روزے سے متعلق ضعیف روایات، مسواک اور سفر میں روزے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

درج ذیل روایت کیسی ہے؟
❀ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إني رأيت البارحة عجبا رأيت رجلا من أمتي قد احتوشته ملائكة فجاءه وضوؤه فاستنقذه من ذلك ورأيت رجلا من أمتي قد احتوشته الشياطين فجاءه ذكر الله فخلصه منهم ورأيت رجلا من أمتي يلهث عطشا من العطش فجاءه صيام رمضان فسقاه ورأيت رجلا من أمتي بين يديه ظلمة ومن خلفه ظلمة وعن يمينه ظلمة وعن شماله ظلمة ومن فوقه ظلمة ومن تحته ظلمة فجاءه حجه وعمرته فاستخرجاه من الظلمة ورأيت رجلا من أمتي جاءه ملك الموت يقبض روحه فجاءه بره بوالديه فرد عنه ورأيت رجلا من أمتي يكلم المؤمنين ولا يكلمونه فجاءته صلة الرحم فقالت إن هذا واصل كان واصلا لرحمه فكلمهم وكلموه وصار معهم ورأيت رجلا من أمتي يأتي الناس وهم حلق فكلما أتى على حلقة طرد فجاءه اغتساله من الجنابة فأخذه بيده فأجلسه معهم ورأيت رجلا من أمتي يتقي وهج النار بيديه عن وجهه فجاءته صدقته وصارت ظلا على رأسه وسترا على وجهه ورأيت رجلا من أمتي جاءته زبانية العذاب فجاءه أمره بالمعروف ونهيه عن المنكر فاستنقذه من ذلك ورأيت رجلا من أمتي هوى في النار فجاءته دموعه التي بكى من خشية الله فأخرجته من النار ورأيت رجلا من أمتي قد هوت صحيفته إلى شماله فجاءه خوفه من الله فأخذ صحيفته فجعلها في يمينه ورأيت رجلا من أمتي يرعد كما ترعد السعفة فجاءه حسن ظنه بالله فسكن رعدته ورأيت رجلا من أمتي يزحف على الصراط مرة ويجثو مرة ويتعلق مرة فجاءته صلاته علي فأخذت بيده فأقامته على الصراط حتى جاوز ورأيت رجلا من أمتي انتهى إلى أبواب الجنة فعلقت الأبواب دونه فجاءته شهادة أن لا إله إلا الله فأخذته بيده فأدخلته الجنة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے (اور فرمایا:) میں نے ایک رات عجیب و غریب خواب دیکھا، میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا، اسے پکڑنے کے لیے فرشتوں نے چاروں طرف سے گھیرا ڈالا ہوا ہے، اس کا وضو والا عمل آیا اور اسے اس گھیرے سے باہر نکال لیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جسے شیاطین نے پکڑنے کے لیے گھیرا ہوا ہے، تو اللہ کے ذکر والا عمل آیا اور اسے شیاطین سے بچا لیا۔ میں اپنا ایک امتی دیکھا جو پیاس سے ہانپ رہا تھا، تو اس کے پاس رمضان کے روزوں کا عمل آیا اور اسے پانی پلایا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جس کے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا، اتنے میں اس کا حج اور عمرہ کا عمل آیا اور انہوں نے اسے اندھیرے سے باہر نکالا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جس کے پاس ملک الموت آیا ہے اور اس کی روح قبض کر رہا ہے، تو اس کے پاس والدین سے حسن سلوک کا عمل آیا اور اس نے ملک الموت سے روح واپس لے لی۔ میں نے اپنا ایک آدمی دیکھا جو مؤمنوں سے کلام کر رہا ہے مگر مؤمن اس سے بات نہیں کر رہے، تو صلہ رحمی کا عمل آیا اور کہا: یہ صلہ رحمی کرنے والا شخص ہے، پھر اس شخص نے مؤمنوں سے بات کی تو مؤمن بھی اس سے گفتگو کرنے لگے اور وہ شخص مؤمنوں میں داخل ہو گیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جو حلقوں میں بیٹھے لوگوں کے پاس آیا، جب بھی وہ کسی حلقے کے پاس آتا تو اسے واپس بھیج دیا جاتا، تو اس کا حالت جنابت میں غسل کرنے والا عمل آیا اور اسے ان لوگوں کے ساتھ (حلقے میں) بٹھا دیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جو اپنے ہاتھ کے ساتھ خود کو آگ کے شعلوں سے بچا رہا ہے، تو اس کا صدقہ والا عمل آیا اور اس کے سر پر چھتری اور چہرے پر جہنم سے پردہ بن گیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جس کے پاس عذاب کے سپاہی (فرشتے) آتے ہیں، اسی اثنا میں اس کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر والا عمل آیا اور اس نے اسے عذاب سے بچا لیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جو آگ میں گر رہا ہے، تو اس کے وہ آنسو جو خشیت الہی میں رونے سے نکلے تھے، اس کے پاس آئے اور انہوں نے اسے جہنم سے باہر نکال لیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا کہ اس کا صحیفہ اس کے بائیں ہاتھ کی طرف بڑھ رہا ہے، تو اس کا خوف الہی کا عمل آیا، اس نے صحیفے کو پکڑ کر اس کے دائیں ہاتھ میں رکھ دیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا وہ (کانپتے ہوئے) اس لیے ہل رہا ہے جیسے (تیز آندھی میں) کھجور کی شاخ ہلتی ہے، تو اللہ کے بارے میں حسن ظن والا عمل آیا اور اس کی کپکپاہٹ کو پرسکون کر دیا۔ میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جو پل صراط پر لڑھک رہا تھا، کبھی ادھر گرتا تو کبھی اُدھر گرتا، تو اس کے پاس میرے اوپر بھیجا گیا درود کا عمل آیا اور اسے پل صراط پر ثابت قدم کر دیا اور وہ (بآسانی) پل کو عبور کر گیا۔ میں نے اپنا ایک امتی دیکھا جو جنت کے دروازوں پر پہنچا تو دروازے بند ہو گئے، تو اس کے پاس لا الہ الا اللہ کی گواہی والا عمل آیا، اس کا ہاتھ تھاما اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔“
(الأحاديث الطوال للطبراني، ص 273)

