مقدمۃ الکتاب
إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. أَمَّا بَعْدُ! فَقَالَ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ الْمَجِيدِ:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
”اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے اور وہ لوگ جنہوں نے اچھے طریقے کے ساتھ ان کی پیروی کی (یعنی ان سے بعد میں ایمان لانے والے صحابہ) اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ (سورۃ التوبۃ:100)
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تُو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں سجدہ کرنے کے اثر سے موجود ہے، یہ ان کا وصف تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔“ (سورۃ الفتح:29)
لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
”لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ہمراہ ایمان لائے، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“ (سورۃ التوبۃ:88)
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
”بلاشبہ اللہ نے نبی اور مہاجرین و انصار پر مہربانی کی، جو کہ تنگ دستی کی گھڑی میں اس (نبی) کے ساتھ رہے، اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جاتے، پھر اللہ نے (ان پر رحمت کرتے ہوئے) ان کو بخش دیا، بے شک وہ ان (صحابہ) پر بڑا شفیق اور رحیم ہے۔“ (سورۃ التوبۃ:117)
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
”(اے نبی!) بے شک جو آپ کے ہاتھوں پر بیعت کرتے ہیں درحقیقت وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ پس جس نے عہد توڑا اس نے اپنی جان پر ہی عہد توڑا اور جس نے وہ بات پوری کی جس پر اس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو عنقریب اللہ اسے اجرِ عظیم سے نوازے گا۔“ (سورۃ الفتح:10)
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
”البتہ تحقیق اللہ مومنین سے راضی ہو گیا جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی، پس اللہ نے جان لیا جو ان (صحابہ) کے دلوں میں تھا، اور اللہ نے ان پر سکینت نازل فرمائی، اور انہیں جلد آنے والی فتح عطا فرمائی۔“ (سورۃ الفتح: 18)
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ
”اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمھارا کہا مان لے تو یقیناً تم مشکل میں پڑ جاؤ، اور لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ تو ہدایت والے ہیں۔“ (سورۃ الحجرات:7)
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
”اور جو ان (صحابہ) کے بعد آئے وہ یہ دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کینہ نا رکھ، اے ہمارے پروردگار تو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ (سورۃ الحشر:10)
لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
”جس شخص نے تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ (اور جس نے خرچ اور جہاد فتح مکہ کے بعد کیا) برابر نہیں۔ ان کا درجہ ان لوگوں سے کہیں بڑھ کر ہے جنھوں نے بعد میں خرچ اور جہاد کیا، مگر اللہ نے ان تمام کے ساتھ ہی بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے خوب واقف ہے۔“(سورۃ الحدید:10)
یہ تمام قرآنی آیات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب اور ذکر خیر پر مشتمل ہیں۔ آپ حضراتِ کرام اور مجھ خطا کار کو ہمارے پیارے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسلک ہر چیز سے دل و جان سے بڑھ کر محبت، عقیدت اور چاہت ہے، وہ چیز ذی روح ہو یا چاہے بے جان ہی کیوں نا ہو، ہمیں وہ ہر شے سے بڑھ کر عزیز اور پیاری ہے اس نسبت، واسطے اور تعلق کے سبب جو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہے۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو وہ ہستیاں ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، آپ سے شریعت کا علم حاصل کر کے آگے پہنچاتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کافروں کے خلاف جہاد کرتے رہے، بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کیا، قربانیاں دیتے رہے اور جان، مال، ہاتھ، زبان اور ہر طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے بڑی محبت اور شفقت فرماتے، ان کے لیے دعائیں کرتے، انہیں گناہوں سے پاک کرتے، انہیں نوازتے اور عطا کرتے، اور سب سے بڑی بات کہ انہیں جنتوں کی بشارتیں سناتے۔
