راہِ جہاد میں روزہ دار مجاہد کا چہرہ قیامت میں جہنم سے ستر سال دور ہوگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول من صام يوما فى سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا.
”ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کی راہ (جہاد) میں ایک دن کا روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔“
( صحیح البخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب فضل الصوم فی سبیل اللہ، واللفظ لہ، الرقم: 2840 / مسلم، کتاب الصیام، باب فضل الصیام فی سبیل اللہ لمن یطیقہ بلا ضرر ولا تفویت حق، الرقم: 1153)

فوائد مستنبطہ

➊ ”اللہ کی راہ میں“ کا مطلب کفار سے جہاد کے وقت روزہ رکھنا ہے، بشرطیکہ اس سے کمزوری پیدا ہو جانے کا احتمال نہ ہو۔ اس کا ایک مطلب اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اس کے حکم کی تعمیل میں روزہ رکھنا بھی ہو سکتا ہے۔ خلوصِ نیت سے جو کام کیا جائے وہ اللہ کی راہ میں ہی ہوتا ہے۔
➋ ستر سال کے فاصلے کا مطلب یہ ہے کہ جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا فاصلہ ستر سال میں طے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد بہت زیادہ دوری کو واضح کرنے کیلئے ستر سال کی مسافت سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
➌ میدانِ جہاد میں روزہ رکھنے کی فضیلت: حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ میدانِ جہاد میں روزے کی بڑی فضیلت ہے کہ ایک دن کے روزہ رکھنے سے روزہ دار کا چہرہ جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت سے دور رہے گا۔