روزے میں بوس و کنار، جنابت، جماع اور مشت زنی کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

روزہ کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا) بوسہ بھی لے لیتے تھے اور جسم کے ساتھ جسم بھی ملا لیتے تھے، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی بہ نسبت خواہش پر زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1106)

سوال:

حالت روزہ میں سو گیا، جاگا تو منہ میں خون دیکھا، کیا حکم ہے؟

جواب:

روزے میں کچھ خلل واقع نہیں ہوا۔

سوال:

رمضان میں جنابت کا غسل طلوع فجر کے بعد کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے، اس سے روزے میں کچھ حرج واقع نہیں ہوتا۔ حالت جنابت میں روزہ رکھنا جائز ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدركه الصبح وهو جنب فيغتسل ويصوم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں صبح ہو جاتی تو غسل کرتے اور روزہ رکھ لیتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 1925، صحيح مسلم: 1109، المنتقى لابن الجارود: 392)
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
اتفق الفقهاء على العمل بهذا الحديث وصار ذلك إجماعا أو كالإجماع
”فقہا کا اتفاق ہے کہ اس حدیث پر عمل کرنا جائز ہے، اس مسئلہ کے جواز پر اجماع ہے یا قریب قریب اجماع ہے۔“
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 2/11)

سوال:

مسوڑوں کا خون حلق میں چلے جانے سے روزہ باقی رہا یا نہیں؟

جواب:

مسوڑوں کا خون باہر تھوکنا چاہیے، اگر غیر ارادی طور پر حلق میں چلا گیا تو روزہ برقرار ہے۔

سوال:

پان کی سرخی تھوک میں ملی ہے، اسے نگلنے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب:

نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

کیا حقہ پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

جی ہاں۔

سوال:

شرمگاہ میں دخول سے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

حالت روزہ میں دخول جائز نہیں۔ اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس پر کفارہ لازم ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں رمضان (روزہ کی حالت) میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں! پوچھا: کیا آپ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟ عرض کیا: نہیں، فرمایا: بیٹھ جائیے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لیں اور صدقہ کر دیں۔ اس نے کہا: کیا ایسے گھرانے پر صدقہ کروں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہے؟ ان دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان (یعنی مدینہ میں) ہمارے گھر سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں اور فرمایا: اسے لے جائیں اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دیں۔“
(صحيح البخاري: 1936، صحيح مسلم: 1111)

سوال:

کیا مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

بلاشبہ جلق (مشت زنی) ناجائز، حرام اور لغو حرکت ہے۔ یہ انتہائی قبیح اور رسوا کن گناہ ہے۔ دین و دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے قوائے جسمانی کمزور ہو جاتے ہیں، قبل از وقت بڑھاپا چھا جاتا ہے۔ چہرے کی رعنائی ختم ہو جاتی ہے۔ نامردی اور بانجھ پن کا سبب ہے۔ نسیان کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ اعصابی، دماغی اور جسمانی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
عامة العلماء على تحريمه وقال بعض العلماء إنه كالفاعل بنفسه وهي معصية أحدثها الشيطان وأجراها بين الناس حتى صارت قيلة ويا ليتها لم تقل ولو قام الدليل على جوازها لكان ذو المروءة يعرض عنها لدناءتها
”اکثر اہل علم مشت زنی کو حرام سمجھتے ہیں، بعض اہل علم نے تو کہا ہے کہ یہ اپنے ہی ساتھ زنا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ معصیت ہے، اسے شیطان نے ایجاد کیا اور لوگوں میں جاری کر دیا، یہاں تک کہ یہ ایک بحث و مباحثہ بن چکا ہے، کاش کہ اس پر گفتگو ہی نہ کی جاتی۔ اگر اس کے جواز پر دلیل بھی قائم ہو جائے تب بھی معزز لوگ اس کے گھٹیا پن کی وجہ سے اس سے اعراض کریں گے۔“
(تفسير القرطبي: 12/106)
روزہ میں کوئی مشت زنی کر لے تو حرام اور کبیرہ گناہ تو ہے ہی، مگر اس کا روزہ باقی رہے گا یا نہیں؟ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے۔
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ روزے میں مشت زنی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
ان کے مد نظر یہ دلیل ہے:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يترك طعامه وشرابه وشهوته من أجلي
”میرا بندہ میرے لیے کھانا پینا اور شہوت ترک کر دیتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 1894، صحيح مسلم: 1151)
❀ علامہ سمرقندی حنفی رحمہ اللہ (540ھ) فرماتے ہیں:
استمنى بالكف فأنزل فإنه يفسد لأنه اقتضى شهوته بفعله
”اگر کسی نے ہاتھ کے ساتھ مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے مشت زنی کے ساتھ اپنی شہوت پوری کر لی ہے۔“
(تحفة الفقهاء، ص 358)
بے شک مشت زنی کے ساتھ شہوت پوری کرنا جائز نہیں، مگر اس سے روزہ ٹوٹنے کا استدلال بھی درست نہیں، کیونکہ مشت زنی صورتاً اور معنیً جماع نہیں ہے۔
❀ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن أمنى الصائم أفطر
”اگر روزہ دار (مشت زنی کے ذریعے) منی خارج کر دے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9482، وسنده صحيح)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
أما من استمنى فأنزل فإنه يفطر
”جس نے مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔“
(مجموع الفتاوى: 25/224)
❀ علامہ رافعی رحمہ اللہ (623ھ) فرماتے ہیں:
المني إن خرج بالاستمناء أفطر وإن خرج بمجرد الفكر والنظر فلا
”منی اگر مشت زنی سے خارج ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر محض سوچنے اور دیکھنے سے خارج ہو تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔“
(الشرح الكبير: 6/388)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
كالمستمني بالكف على ما قالوا يعني لا يفطر وفيه نظر قال في الذخيرة هذا قول أبي بكر وأبي القاسم وعامة المشايخ على خلافه وهو قول الأئمة الثلاثة قال في الينابيع وهو المختار
”اسی طرح ہتھیلی سے مشت زنی کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جبکہ یہ موقف محل نظر ہے۔ ’ذخیرہ‘ میں لکھا ہے: یہ ابو بکر اور ابو القاسم کا مؤقف ہے۔ مگر اکثر مشائخ اس کے خلاف ہیں، ائمہ ثلاثہ کا بھی یہی موقف ہے۔ ’ینابیع‘ میں مندرج ہے کہ یہی مختار قول ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 9/207، البناية للعيني: 2/330)
❀ علامہ طحطاوی حنفی رحمہ اللہ (1231ھ) فرماتے ہیں:
لو استمنى بكفه فعامة المشايخ أفتوا بفساد الصوم وهو المختار
”اگر کوئی ہاتھ سے مشت زنی کرے تو اکثر مشائخ فتویٰ دیتے ہیں کہ اس کا روزہ فاسد ہو جاتا ہے، یہی مختار قول ہے۔“
(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 658)

