کسی شرعی عذر سے عید کی نماز تنہا پڑھنا کیسا ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

کسی شرعی سبب کی وجہ سے عید کی نماز اکیلے پڑھنا:

❀ ابو طرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أتينا المقدام بن معدي كرب وهو فى قرية على أميال يوم عيد فقلنا اخرج فصل بنا العيد قال لا صلوا فرادى
ہم عید کے دن سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت وہ (شہر) سے کئی میل دور ایک گاؤں میں مقیم تھے۔ ہم نے انہیں کہا کہ آپ آئیں اور ہمیں نماز عید پڑھائیں۔ انہوں نے فرمایا: ”(جماعت کے ساتھ) نہیں بلکہ اپنے اپنے طور پر نماز ادا کرو۔“
(الآحاد والمثانی: 4/ 392 ح 2437 وسندہ حسن لذاتہ دوسرا نسخه ص482، تاریخ دمشق 26/ 227، طبرانی کبیر 262/20 : 618)
عباد بن الریان ابو طرفہ رحمہ اللہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما علمت فيه جرحا فهو صالح الحديث
(تاریخ الاسلام: 18/ 242)