باب الغسل
غسل کرتے وقت پردہ کرنا
① سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ پر بغیر ازار غسل کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
إذا اغتسل أحدكم فليستتر إن الله حيي ستير يحب الحياء والستر، فإذا اغتسل أحدكم فليستتر
”بے شک اللہ حیا کرتا ہے اور پردہ پوش ہے، وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کرے۔“
ابو داؤد، کتاب الحمام، باب النهي عن التعرى، 4012۔ النسائي، 200/1۔
اور انہی سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله عز وجل ستير، فإذا أراد أحدكم أن يغتسل فليتوار بشيء
”بے شک اللہ عز وجل حیادار ہے، پس جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو وہ کسی چیز کے ذریعے پردہ کر لے۔“
النسائي، کتاب الطهارة، باب الغسل۔
غسل خانے میں ازار باندھنا
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام بغير إزار، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل حليلته الحمام، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجلس على مائدة يدار عليها الخمر
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ازار کے بغیر غسل خانے میں نہ جائے، جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنی بیوی کو غسل خانے میں داخل نہ کرے، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو۔“
ترمذى، کتاب الادب، حدیث 2801۔ یہ روایت حسن ہے ۔
② سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمئزر
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ازار کے بغیر غسل خانے میں داخل نہ ہو۔“
ترمذى، کتاب الادب، حدیث 2801۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ستفتح لكم أرض العجم، وستجدون فيها بيوتا يقال لها الحمامات، فلا يدخلها الرجال إلا بإزار، وامنعوا منها النساء إلا مريضة أو نفساء
”تم عجمیوں کے علاقے فتح کرو گے اور وہاں کچھ ایسے کمرے پاؤ گے جنہیں غسل خانے کہا جاتا ہے۔ ان میں مرد ازار کے بغیر داخل نہ ہوں اور بیمار یا حالتِ نفاس کے علاوہ دیگر عورتوں کو ان میں داخل ہونے سے منع کرنا۔“
ابو داؤد، کتاب الحمام، 4011۔ ابن ماجه، کتاب الادب، حدیث 3748۔ یہ روایت ضعیف ہے اس لیے کہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن الانعم ضعیف راوی ہے ۔
غسل جنابت کے احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت کرتے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور شرم گاہ دھوتے، پھر نماز کے لیے جس طرح وضو کرتے ویسے وضو کرتے۔ پھر بالوں کی جڑوں میں انگلیاں داخل کرتے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاکیزگی کا یقین ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے اور پھر اپنے پاؤں دھوتے۔
بخاری، کتاب الغسل، 248۔ مسلم کتاب الحيض، 316۔ ابو داؤد، کتاب الطهارة، 242۔
جنابت کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا جلس الرجل بين شعبها الأربع ثم جهدها فقد وجب عليه الغسل
”جب آدمی اس (بیوی) کی چار شانوں میں (جماع کے لیے) بیٹھے پھر اس کے ساتھ کوشش کی تو پھر اس پر غسل واجب ہو گیا۔“
اور ایک روایت میں ہے:
وإن لم ينزل
”خواہ انزال نہ ہوا ہو۔“
بخاری، کتاب الغسل، 291۔ مسلم، کتاب الحيض، 348/87۔
② نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ جو کوئی شخص اپنی اہلیہ سے جماع کرتا ہے، پھر وہ انزال کے وقت ذکر باہر نکال لیتا ہے تو کیا ان دونوں پر غسل واجب ہوگا؟ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تشریف فرما تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني لأفعل ذلك أنا وهذه ثم نغتسل
”میں اور یہ بھی اسی طرح کرتے ہیں پھر ہم غسل کرتے ہیں۔“
مسلم، کتاب الحيض، 350/89۔