جس طرح قرآن میں بار بار جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر خیر موجود ہے اور نا صرف قرآن میں بلکہ سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی ملتا ہے تو اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی عام سا مقام و منصب نہیں ہے جو انہیں ایسے ہی مل گیا۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی خاص عطا کے ساتھ ان صحابہ کو اس شرف سے نوازا اور اس پوری امت کے انسانوں میں سے انہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چنا، کیوں کہ یہ اس امت کے سب سے بہترین لوگ تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ۔
”سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں پھر ان کے بعد وہ جو کہ ان سے ملیں گے (یعنی تابعین) اور پھر ان کے بعد وہ بہترین لوگ ہیں جو ان (تابعین) سے ملیں گے۔“ (صحیح بخاری:3651)
سبحان اللہ! انہی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حسن سند کے ساتھ منقول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ، فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ۔
”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کی طرف دیکھا تو سب سے بہترین دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا تو اسے اپنے لیے چن لیا اور انہیں رسالت دے کر مبعوث فرمایا، پھر اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بندوں کے دلوں کو دیکھا تو سب سے بہترین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پایا تو انہیں اپنے نبی کے وزراء بنا دیا جو اسکے دین کی خاطر قتال کرتے ہیں۔“ (مسند احمد:3600)
پھر ایک توجہ طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے فضائل بیان کیے تو یہ قید اور شرط نہیں رکھی کہ وہ جو میرے نبی کے رشتہ دار ہیں یا غیر رشتہ دار ہیں، فلاں اس فضیلت کا مستحق ہے اور فلاں محروم ہے۔ کیا آپ خیال کر سکتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اور صحابہ کہہ کر مراد صرف ان کو لیا ہے جو اہل بیت میں سے نہیں اور ان لوگوں کو مستثنیٰ کر دیا ہو جو کہ اہل بیت میں سے ہیں؟ ہرگز نہیں! بلکہ اس سے اہل بیت عظام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دونوں ہی مراد ہیں، کیونکہ ہیں تو دونوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص ساتھی۔ اور لفظ صحابی کا بھی تو یہی مطلب ہے کہ جو حالت ایمان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا۔ اور وہ اہل بیت بھی ہیں اور صحابہ کرام بھی (رضی اللہ عنہم)۔ لہٰذا کوئی اس وسوسے کا شکار نا ہو جائے کہ ہم ”دفاع صحابہ“ اور ”فضائل صحابہ“ کہہ کر مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر نسبی رشتہ دار لیتے ہیں اہل بیت کو نہیں۔ یہ تفریق ہی قرآنی اسلوب کے سراسر خلاف ہے۔ الحمد للہ! یہ شرف بھی ہمیں ہی حاصل ہے کہ ہم صحابہ و اہل بیت دونوں کی فضیلت اور مقام و مرتبے کو تسلیم کرتے ہیں اور ان دونوں کے معاملے میں افراط و تفریط کا شکار نہیں، کہ ایک کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کریں اور دوسرے طبقے کے فضائل کا انکار کریں، یا نعوذ باللہ بغض اور طعن و تشنیع والا ہی کوئی معاملہ کرتے ہیں۔ بلکہ اہل بیت اور صحابہ دونوں ہی ہماری آنکھوں کا نور ہیں، ہمارے سر کا تاج ہیں، یہ تمام ہی ہمارے محترم ہیں، ہم ان سے دل و جان سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں، اللہ ہمیں انکی محبت کے ساتھ ہی زندہ رکھے اور ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے۔
جب اللہ تعالیٰ نے صحابہ و اہل بیت کو خاص مقام اور فضیلت سے نوازا ہے تو ظاہری بات ہے ان کا احترام اور ادب بھی خاص ہوگا۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا۔
”میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔“ (مسند احمد:114)
ایک جگہ الفاظ ہیں:
أَكْرِمُوا أَصْحَابِي.
