بیت اللہ کا طواف کرنے اور عرفہ میں وقوف کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

بیت اللہ کا طواف کرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من طاف سبعا فهو كعدل رقبة
”جس نے (بیت اللہ کے) سات چکر لگائے تو وہ غلام آزاد کرنے کی طرح ہے“۔
ترمذى، كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 959۔ نسائي في الكبرى، مناسك الحج 3951/2۔ روایت حسن ہے۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من طاف بالبيت خمسين مرة خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه
”جس شخص نے بیت اللہ کے پچاس چکر لگائے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح وہ اپنی پیدائش کے روز گناہوں سے پاس تھا“۔
ترمذي، كتاب الحج 866۔ روایت شریک القاضی کے ضعف اور اس کے سوء حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الطواف حول البيت مثل الصلاة إلا أنكم تتكلمون فيه فمن تكلم فيه فلا يتكلم إلا بخير
”بیت اللہ کے گرد طواف نماز کی طرح ہے بس فرق اتنا ہے کہ تم اس کے دوران بات چیت کر لیتے ہو پس جو شخص اس دوران بات وغیرہ کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی کی بات کرے“۔
ترمذی، کتاب المناسك 960 ۔ دارمی، كتاب المناسك 1847، 1848۔ روایت صحیح ہے۔

عرفہ میں وقوف کے متعلق احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، قریش اور ان کے ہم خیال مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے اور انہیں حمس کہا جاتا تھا، جبکہ باقی عرب عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے۔ پس جب اسلام (کا زمانہ) آیا تو اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ عرفات جائیں، وہاں ٹھہریں پھر وہاں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں ۔ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾
”پھر جہاں سے لوگ واپس ہوتے ہیں، تم بھی وہاں سے واپس ہوا کرو“۔
بخاری، کتاب تفسیر القرآن 4520۔ مسلم، كتاب الحج 1219/151۔