روزہ افطار کرانے کا ثواب
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی روزہ دار کو افطاری کراتا ہے، اسے اس کے برابر ثواب ملتا ہے، روزہ دار کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوتا۔“
سنن ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی فضل من فطر صائما۔ صحیح ابنِ خزیمہ: 277/3۔ ابنِ خزیمہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
روزہ دار کے پاس کھانا کھانے والوں کی وجہ سے روزہ دار کا ثواب
ام عمارہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے کھانا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو کھا، اس نے کہا میں روزہ دار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے پاس اگر کھانا کھایا جائے تو فرشتے فارغ ہونے تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں، یا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیر ہونے تک (رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں)۔“
سنن ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی فضل الصوم۔ صحیح ابنِ خزیمہ: 307/3۔ صحیح ابنِ حبان (الاحسان): 181/5 – ابنِ حبان اور ابنِ خزیمہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