2) ارواء الغليل (288/9)
عن أبى موسى رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إن الله عز وجل يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ کشادہ کرتے ہیں تاکہ دن کا گنہگار توبہ کرلے اور اللہ تعالیٰ دن کے وقت ہاتھ کھلا رکھتے ہیں تاکہ رات کا گنہ گار توبہ کرلے (اور یہ عمل متواتر جاری رہتا ہے) ، حتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
مسلم : كتاب التوبة : باب قبول التوبة من الذنوب (2759) احمد (534/4 – 545) السنن الكبرى للبيهقى (136/8) كتاب الاسما والصفات (52/1)
عن صفوان بن عسال رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : إن الله عز وجل جعل فى المغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق حتى تطلع الشمس من قبله وذلك قول الله تبارك وتعالى : يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مغرب کی طرف ایک دروازہ بنا رکھا ہے جس کی چوڑائی ستر (70) سال (کی مسافت) کے برابر ہے۔ یہ توبہ کا دروازہ (باب التوبہ) ہے جو بند نہیں کیا جائے گا حتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : اس وقت کسی نفس کو اس کا ایمان قبول کرنا نفع مند نہیں ہوگا کہ جس نے پہلے ایمان قبول نہیں کیا تھا۔
ترمذى : كتاب الدعوات : باب ماجاء في فضل التوبة والاستغفار (3535) احمد (328/2 – 328/4) مسند حمیدی (388/2) ابن ماجة مختصراً (4121) تفسیر طبری رحمہ اللہ (406/5)
عن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات : طلوع الشمس من مغربها
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھو گے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب في الآيات التي تكون قبل الساعة (2901)

فوائد :

➊ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے۔
يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ
”جس دن تیرے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آپہنچے گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں لایا۔“
(الانعام : 158)
”اس نشانی سے مراد سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔“
تفصیل کے لیے دیکھیے : تفسیر طبری رحمہ اللہ (103/8) فتح القدير للشوكاني (182/2)
➌ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی نشانی دیکھ کر تمام اہل زمین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں گے مگر ان کا ایمان قبول نہیں کیا جائے گا الا کہ جو کوئی اس نشانی سے پہلے ایمان لے آیا ہو اسے اس کا ایمان فائدہ دے گا۔
➍ مذکورہ نشانی تا حال ظاہر نہیں ہوئی۔
➎ اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے حتی کہ کوئی شخص جتنا بھی کفر و عصیان میں ڈوبا ہوا ہو اگر سانس بند ہونے (موت کے آخری لمحات) سے پہلے اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے قبل اللہ کے حضور سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ ایک جنبش سے اس کے تمام سابقہ صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف کر کے اسے جنت میں داخلہ عطا فرمادیں گے۔
➏ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور پھر تا قیامت اسے کھولا نہیں جائے گا۔
دیکھئے فتح البارى (354/11)
➐ دنیا میں کسی جگہ سورج غروب ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع ہورہا ہوتا ہے لیکن اس دورانیے میں سورج بلا ناغہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے اور دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ سورج کو ہر روز اجازت مل جاتی ہے لیکن قیامت کے قریب سورج کو مشرق سے طلوع ہونے کی اجازت نہیں ملے گی بلکہ اسے مغرب کی طرف واپس گردش کا حکم ہوگا چنانچہ سورج مغرب سے واپس طلوع ہو گا۔
➑ سورج کے سجدہ ریز ہونے اور دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرنے کو بعض لوگوں نے خلاف عقل سمجھتے ہوئے رد کیا ہے حالانکہ ایسا اقدام انسان کے ایمان کو کفر سے بدل دیتا ہے لہذا اللہ تعالی کی قدرت کاملہ پر ایمان رکھتے ہوئے ان غیبی اور ماوراء الطبیعات (Metaphysics) امور پر ایمان رکھنا چاہیے۔
➒ بعض لوگ مذکورہ احادیث پر ناکافی ”جرح“ کا فتوی صادر فرما کر انہیں ناقابل حجت قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ روایات بخاری و مسلم جیسی متفق و معتبر کتابوں میں مذکور ہیں علاوہ ازیں ایسی بہت سی باتیں تو قرآن مجید میں بھی موجود ہیں تو کیا ان آیات قرآنیہ کی حیثیت بھی مشکوک ہے ! معاذ الله
بطور مثال چند آیات درج کی جاتی ہیں :
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ 5 وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
”آفتاب اور ماہتاب (مقررہ) حساب سے ہیں اور ستارے اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں۔“
(الرحمن : 5-6)
وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ
”ہر چیز اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد کرتی ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ تم ان کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔“
(الإسراء : 44)
يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
”جس دن ان کی زبانیں ، ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ جو وہ (برے) کام کرتے تھے۔“
(النور : 24)
وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَاؕ-قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ
”وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دیتے ہو؟ تو وہ (چمڑے) کہیں گے کہ ہمیں اس اللہ تعالیٰ نے قوت گویائی بخشی ہے جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا۔“
(فصلت : 21)