”میرے صحابہ کی عزت کرو۔“(السنن الکبریٰ للنسائی:9178)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خالد بن ولید اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے مابین کوئی معاملہ تھا تو خالد بن ولید نے عبدالرحمٰن بن عوف کو برا بھلا کہہ دیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے صحابہ میں سے کسی کو بھی برا بھلا مت کہو! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد غلے یا اس کے نصف کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“ (صحیح بخاری:3673، صحیح مسلم:6488 واللفظ لہ)
کسی حدیث میں نہیں آیا کہ صرف سابقین الاولین یا کبار صحابہ کو برا مت کہو، یا صرف اہل بیت کے متعلق آیا ہو کہ ان میں سے کسی کو بھی برا مت کہو، یا یہ کہا ہو کہ صرف ان صحابہ کو برا بھلا مت کہو جن سے کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں ہوئی، اگر کسی سے کوئی گناہ اور غلطی سرزد ہوئی ہے تو اس پر تنقید کر سکتے ہو، اس کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرنا جائز ہے۔ بلکہ حدیث کے الفاظ تو ہیں ”لَا تَسُبُّوا [أَحَدًا] مِنْ أَصْحَابِي“ کہ میرے صحابہ میں سے کسی [ایک کو بھی] برا بھلا مت کہو۔ لہٰذا ہماری بیان کردہ قرآنی آیات اور ان احادیث کا تقاضا ہے کہ ہم تمام صحابہ کرام سے محبت کریں، ان کا ادب و احترام کریں، ان کا تذکرہ بالخیر کریں، ان کے لیے دعائے رحمت کریں، ان پر زبانِ طعن دراز نا کی جائے اور ان کی گستاخی اور توہین سے بچا جائے۔ اور یہی ہماری دعوت ہے، یہی ہمارا منہج ہے اور یہی ہمارا مدعا ہے۔
❀ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَنْ تَنَقَّصَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ كَانَ فِي قَلْبِهِ عَلَيْهِمْ غِلٌّ فَلَيْسَ لَهُ حَقٌّ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ۔
”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک کی شان میں تنقیص کرے، یا اس کے دل میں ان حضرات کے بارے میں بغض ہو تو اس کے لیے مال فے میں کوئی حصہ نہیں۔“ (حلیۃ الاولیاء:6/327)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
إذا رأيت رجلا يذكر أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوء فاتهمه على الإسلام۔
”جب تم کسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کا ذکر برے الفاظ سے کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے اسلام پر تہمت لگاؤ۔“ (مناقب الامام احمد لابن الجوزي: ص216)
امام ابوبکر المروزی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ:
سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللّٰهِ وَذُكِرَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَحِمَهُمُ اللّٰهُ أَجْمَعِينَ۔
”میں نے امام ابوعبداللہ (احمد بن حنبل) رحمہ اللہ کو سنا کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ذکر کیا گیا، تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ ان تمام پر رحم فرمائے۔“(السنة للخلال:756)
امام ابوبکر المروزی رحمہ اللہ ہی بیان کرتے ہیں کہ:
قِيلَ لِأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ وَنَحْنُ بِالْعَسْكَرِ وَقَدْ جَاءَ بَعْضُ رُسُلِ الْخَلِيفَةِ وَهُوَ يَعْقُوبُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللّٰهِ، مَا تَقُولُ فِيمَا كَانَ مِنْ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ؟ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ: مَا أَقُولُ فِيهَا إِلَّا الْحُسْنَى، رَحِمَهُمُ اللّٰهُ أَجْمَعِينَ۔
”امام ابوعبداللہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ آپ کی سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے معاملے کے متعلق کیا رائے ہے؟ تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: میں تو اس بارے میں صرف خیر کی بات ہی کہتا ہوں! اللہ ان تمام صحابہ پر رحم فرمائے۔“(السنة للخلال:713)
امام ابوجعفر العقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: لِمَ لَمْ تَكْتُبْ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ؟ فَقَالَ: نَهَانِي أَبِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَيْهِ، فَكَانَ يَبْلُغُهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَنَاوَلَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
