زیادہ قیمت پر ادھار بیع اور بیع سلم کے احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

زیادہ قیمت پر ادھار بیع

یہاں یہ بیان کرنا بہت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح کوئی چیز نقد خریدنا جائز ہے اسی طرح باہمی رضامندی سے ادھار خریدنا بھی جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کے پاس اپنی زرہ رہن رکھ کر اپنے گھر والوں کے لیے ادھار غلہ خریدا تھا۔
بخاری کتاب الرہن من رہن درعہ 2509 ، مسلم کتاب المساقاۃ باب الرہن ح : 17
لیکن اگر بائع ادھار کی وجہ سے قیمت بڑھا دے جیسا کہ بہت سے تاجر قیمت بڑھا کر قسط دار ادائیگی کی شرط پر فروخت کرتے ہیں، تو بعض فقہاء کے نزدیک یہ صورت حرام ہے اس بنا پر کہ ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے جو زائد رقم وصول کی جاتی ہے وہ ایک طرح کا سود ہے۔
يهي بات دلائل كي رو سے قوي هے اس كي تفصيل كے ليے راقم كي كتاب احكام ومسائل ملاحظه هو اور حافظ عبد المنان نور پوري رحمه الله كي كتاب احكام و مسائل بهي. (مبشر احمد رباني)
مگر جمہور علماء اس کی اجازت دیتے ہیں، کیونکہ یہ اصلاً مباح ہے اور اس کی حرمت کے سلسلہ میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے اور نہ اس میں سود سے کوئی مکمل یگانگت پائی جاتی ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ مختلف وجوہ سے بائع قیمت میں اضافہ کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ یہ قیمت کھلی نفع اندوزی اور صریح زیادتی کی حد تک نہ پہنچ جائے ورنہ ایسا کرنا حرام ہوگا۔
امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
شافعیہ حنفیہ زید بن علی موید باللہ اور جمہور کے نزدیک یہ صورت جواز کے عام دلائل کی بنا پر جائز ہے۔ اور بظاہر یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔
نیل الاوطار ج : 5 ص : 153

بیع سلم

اس کے برعکس جواز کی صورت یہ ہے کہ طے شدہ رقم پیشگی بائع کے حوالہ کر دی جائے تاکہ مقررہ مدت کے گزر جانے پر اس کے عوض مال حاصل کیا جاسکے۔ فقہی اصطلاح میں اسے بیع سلم کہتے ہیں۔ مدینہ میں اس کا عام رواج تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح فرمائی اور شرعی تقاضوں کے پیش نظر اسے چند شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أسلف فليسلف فى كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم
”جو شخص پیشگی رقم دے کر معاملہ طے کرنا چاہے وہ ناپ وزن اور مدت متعین کرے۔“
بخاری کتاب السلم باب السلم فی کیل معلوم : 2240 ، 2239 ، مسلم کتاب المساقاۃ باب السلم ح : 1604
ایسی صورت میں نزاع پیدا نہ ہو سکے گا اور دھوکہ کا احتمال بھی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا کہ مخصوص درختوں کے پھلوں کا پیشگی سودا کیا جائے۔
بخاری کتاب السلم باب السلم الی من لیس عندہ اصل ح : 2247 ، 2246 ، مسلم کتاب البیوع باب النہی عن بیع الثمار قبل بدو صلاحہا ح : 1538 ، 1537
کیونکہ اس میں بھی دھوکہ کا اندیشہ ہوتا ہے ممکن ہے کسی آفت کی وجہ سے ان درختوں پر پھل ہی نہ لگے۔ معاملہ کی صحیح صورت یہ ہے کہ مخصوص درخت یا مخصوص زمین کی پیداوار کی قید نہ لگائی جائے بلکہ صرف پیمانہ اور وزن کی تعیین کر کے معاملہ طے کر لیا جائے۔ لیکن اگر درخت یا زمین کے مالک سے صریح طور پر ناجائز فائدہ اٹھایا جائے، یعنی ضرورت اسے سودا قبول کرنے پر مجبور کر دے تو اغلب یہ ہے کہ یہ حرام ہوگا۔