راجح موقف :

راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ مشت زنی سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں۔ اسے جماع پر قیاس کرنا کئی وجوہ سے درست نہیں۔ جماع سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، اس پر کفارہ ہے، جن اہل علم کے نزدیک مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، وہ اس پر کفارہ واجب نہیں سمجھتے۔
❀ علامہ البانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
لو كان هذا صحيحا لكان إيجاب الكفارة في الاستمناء أولى من إيجابها على الإيلاج بدون إنزال وهم لا يقولون أيضا بذلك فتأمل تناقض القياسيين
”اگر یہ موقف صحیح ہوتا تو بغیر انزال کے دخول پر کفارہ کے واجب ہونے کی بہ نسبت مشت زنی پر کفارہ واجب قرار دینا زیادہ اولیٰ ہوتا، جبکہ یہ لوگ اس کے قائل نہیں ہیں، تو قیاس والوں کے تناقض پر ذرا غور کیجئے۔“
(تمام المنة، ص 419)
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) فرماتے ہیں:
ممن ينقض الصوم بالإنزال للمني إذا تعمد اللذة ولم يأت بذلك نص ولا إجماع ولا قول صاحب ولا قياس
”بعض اہل علم کے نزدیک اس شخص کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے جو جان بوجھ کر منی خارج کرتا ہے۔ جبکہ اس پر کوئی نص، اجماع، قول صحابی یا قیاس نہیں ہے۔“
(المحلى بالآثار: 4/338)
❀ محدث البانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
لا دليل على الإبطال بذلك وإلحاقه بالجماع غير ظاهر ولذلك قال الصنعاني الأظهر أنه لا قضاء ولا كفارة إلا على من جامع وإلحاق غير المجامع به بعيد وإليه مال الشوكاني وهو مذهب ابن حزم
”مشت زنی سے روزہ باطل ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اسے جماع پر قیاس کرنا درست نہیں، اسی لیے امیر صنعانی رحمہ اللہ نے فرمایا: درست بات یہی ہے کہ قضا اور کفارہ صرف جماع کرنے والے پر ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کو جماع کرنے والے پر قیاس کرنا بعید ہے۔ علامہ شوکانی رحمہ اللہ کا میلان بھی اسی طرف ہے اور علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔“
(تمام المنة، ص 418)

فائدہ :

ثقہ فقیہ جابر بن زید رحمہ اللہ (93ھ) کے بارے میں ہے:
عن رجل نظر إلى امرأته في رمضان فأمنى من شهوتها هل يفطر قال لا ويتم صومه
”آپ رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی کی طرف دیکھتا ہے، شہوت کی وجہ سے اس کی منی خارج ہو جاتی ہے، تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ فرمایا نہیں۔ وہ روزہ پورا کرے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9480، وسنده حسن)