”میں نے عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ علی بن الجعد سے روایت کیوں نہیں لکھتے؟ تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: میرے والد (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) نے مجھے ان کے پاس جانے سے منع کیا ہے جب انہیں خبر ملی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا کہتا ہے۔“ (الضعفاء للعقیلی:1225)
❀ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے:
وَلَا نَذْكُرُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم إِلَّا بِخَيْرٍ۔
”اور ہم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر صرف اچھے الفاظ ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔“(الفقہ الاکبر: ص43)
فقہ حنفی کے ترجمان علامہ طحاوی رحمہ اللہ اپنی عقیدے پر مشتمل کتاب میں لکھتے ہیں:
وَنُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نُفَرِّطُ فِي حُبِّ أَحَدٍ مِنْهُمْ، وَلَا نَتَبَرَّأُ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ۔ وَنُبْغِضُ مَنْ يُبْغِضُهُمْ، وَبِغَيْرِ الْخَيْرِ يَذْكُرُهُمْ۔ وَلَا نَذْكُرُهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ۔
وَحُبُّهُمْ دِينٌ وَإِيمَانٌ وَإِحْسَانٌ، وَبُغْضُهُمْ كُفْرٌ وَنِفَاقٌ وَطُغْيَانٌ۔
”اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے محبت رکھتے ہیں، اور ہم ان میں سے کسی ایک کی محبت میں افراط (غلو/حد سے بڑھنے) والا معاملہ نہیں کرتے اور نا ہی ان میں سے کسی سے براءت کا اظہار کرتے ہیں، اور ہم ان سے بغض رکھنے والوں اور ان کا برائی کے ساتھ ذکر کرنے والوں سے بغض رکھتے ہیں۔ ہم ان کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ ہی کرتے ہیں، ان سے محبت رکھنا دین، ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔“(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:2/689)
❀ امام قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هَذَا قَوْلُ الْأَئِمَّةِ الْمَأْخُوذُ فِي الْإِسْلَامِ وَالسُّنَّةِ………. وَأَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ، وَالْكَفُّ عَنْ مَسَاوِئِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُذْكَرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِسُوءٍ، وَلَا يُنْتَقَصُ أَحَدٌ مِنْهُمْ۔
”یہ ائمہ اسلام و سنت کا قول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں، پھر سیدنا عمر اور ان کے بعد سیدنا عثمان افضل ہیں رضی اللہ عنہم، اور یہ کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب بیان نا کیے جائیں، اور ان میں سے کسی کا برے طریقے کے ساتھ ذکر نا کیا جائے اور نا ہی ان میں سے کسی کی تنقیص کی جائے۔“ (شعار اصحاب الحدیث:17)
❀ امام ابوبکر بن ابوداود السجستانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
وَقُلْ خَيْرَ قَوْلٍ فِي الصَّحَابَةِ كُلِّهِمْ وَلَا تَكُ طَعَّانًا تَعِيبُ وَتَجْرَحُ
فَقَدْ نَطَقَ الْوَحْيُ الْمُبِينُ بِفَضْلِهِمْ وَفِي الْفَتْحِ آيٌ فِي الصَّحَابَةِ تَمْدَحُ
”اور تمام صحابہ کے متعلق اچھی بات کہیے، اور ان پر طعن کرنے والے، ان کی عیب جوئی کرنے اور ان پر جرح کرنے والے مت بنئے۔ وحی الٰہی ان کے فضائل بیان کرتی ہے، اور سورت فتح کی آیات ان صحابہ کی تعریف کرتی ہیں۔“
پھر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
هَذَا قَوْلِي وَقَوْلُ أَبِي وَقَوْلُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَقَوْلُ مَنْ أَدْرَكْنَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَمَنْ لَمْ نُدْرِكْ مِمَّنْ بَلَغَنَا عَنْهُ۔
”یہ میرا، میرے والد (امام ابوداود)، اور امام احمد بن حنبل اور ان تمام اہل علم رحمہم اللہ کا قول ہے جنہیں میں نے پایا ہے اور ان اہل علم کا بھی جنہیں میں نے نہیں پایا۔“ (الشریعۃ للآجری:2075)
