کیا دجال آدمی ہوگا ؟ صحیح احادیث سے وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

کیا دجال آدمی ہوگا ؟

عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه أنه حدثهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنى قد حدثتكم عن الدجال حتى خشيت أن لا تعقلوا أن مسيح الدجال رجل قصير أفحج جعد أعور مطموس العين ليس بناتئة ولا جحراء فإن ألبس عليكم فاعلموا أن ربكم ليس بأعور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں دجال کے بارے میں خبر دی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ تم اسے پہچان نہ سکو گے مسیح دجال ایک پستہ قد آدمی ہوگا، گھنگھریالے بال ہوں گے، آنکھ کانی اور مٹی ہوئی نہ بہت اونچی ابھری ہوئی اور نہ بہت دھنسی ہوئی ہوگی پھر بھی اگر تمہیں اس کے بارے میں شک وشبہ ہو تو خوب جان رکھو کہ تمہارا رب تو کانا نہیں ہے۔
(ابو داؤد کتاب الملاحم : باب خروج الدجال 4312 ، صحيح الجامع الصغير 8/2 – 317)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا (ایک طویل حدیث میں جو متصل بعد مذکور ہے) فرماتی ہیں کہ : میں (دجال کا) جاسوس ہوں تم اس سنسان جگہ کی طرف چلو جہاں ایک آدمی تمہاری خبر کا مشتاق ہے تو وہ سب وہاں گئے اور کہتے ہیں کہ وہاں ہم نے اتنا بڑا آدمی دیکھا کہ ویسا قد آور مگر (لوہے کی زنجیروں سے) جکڑا ہوا آدمی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الجساسة 2942)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن صیاد نے کہا کہ میں دجال، اس کی جائے پیدائش اور رہائش اور اس کے والدین سے متعلق اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ سب کچھ کہاں ہے۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2927، احمد 23/3 – 54 – 99، ترمذی 2246)