مضمون کے اہم نکات
توحید فی العبادت اور شرک فی العبادت
توحید فی العبادت کی تعریف یہ ہے:
کہ اللہ تعالی کے سوا کسی بھی دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اور لا الہ الا اللہ کا یہی مطلب ہے۔ یعنی عبادت کے معاملہ میں اللہ تعالی کے سوا ہر ایک کی نفی کی جائے۔
شرک فی العبادت کی تعریف یہ ہے:
کہ اللہ تعالٰی کی عبادت میں کسی بھی مخلوق کو شامل کیا جائے اور توحید یہ ہے کہ صرف اللہ تعالٰی ہی کی عبادت کی جائے۔ کلمہ طیبہ کا یہی مطلب ہے اور کلمہ طیبہ میں اور قرآن وحدیث میں یہی حکم ہے۔
کہ اللہ تعالی عبادت میں اکیلا ہے۔ [البقرۃ:23،22]
غیر اللہ کی عبادت منع ہے۔ [البقرۃ:238]
اللہ تعالی نے جنوں اورانسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا:
[وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ] اور میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ [الذاريات:56]
اور رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب من جاهد الخ:6500]،[مسلم، كتاب الإيمان، باب الدليل.. الخ:30]
الہ یعنی معبود کون؟
جو خالق ہے، جس نے زمین و آسمان بنائے، جو بارش برساتا ہے اور پھل نکالتا ہے، جس کے برابر کوئی نہیں۔ [البقرۃ:22،21] زندہ ہے، سب کا تھامنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اس کا ہے۔ ایسا کون ہے جو اس کی اجازت کے سوا اس کے ہاں سفارش کر سکے مخلوق کے تمام حاضر اور غائب حالات کو جانتا ہے۔ اس کی کرسی نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے۔ [البقرة:255] اور جس نے قرآن، تورات، انجیل کو اتارا، وہ جس طرح چاہتا ہے ماں کے پیٹ میں تمھارا نقشہ بناتا ہے۔[آل عمران:1 تا 7] جو ہر چیز کا خالق، ہر چیز کا علم رکھنے والا، جو اللہ ہے، رب ہے۔
سورہ فرقان میں ہے:
اور انھوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے، حالانکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ اپنی ذات کے لیے نفع اور نقصان کے مالک نہیں اور موت اور زندگی اور دوبارہ اٹھنے کے بھی مالک نہیں۔ [الفرقان:3] یعنی معبود وہ ہے جو خالق ہے مخلوق نہیں، نقصان اور نفع کا مالک ہے۔ زندگی، موت اور دوبارہ اٹھائے جانے کا مالک ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کیونکہ اور کوئی ان صفات کا مالک نہیں۔
اللہ ہی کو کیوں نہ سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اور جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو سب کچھ جانتا ہے۔ اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ [النمل:26،25]
صرف اللہ ہی معبود ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی بھی مندرجہ بالا صفات کا مالک نہیں:
[اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ]،[اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]،[اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ]،[اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]،[اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
[(کیا وہ شریک بہتر ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے لیے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ رونق والے باغات اگائے، تمھارے بس میں نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو راستے سے ہٹ رہے ہیں]،[ (کیا وہ شریک بہتر ہیں) یا وہ جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان رکاوٹ بنا دی؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے]،[ یا وہ جو لاچار کی دعا قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے اور تمھیں زمین کے جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بہت ہی کم تم نصیحت قبول کرتے ہو]،[ یا وہ جو تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راہ دکھاتا ہے اور وہ جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری دینے کے لیے بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں]،[ یا وہ جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دہراتا ہے اور جو تمھیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ کہہ لائو اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو]،[ کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے] [النمل:60 تا 65]
اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں کیونکہ کسی اور میں مندرجہ بالا صفات موجود نہیں ہیں۔
[وَ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ]،[ اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ]،[ وَ انۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡہُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَ اصۡبِرُوۡا عَلٰۤی اٰلِہَتِکُمۡ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ]
[اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے]،[ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے]،[ اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقیناً یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے]
[ص:4 تا 6]
معبود صرف ایک ہے، ایک سے زیادہ معبود بنانا کفار و مشرکین مکہ اور یہود و نصاری کا کام ہے۔ ان کو مشرکین اس لیے کہا گیا کہ وہ عبادت کی چاروں اقسام اللہ کے لیے بھی بجالاتے تھے، اور انبیاء اور دوسرے بزرگوں کے لیے بھی، اور اس میں سر فہرست غیر اللہ کو پکارنا تھا۔ قرآن و حدیث اس پر گواہ ہیں، آج کے کلمہ گو مشرک بھی بالکل اسی طرح کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ احمد رضا خان صاحب کے قرآنی ترجمہ مع تفسیر میں بھی مندرجہ بالا مقامات پر یہی لکھا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
