رسول اللہ ﷺ کی وفات پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اعلان توحید

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

صدیق اکبر کا اعلان توحید

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
من كان يعبد محمدا فإن محمدا قدمات ومن كان يعبد الله فان الله حى لا يموت
”جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ سمجھ لے کہ اللہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔“
اور پھر قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ‎﴿١٤٤﴾‏
”محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا۔ وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا۔ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا۔ “
(3-ال عمران:144)
صدیق اکبر نے جب یہ آیت پڑھی تو صحابہ کو یوں محسوس ہوا کہ انہوں نے یہ آیت آج ہی سنی ہے۔ چنانچہ اس وقت ہر شخص کی زبان پر یہ آیت تھی۔
(صحیح بخاری کتاب المغازی: باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته حدیث: 4354)

قرآن کی اہل تقویٰ اور مشرکوں کے لیے تخفیف تاثیر

اچانک حادثہ کے وقت قرآن کی بعض آیات کا مفہوم بلند پایہ ذہنوں سے بھی اوجھل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب انہیں یاد دلایا جاتا ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں۔ قرآن کریم اس کی یوں وضاحت کرتا ہے کہ:
إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ ‎﴿٢٠١﴾‏ وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ ‎﴿٢٠٢﴾
”حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریقہ کار کیا ہے۔ رہے ان کے بھائی بند تو وہ ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔“
(7-الاعراف:201-202)