حلال جانوروں کی اوجھڑی حلال ہے، چاہے قربانی کے ہوں یا عام ذبیحہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

اوجھڑی حلال ہے

سوال:

اوجھڑی بالعموم اور قربانی کے جانور کی اوجھڑی بالخصوص حلال ہے یا حرام؟ وضاحت مطلوب ہے۔ (ارشاد اللہ امان، شیخوپورہ شہر)
اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص 85) [معاذ]

الجواب:

حلال جانور مثلاً گائے، بھینس، اونٹ، بکری اور بھیڑ وغیرہ کو شرائط شرعیہ کے ساتھ ذبح کیا جائے تو اس کی اوجھڑی حلال ہے، چاہے قربانی ہو یا عام ذبیحہ ہو اور اسے حرام کہنا غلط ہے۔ قربانی کے جانوروں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ
پھر جب وہ پشت لگادیں (یعنی ذبیح ہو جائیں) تو ان میں سے کھاؤ، اور امیر و غریب کو کھلاؤ۔
(الحج: 36)
اس آیت کے عموم سے ثابت ہے کہ ذبح شدہ جانور کا گوشت، اوجھڑی، کلیجی اور دل وغیرہ حلال ہیں اور یہاں بطور فائدہ عرض ہے کہ جس چیز کی حرمت قرآن، حدیث اور اجماع یا آثار سلف صالحین سے ثابت ہے تو وہ چیز اس آیت کے عموم سے خارج ہے۔ مثلاً:
➊ وہ چیز جسے عام اہل ایمان کی طبیعتیں خبیث اور گندی سمجھیں تو آیت ويحرم عليهم الخبائث (الاعراف: 157) کی رو سے مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہیں۔
اوجھڑی کا خبیث ہونا نہ تو آثار سلف صالحین سے ثابت ہے اور نہ عام اہل ایمان اس کو گند یا مکروہ و نا پسندیدہ سمجھتے تھے۔
➋ وہ چیز جو چوری یا غصب کر کے حاصل کر لی جائے۔ مثلاً کسی شخص کی بکری چوری کر کے ذبح کیا جائے تو مسلمانوں کے لئے اس کا گوشت حلال نہیں ہے، الا یہ کہ اصل مالک اجازت دے دے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو (شمارہ 18 صفحہ 9) [معاذ]
➌ وہ حلال جانور جس کی خوراک ہی گندگی نجاست ہو (یعنی جلالہ جانور) اس کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔
دیکھئے مشکوۃ المصابیح (4126 606/2، قال ابی بیم اللہ حسن) [معاذ]
➍ زندہ جانور کا کٹا ہوا گوشت حرام ہے۔ وغیرہ
دیکھئے سنن الترمذی (1380، قال ابی دل اللہ سندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4095) [معاذ]
اب موضوع کی مناسبت سے چند فوائد پیش خدمت ہیں:
➊ مفسر قرآن امام مجاہد تابعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے:
إن النبى صلی اللہ علیہ وسلم كره من الشاة سبعا: المثانة والمرارة والغدة والذكر والحياء والأنثيين
بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی سات چیزوں کو مکروہ سمجھتے تھے: مثانہ، پتا، غدہ (گوشت کی گرہ جو کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ابھر آتی ہے)، آلہ تناسل، کھر اور سم والے جانوروں کی فرج (شرمگاہ) اور دونوں خصیے۔
(کتاب المراسیل لابی داود: 460، مصنف عبد الرزاق 1535/4، دوسرا نسخہ 880/2، السنن الکبریٰ للبیہقی 7/10)
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
اول: واصل بن ابی جمیل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ مثلاً امام دار قطنی نے فرمایا: ”وواصل هذا ضعيف“ اور یہ واصل ضعیف ہے۔ (سنن دار قطنی 3059 677/3)
دوم: روایت مرسل (یعنی منقطع ہے اور مرسل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔
روایت مذکورہ کو عمر بن موسیٰ بن وجیہ نے واصل بن ابی جمیل عن مجاہد عن ابن عباس کی سند سے مرفوعاً بیان کیا ہے لیکن عمر بن موسیٰ بن وجیہ کذاب منکر الحدیث راوی تھا۔ (دیکھئے لسان المیزان 332/4-333، دوسرا نسخہ 24175)
لہذا یہ روایت موضوع ہے۔
معجم الاوسط للطبرانی میں اس روایت کا ایک شاہد بھی ہے۔ (217/10 ح 19476، مجمع الزوائد 316/5)
اس کی سند میں بیہی المانی چور تھا۔ (دیکھئے تقریب التهذیب: 7591)
اس کے استاد عبد الرحمن بن ابی سلمہ سے مراد عبد الرحمن بن زید بن اسلم ہے اور اس کی روایات اس کے باپ سے موضوع ہوتی ہیں اور یہ روایت بھی اس کے باپ سے ہے، لہذا موضوع ہے۔
علاء الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی حنفی (متوفی 587ھ) نے بغیر کسی سند کے امام ابو حنیفہ سے نقل کیا کہ خون حرام ہے اور میں چھ چیزوں کو مکروہ سمجھتا ہوں۔
(بدائع الصنائع 675)
یہ روایت قابل اعتماد صحیح وحسن سند نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے اور چھ چیزوں سے مراد ضعیف حدیث میں بیان شدہ خون کے علاوہ چھ چیزیں ہیں، جس کی تحقیق تھوڑا پہلے گزر چکی ہے۔

خلاصہ تحقیق:

شرائط شرعیہ کے ساتھ ذبح شدہ حلال جانور کی اوجھڑی حلال ہے، بشرطیکہ اسے خوب دھو دھو کر، خوب صفائی کر کے پکایا جائے اور کسی قسم کی نجاست کا کوئی اثر باقی نہ رہا ہو۔ (29/دسمبر 2010ء)
[فتاویٰ علمیہ 279/3]