❀ امام ابوالقاسم اسماعیل الاصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال علماء السلف……..وخير النَّاس بعد رَسُول الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَبُو بكر، ثُمَّ عمر، ثُمَّ عُثْمَان ثُمَّ عَلِيٌّ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُم- وهم الْخُلَفَاء الراشدون المهديون، ويترحم على جَمِيع أَصْحَاب النَّبِي -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. وعَلى طَلْحَة، وَالزُّبَيْر، وَعَائِشَة، وعمار ابْن يَاسر، وَعَمْرو بن الْعَاصِ، وَأَصْحَاب الْجمل، وصفين -القاتلين والمقتولين- وَجَمِيع من قعد عَن الْقِتَال مثل: أُسَامَة بن زيد، وَابْن عمر -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا- وعَلى جَمِيع الْمُهَاجِرِين وَالْأَنْصَار. ونشهد أَن مُعَاوِيَة -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ- من أهل الْجنَّة۔
”علماء سلف کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر، پھر سیدنا عثمان اور اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہم، اور یہ خلفاء راشدین ہیں۔ اور اسلاف کا منہج یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے دعائے رحمت کی جائے، اور سیدنا طلحہ، زبیر، عائشہ، عمار بن یاسر، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے لیے بھی، اور اصحاب جمل و صفین والوں کے لیے بھی اور قاتلین و مقتولین کے لیے بھی، اور ان تمام صحابہ کے لیے بھی کہ جو لڑائی سے الگ رہے جیسا کہ سیدنا اسامہ بن زید اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ ہیں، اور تمام مہاجرین و انصار کے لیے بھی رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اہل جنت میں سے ہیں۔“ (الحجۃ فی بیان المحجۃ:2/281،282)
❀ امام شہاب بن خراش رحمہ اللہ نے فرمایا:
أدركت من أدركت من صدر هذه الأمة وهم يقولون اذكروا محاسن أصحاب رسول الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تأتلف عليه القلوب، ولا تذكروا الذي شجر بينهم فتحرشوا الناس عليهم۔
”میں نے اس امت کے جن ائمہ سے ملاقات کی ہے ان سب کا یہ کہنا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے محاسن بیان کرو تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا ہو، اور ان کے درمیان جو جنگیں ہوئیں ان کا تذکرہ مت کرو اس سے آپ لوگوں کو ان سے متنفر کر دیں گے۔“ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی:5/53)
❀ امام عبدالرحمٰن بن ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ السُّنَّةِ فِي أُصُولِ الدِّينِ ، وَمَا أَدْرَكَا عَلَيْهِ الْعُلَمَاءَ فِي جَمِيعِ الْأَمْصَارِ، وَمَا يَعْتَقِدَانِ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَا: أَدْرَكْنَا الْعُلَمَاءَ فِي جَمِيعِ الْأَمْصَارِ حِجَازًا وَعِرَاقًا وَشَامًا وَيَمَنًا فَكَانَ مِنْ مَذْهَبِهِمْ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَالْقُرْآنُ كَلَامُ اللّٰهِ غَيْرُ مَخْلُوقٍ بِجَمِيعِ جِهَاتِهِ، وَالْقَدَرُ خَيْرُهُ وَشَرُّهُ مِنَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَخَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ، وَهُمُ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِيُّونَ، وَأَنَّ الْعَشَرَةَ الَّذِينَ سَمَّاهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ لَهُمْ بِالْجَنَّةِ عَلَى مَا شَهِدَ بِهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلُهُ الْحَقُّ، وَالتَّرَحُّمُ عَلَى جَمِيعِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَالْكَفُّ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ۔
”میں نے اپنے والد (امام محمد بن ادریس ابوحاتم الرازی) اور امام ابوزرعہ الرازی رحمہما اللہ سے اصول الدین کے حوالے سے ائمہ اہل سنت کے موقف کے متعلق پوچھا، جس پر انہوں نے تمام شہروں کے علماء کو پایا ہے، تو ان دونوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ہم نے حجاز، عراق، شام، یمن اور تمام شہروں کے علماء کو پایا ہے، ان کا مذہب یہ تھا کہ: ایمان قول و فعل کا نام ہے اور ایمان بڑھتا اور کبھی کم بھی ہوتا ہے، اور قرآن اللہ کا کلام ہے کسی بھی جہت سے مخلوق نہیں، اور اچھی اور بری تقدیر دونوں اللہ عزوجل کی طرف سے ہی ہیں، اور نبی علیہ السلام کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس امت کی سب سے افضل ہستی ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ، ان کے بعد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں، علیہم السلام! اور یہ خلفاء راشدین ہیں، اور وہ دس صحابہ جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت سنائی ہے وہ جنتی ہیں اور آپ علیہ السلام کا فرمان حق ہے، اور تمام اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحمت کی دعا کی جائے اور ان کے باہمی تنازعات میں بالکل خاموشی اختیار کی جائے۔“ (شرح اصول اعتقاد:1/197، رسالہ: اصل السنۃ واعتقاد الدین)
