قیامت کی نشانی : عرب کے دشت و صحرا باغات میں بدل جائیں گے
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا وحتى يسير الراكب بين العراق ومكة لا يخاف إلا ضلال الطريق
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ عرب کی زمین باغوں اور دریاؤں والی ہو جائے گی مزید برآں سوار عراق سے مکہ تک سفر کرے گا مگر اسے راستہ گم ہو جانے کے علاوہ اور کوئی خطرہ نہ ہو گا۔
احمد (2/488) مسلم (157) حاكم (4/524) ابن حبان (15/93) مجمع الزوائد (7/141) الدر المنشور (6/51)
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يكثر المال ويفيض حتى يخرج الرجل بزكاة ماله فلا يجد أحدا يقبلها منه وحتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ مال و دولت کی ریل پیل ہوگی۔ آدمی زکوۃ کا مال لے کر نکلے گا مگر کوئی اسے قبول کرنے والا (مستحق) نہیں ہوگا اور یہاں تک کہ عرب کی سرزمین باغ و بہار اور نہرو دریا میں بدل جائے گی۔
مسلم (107 – 2339) احمد (4882) حاکم (4/524) حلية الأولياء (7/141)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے سفر پر روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل انشاء اللہ تم تبوک کے چشمے پر پہنچو گے مگر دن چڑھنے سے پہلے نہ پہنچنا اور جو وہاں پہنچ جائے وہ میرے پہنچنے تک اس چشمے کے پانی کو ہاتھ بھی نہ لگائے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم سے پہلے ہی دو آدمی وہاں پہنچ چکے تھے اور اس چشمے سے جوتے کے تسمے برابر قلیل مقدار میں پانی جاری تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم نے پانی کو چھوا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی پھر لوگوں نے اپنے چلوؤں کے ساتھ اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنے ہاتھ اور چہرہ دھو کر اسے واپس چشمے میں ڈال دیا تو اس چشمے سے (وافر مقدار میں) پانی پھوٹنے لگا حتی کہ سب لوگ اس سے سیراب ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
يوشك يا معاذ إن طالت بك حياة أن ترى ما ههنا قد ملئ جنانا
اے معاذ رضی اللہ عنہ! اگر تیری زندگی نے وفا کی تو تو دیکھے گا کہ یہ جگہ باغ و بہار میں بدل جائے گی۔
مسلم (1391) احمد (5/301) ابو داؤد (1206) نسائی (586) ابن ماجة (1056)
فوائد :
➊ عرب کی سرزمین پہاڑوں، ریگستانوں اور صحراؤں پر مشتمل تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے یہ ریگستان گلزاروں اور چمنوں میں بدل جائے گی اور ماضی قریب سے یہ پیش گوئی بڑی سرعت سے پوری ہو رہی ہے۔
➋ عرب کے ریگستانوں اور صحراؤں کا باغ و بہار اور نہرو دریا میں بدل جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➌ کچھ ماہرین جغرافیہ کا خیال ہے کہ ماضی بعید میں جزیرۃ العرب کی سرزمین باغ و بہار والی تھی جہاں نہر و دریا بھی بکثرت تھے مگر آہستہ آہستہ یہ بنجر صحراؤں میں بدل گئی مگر پھر دوبارہ یہ سرزمین موسمی تغیر و تبدل کے نتیجے میں گلستان و چمنستان میں بدل جائے گی۔
➍ فی الواقع ارض عرب میں بہت سے چشمے دریافت ہو رہے ہیں، زراعت کھجور سے ترقی کرتے ہوئے بہت سی دوسری پیداوار تک جا پہنچی ہے۔
➎ مذکورہ حدیث کا ایک معنی یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ لوگ فتنوں کے خوف سے عرب سے ہجرت کر جائیں تو یہ زمین اجڑنا شروع ہو جائے گی اور یہاں صرف پانی اور گھاس ہی باقی رہ جائے گا۔ مگر یہ مفہوم مرجوح ہے۔