صدقہ فطر کا ثواب صحيح حديث كي روشني ميں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

صدقہ فطر کا ثواب

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر، روزہ دار کو فضول اور بے ہودہ حرکات سے پاک کرنے اور مسکینوں کی شکم سیری کے لیے مقرر فرمایا ہے، لہٰذا جو شخص اسے نماز عید سے پہلے ادا کرتا ہے اس کی طرف سے یہ بطور صدقہ قابل قبول ہے اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرتا ہے، اس کی طرف سے یہ خیرات ہے۔ (صدقہ فطر نہیں ہے)
سنن ابوداؤد، کتاب الزکاۃ، رقم: 1609۔ مستدرک حاکم: 409/1۔ حاکم نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔ اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