اہل سنت سے مراد موجودہ دور میں خود کو اہل سنت کہلوانے والا گروہ نہیں ہے بلکہ اہل سنت کے منہج سے مراد اسلاف امت اور ائمہ و محدثین کا منہج ہے۔
❀ امام ابوعثمان اسماعیل صابونی رحمہ اللہ:
ويرون الكف عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، وتطهير الألسنة عن ذكر ما يتضمن عيباً لهم ونقصاً فيهم، ويرون الترحم على جميعهم والموالاة لكافتهم۔
”اور سلف صالحین کہتے ہیں کہ مشاجرات صحابہ کے حوالے سے خاموش رہا جائے، اور ایسی باتوں سے اپنی زبانوں کو پاک رکھا جائے کہ جن سے ان صحابہ پر عیب اور تنقیص لازم آتی ہے، اور تمام صحابہ کے لیے دعائے رحمت کی جائے اور ان سب کو دوست رکھا جائے۔“ (عقیدۃ السلف واصحاب الحدیث: ص93)
❀ ”الاعتقاد القادري“ بھی ائمہ اہل سنت کے عقائد پر مشتمل ایک عمدہ رسالہ ہے، اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
ويجب أن يحب الصحابة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كلهم ونعلم أنهم خير الخلق بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأن خيرهم كلهم وأفضلهم بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر الصديق ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ثم علي بن أبي طالب رضي الله عنهم ويشهد للعشرة بالجنة ويترحم على أزواج رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن سب سيدتنا عائشة رضي الله عنها فلا حظ له في الإسلام ولا يقول في معاوية رضي الله عنه إلا خيرا ولا يدخل في شيء شجر بينهم ويترحم على جماعتهم۔
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سے محبت رکھنا واجب ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کا سب سے افضل طبقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جانتے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان اور اس کے بعد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ہیں۔ دس صحابہ کرام کے متعلق جنت کی گواہی دینی چاہیے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے رحمت کی دعا کی جائے، اور جس نے ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہا تو اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق خیر کے سوا کچھ نا کہا جائے، اور ان صحابہ کے باہمی اختلافات میں دخل نہیں دینا چاہیے، اور ان تمام کے لیے رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔“ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم:15/281)
❀ امام ابوعبداللہ ابن ابی زمنین رحمہ اللہ:
وَمِنْ قَوْلِ أَهْلِ السُّنَّةِ أَنْ يَعْتَقِدَ الْمَرْءُ الْمَحَبَّةَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْ يَنْشُرَ مَحَاسِنَهُمْ وَفَضَائِلَهُمْ، وَيُمْسِكَ عَنِ الْخَوْضِ فِيمَا دَارَ بَيْنَهُمْ۔
”اہل سنت کا منہج ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے محبت رکھی جائے، اور ان کے فضائل و محاسن بیان کیے جائیں، اور ان کے آپس کے معاملات میں خاموشی اختیار کی جائے۔“ (اصول السنۃ: ص263)
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا:
وكل من يشتم عُثْمَان أَو طَلْحَة أَو أحدا من أَصْحَاب النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم دجال لَا يكْتب عَنهُ وَعَلِيهِ لعنة الله وَالْمَلَائِكَة وَالنَّاس أَجْمَعِينَ۔
”ہر وہ شخص جو سیدنا عثمان، طلحہ یا کسی بھی صحابی کو گالی دے تو وہ دجال ہے اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی اور اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“ (تاریخ ابن معین روایۃ الدوري:2670)
❀ امام ابوالحسن الاشعری رحمہ اللہ:
وكل الصحابة أئمة مأمونون غير متهمين في الدين، وقد أثنى الله ورسوله على جميعهم، وتعبدنا بتوقيرهم وتعظيمهم وموالاتهم، والتبري من كل من ينقص أحدا منهم رضي الله عنهم أجمعين۔
