مضمون کے اہم نکات
سوال:
کیا مال دار قسم کے کفارہ میں تین روزے رکھ سکتا ہے؟
جواب:
قسم کے کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، ان تینوں چیزوں میں اختیار ہے، کسی ایک کی ادائیگی سے کفارہ ادا ہو جائے گا، تین روزوں سے کفارہ کی ادائیگی اس کے لیے ہے جو پہلی تین چیزوں پر طاقت نہیں رکھتا، چونکہ مال دار کے لیے دس مساکین کو کھانا کھلانا یا کپڑے دینا ممکن ہے تو اس کا کفارہ تین روزوں سے ادا نہ ہوگا۔
سوال:
ایک بوڑھی عورت نے قسم اٹھائی کہ جب تک قرض کی ادائیگی نہیں ہو جاتی ہمیشہ روزے رکھوں گی، اب اس کمزور بڑھیا کے لیے روزے رکھنا محال ہے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اس بڑھیا کو چاہیے کہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے۔
سوال:
کیا روزوں کی نذر مانی جا سکتی ہے؟
جواب:
مانی جا سکتی ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من مات وعليه صيام صام عنه وليه
”جس پر (نذر کے) روزے تھے اور وہ فوت ہو گیا تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔“
(صحيح البخاري: 1952، صحيح مسلم: 1147)
یہ حدیث دلیل ہے کہ روزوں کی نذر مانی جا سکتی ہے اور اس کی ادائیگی بھی فرض ہے، اگر منت ماننے والا بغیر ادائیگی کے فوت ہو جائے تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔
سوال:
خواتین فطری ایام میں نمازیں اور روزے چھوڑ دیتی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
جواب:
پاک ہونے پر صرف روزوں کی قضا دیں گی، نمازوں کی قضا نہیں ہے۔