ظلم و سرکشی کی ممانعت
① سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من ذنب أجدر أن يعجل لصاحبه العقوبة فى الدنيا مع ما يدخر له فى الآخرة من البغي وقطيعة الرحم
”ظلم و سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں جو اپنے کرنے والے کے لیے دنیا میں بھی قابلِ مواخذہ ہو اور پھر اسے آخرت میں بھی اس کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4902، ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق 2511۔
جھوٹے خواب بیان کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تحلم بحلم لم يره كلف أن يعقد بين شعيرتين ولن يفعل، ومن استمع إلى حديث قوم وهم له كارهون صب فى أذنيه الآنك يوم القيامة، ومن صور صورة عذب وكلف أن ينفخ فيها الروح وليس بنافخ
”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہیں، تو اسے قیامت کے دن جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کے لیے کہا جائے گا اور وہ کر نہیں سکے گا، اور جو شخص ایسے لوگوں کی بات پر کان لگائے جو اپنی بات کسی کو سنانا پسند نہ کرتے ہوں تو اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا، اور جس نے کسی جاندار کی تصویر بنائی تو اسے عذاب دیا جائے گا اور اسے کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے جبکہ وہ روح نہیں پھونک سکے گا۔“
بخاری، کتاب التعبير 7042، ابوداؤد، کتاب الادب 5042، ترمذی، کتاب الرؤيا، اللباس 1751۔
عورتوں کے ساتھ خلوت کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يخلون أحدكم بامرأة إلا مع ذي محرم
”تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے اس کے محرم کے بغیر خلوت نشینی اختیار نہ کرے۔“
تو ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیوی حج کے لیے جانا چاہتی ہے جبکہ میرا نام فلاں غزوہ کے لشکر میں لکھا گیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إرجع فحج مع امرأتك
”تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“
بخاری، کتاب النكاح 5233، مسلم، کتاب الحج 1341/424۔
② سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والدخول على النساء
”عورتوں سے خلوت نشینی اختیار کرنے سے اجتناب کرو۔“
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: دیور کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحمو الموت
”دیور تو موت ہے۔“
بخاری، کتاب النكاح 5233، مسلم، کتاب السلام 2172/20۔
وضاحت: ”حمو“ سے مراد خاوند کے وہ رشتہ دار ہیں جن کا اس عورت سے نکاح ہو سکتا ہے، مثلاً خاوند کا بھائی، بھتیجا، چچا اور ماموں وغیرہ۔