صحابہ کا مقام اور ان کے طبقات
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور خیر القرون کہلاتا ہے، یہی لوگ خیر امت کا صحیح مصداق ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ہی نے بلا واسطہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دین اخذ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقاصد کو سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال و افعال سے اس کا معائنہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے امت کی شفا کا نسخہ سنا۔ یہ مقام دوسرے افراد کو حاصل نہ ہوا۔ اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے مستفید ہوتے رہے اور یہی وہ جوہر نایاب تھا جس کی بنا پر انہوں نے پوری دنیا سے ٹکر لی۔ اور پھر تمام ادیان اور ان کے ماننے والوں کو لا تعلق چھوڑا ہی نہیں بلکہ ان سے اپنی جان اور مال سے جہاد بھی کیا۔ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبوا أصحابى فوالذى نفسى بيده لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه
”میرے صحابہ کو گالی نہ دینا۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو ان کے ایک یا نصف مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔“
(صحيح البخارى كتاب فضائل أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم، حديث: 3673، صحيح مسلم كتاب فضائل الصحابة: باب تحريم سب الصحابة، حديث: 2540، 2541)
یہ ارشاد گرامی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس وقت فرمایا تھا، جب عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ان کا اختلاف ہو گیا تھا۔ کیونکہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار سابقین اولین میں ہوتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے پہلے جہاد کیا اور اپنے قیمتی سرمایہ کو بھی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا تھا۔ البتہ خالد بن ولید، عمرو بن عاص، عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے مدت معاہدہ میں مسلمان ہو گئے تھے۔ ان کا شمار سابقین اولین میں نہیں ہوتا۔ اور جو لوگ فتح مکہ والے سال مسلمان ہوئے انہیں مہاجرین نہیں کہا جاتا، کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ ان کا نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلقاء رکھا تھا، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورے تسلط اور کنٹرول کے بعد ان کو آزاد کیا تھا۔
السابقون الاولون صحابہ کرام
کچھ صحابہ ایسے ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں شمولیت کا شرف حاصل کیا اور کچھ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔ ان ہی دو قسم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو السابقون الاولون کا خطاب ملا، وہ خواہ مہاجر ہوں یا انصار۔ صحیحین میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے مطابق صلح حدیبیہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:
أنتم خير أهل الأرض
”خطہ ارض پر تم سب سے بہتر ہو۔“
(صحيح البخارى كتاب المغازى: باب غزوة الحديبية، حديث: 3154، صحيح مسلم كتاب الإمارة: باب استحباب مبايعة الإمام الجيش، حديث: 1857)
اس روز ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ ان ہی خصوصیات کی وجہ سے ابلیس کو موقع نہ ملا کہ وہ ان کو گمراہ کر سکے۔ اور ان میں سے کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھ سکے۔ بتقاضائے بشریت ان سے ایسے اعمال بھی سرزد ہوئے جن پر نکیر ہو سکتی ہے، بایں ہمہ ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جس میں کوئی بدعت پائی جائے۔ خارجی، رافضی، قدریہ، مرجئہ اور جہمیہ وغیرہ یہ سب فرقے بعد کی پیداوار ہیں جن پر شیطان کا داؤ چل گیا۔