روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ .﴾
”روزے کی رات میں بیویوں کے ساتھ جماع کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو، اللہ کو یہ بات معلوم تھی کہ تم لوگ اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے، پس اُس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کر دیا، اب اپنی بیویوں کے ساتھ ملا کرو، اور جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا اُسے طلب کرو، اور کھاؤ، پیو، یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے جدا ہو جائے، پھر روزے کو رات تک پورا کرو، اور جب تم مسجدوں میں حالتِ اعتکاف میں ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو، یہ اللہ کی حدود ہیں ان کے قریب نہ جاؤ، اللہ اسی طرح اپنی آیتوں کو لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، تا کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں۔“
(2-البقرة:187)
اس آیتِ مقدسہ میں اللہ رب العزت نے روزوں کے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ جن میں روزے کے سحر و افطار کا وقت بھی متعین فرمایا ہے۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر .
”لوگ ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے جب تک وہ روزہ جلدی افطار کریں گے۔“
صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب تعجیل الافطار: 1957۔ صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل السحور، رقم: 1098۔
ابو عطیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسروق کی معیت میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا، ہم نے عرض کیا:
يا أم المؤمنين رجلان من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ، أحدهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة، والآخر يؤخر الإفطار ويؤخر الصلاة، قالت: أيهما الذى يعجل الإفطار ويعجل الصلاة؟ قال: قلنا: عبد الله بن مسعود: قالت كذلك كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم .
”اے ام المومنین! رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے دو شخص ایسے ہیں کہ ان میں سے ایک افطاری اور نماز ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے جبکہ دوسرا افطاری تاخیر سے کرتا ہے اور نماز بھی تاخیر سے پڑھتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ان میں سے کون افطاری اور نماز پڑھنے میں جلدی کرتا ہے؟ ہم نے بتایا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل السحور…، رقم: 1099۔