جنازہ کے لیے کھڑے ہونا
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! یہ تو یہودی تھی (یعنی یہودی کا جنازہ تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن للموت فزعا فإذا رأيتم الجنازة فقوموا
”موت کے لیے فزع (خوف، پریشانی، فریاد رسی) ہے پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔“
مسلم، كتاب الجنائز 960/78۔
② سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو اور جو شخص اس کے ساتھ جائے تو وہ اس کے رکھے جانے تک نہ بیٹھے۔“
بخاري، کتاب الجنائز 1310۔ مسلم، كتاب الجنائز 77/959۔
نمازِ جنازہ کے احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے فوت ہونے کی اس دن خبر سنائی، جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے، آپ نے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہہ کر نمازِ جنازہ ادا کی۔
بخاری، کتاب الجنائز 1318۔ مسلم، كتاب الجنائز 951۔ ابوداؤد 3204۔
قرض کی ادائیگی
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الذنوب عند الله أن يلقاه عبد بعد الكبائر التى نهى الله عنها أن يموت رجل عليه دين لا يدع له قضاء
”جن کبیرہ گناہوں سے اللہ نے منع کیا ان کے بعد اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ بندہ اس سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ مرتے وقت مقروض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑ کر نہ جائے۔“
ابوداؤد، كتاب البيوع 3342، یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں ابو عبد اللہ القرشی مجہول ہے ۔