جواب:

سند باطل ہے۔
➊ سلیمان بن احمد واسطی متروک و کذاب ہے۔
➋ علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے۔
➌ وزیر بن عبدالرحمن خولانی ضعیف ہے۔
➍ سعید بن مسیب کا سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
❀ العلل المتناهية لابن الجوزی (2/209) میں سند کے بعض حصے کی متابعت ہے، مگر وہ سند سخت ضعیف ہے۔
➊ ابو جبلہ ہلال مجہول ہے۔
➋ فرج بن فضالہ سخت ضعیف ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث لا يصح
”یہ حدیث ثابت نہیں۔“
(العلل المتناهية: 2/211)

سوال:

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستاك آخر النهار وهو صائم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں دن کے آخری وقت مسواک کرتے تھے۔“
(كتاب المجروحين لابن حبان: 1/144)

جواب:

سند باطل ہے۔ ابو میسرہ احمد بن عبداللہ بن میسرہ حرانی سخت ضعیف ہے۔
اس روایت کو مرفوع بیان کرنا خطا ہے، اس کا موقوف ہونا ہی درست ہے۔
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ”باطل“ کہا ہے۔
(كتاب المجروحين: 1/144)

فائدہ:

روزہ کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے۔

سوال:

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صام نوح الدهر إلا يوم الفطر والأضحى وصام داود نصف الدهر وصام إبراهيم ثلاثة أيام من كل شهر صام الدهر وأفطر الدهر
”نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے علاوہ پورا سال روزے رکھے، داود علیہ السلام نے آدھا سال روزے رکھے اور ابراہیم علیہ السلام نے ہر مہینے تین دن کے روزے رکھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے (ثواب کے اعتبار سے) پورا سال روزے رکھے اور (حقیقت میں تقریباً) پورا سال روزے چھوڑے۔“
(سنن ابن ماجه: 1714، المعجم الكبير للطبراني: 133، شعب الإيمان للبيهقي: 3563، واللفظ له)

جواب:

سند ضعیف ہے۔ عبداللہ بن لہیعہ ضعیف و مختلط ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ابن لهيعة أكثر أهل العلم لا يقبلون شيئا من حديثه
”اکثر اہل علم ابن لہیعہ کی کوئی بھی حدیث قبول نہیں کرتے۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 12/254)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو ضعيف بالاتفاق لاختلال ضبطه
”ابن لہیعہ حافظے کی خرابی کی بنا پر بالاتفاق ضعیف ہے۔“
(خلاصة الأحكام: 2/625)

سوال:

سفر میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟

جواب:

سفر میں روزہ رکھنے سے دشواری محسوس نہ ہو تو روزہ رکھا جا سکتا ہے، البتہ اگر مشکل پیش آئے تو سفر میں روزہ ترک کرنا اولیٰ ہے۔
❀ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:
يا رسول الله أجد بي قوة على الصيام في السفر فهل علي جناح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هي رخصة من الله فمن أخذ بها فحسن ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه
”اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی (جسمانی) استطاعت رکھتا ہوں، کیا مجھ پر گناہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر میں (فرض) روزہ چھوڑنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، لہذا جس نے اس رخصت کو اختیار کیا اس نے بہت اچھا کیا اور جس نے روزہ رکھنا چاہا تو کوئی حرج نہیں۔“
(صحيح مسلم: 1121)
البتہ اگر سفر میں روزہ رکھنا بہت مشکل ہو تو رخصت کو چھوڑ کر روزہ رکھنا درست نہیں۔
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فرأى زحاما ورجلا قد ظلل عليه فقال ما هذا فقالوا صائم فقال ليس من البر الصوم في السفر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر تھے، اسی اثنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کا ہجوم دیکھا، ایک شخص پر سایہ کیا گیا تھا، تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس نے روزہ رکھا ہوا ہے، فرمایا: سفر میں مشقت کے ساتھ روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“
(صحيح البخاري: 1946، صحيح مسلم: 1115)