”تمام کے تمام صحابہ ہی امام اور مامون (امت کے لئے امن کا باعث) ہیں، دین کے معاملے میں بالکل قابل اعتماد شخصیات ہیں، اللہ اور اس کے رسول نے ان تمام کی تعریف کی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی تعظیم کریں اور ان سے محبت رکھیں اور ہر اس شخص سے برأت کا اعلان کریں جو ان صحابہ میں سے کسی ایک کی بھی تنقیص کرے، رضی اللہ عنہم۔“ (الابانۃ عن أصول الدیانۃ:1/260)
❀ امام عبیداللہ بن سعید السجزی رحمہ اللہ:
وكل من تنقص عثمان أو علياً وعائشة ومعاوية وأبا موسى وعمرو بن العاص رضي الله عنهم فهو خارجي ومن تنقص بعضهم ولم يتنقص عثمان وعلياً فهو ضال على أي مذهب كان۔
”جو شخص بھی سیدنا عثمان یا علی، عائشہ، معاویہ، ابوموسیٰ اشعری، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی گستاخی کرے تو وہ خارجی ہے۔ اور جو ان میں سے بعض کی گستاخی کرے اور سیدنا عثمان و علی رضی اللہ عنہما کی توہین نا کرے تو وہ بھی گمراہ ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔“ (رسالۃ السجزي إلی أهل زبید: ص335، 336)
❀ امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ کے ارشادات:
أُمِرْنَا بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُمْ وَالتَّرَحُّمِ عَلَيْهِمْ وَالْمَحَبَّةِ لَهُمْ وَالِاتِّبَاعِ لَهُمْ، دَلَّ عَلَى ذَلِكَ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَقَوْلُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ…….مَنْ جَاءَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَطْعَنَ فِي بَعْضِهِمْ وَيَهْوَى بَعْضَهُمْ وَيَذُمَّ بَعْضًا وَيَمْدَحَ بَعْضًا فَهَذَا رَجُلٌ طَالِبُ فِتْنَةٍ وَفِي الْفِتْنَةِ وَقَعَ؛ لِأَنَّهُ وَاجِبٌ عَلَيْهِ مَحَبَّةُ الْجَمِيعِ وَالِاسْتِغْفَارُ لِلْجَمِيعِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَنَفَعَنَا بِحُبِّهِمْ۔
”ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا اور ان سے محبت کرنے اور ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس پر کتاب و سنت اور ائمہ مسلمین کے اقوال دلالت کرتے ہیں۔ جو شخص اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے بعض پر طعن کرے اور بعض کی تعریف کرے، بعض کی مذمت کرے اور کچھ کی مدح کرے پس ایسا شخص فتنہ پرور ہے، کیونکہ اس پر تو ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت واجب تھی، اور تمام کے لیے دعائے استغفار کرنا بھی، اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کی محبت کے ذریعے مستفید کرے۔“ (الشریعۃ للآجری: 5/2485)
اور فرمایا:
لَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ مَنْ أَصْبَحَ وَأَمْسَى وَفِي قَلْبِهِ بُغْضٌ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا أَوْ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ وَنَفَعَنَا بِحُبِّهِمْ۔
”یقیناً ایسا شخص ذلیل و رسوا ہوا جس نے صبح اور رات اس حال میں کی کہ اس کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کے لیے بھی بغض ہو، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کے لیے بغض ہو۔ اللہ ان تمام ہستیوں سے راضی ہو اور ہمیں ان کی محبت کے ذریعے فائدہ بخشے۔(الشریعۃ للآجری:1909)
❀ علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ کے فرامین:
وسب أصحاب النبي عليه السلام وتنقصهم أو أحد منهم من الكبائر المحرمة۔
”اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو برا بھلا کہنا، یا ان کی گستاخی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“ (اکمال المعلم:7/580)
مزید فرمایا:
وَسَبّ آل بَيْتِه وَأزْوَاجِه وَأصْحَابِه صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّم وَتَنقّصُهُم حَرَام مَلْعُون فاعِلُه۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت یا آپ علیہ السلام کی بیویوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا کہنا یا ان کی توہین کرنا حرام ہے اور ایسا کرنے والا ملعون ہے۔“(الشفاء:2/307)
ایک جگہ فرماتے ہیں:
وَمِن تَوْقِيرِه وَبِرّه صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّم تَوْقِير أصْحَابِه وَبِرُّهُم وَمَعْرِفَة حَقّهِم وَالاقْتِدَاء بِهِم وَحُسْن الثَّنَاء عَلَيْهِم وَالاسْتِغْفَار لَهُم وَالإمْسَاك عَمَّا شَجَر بَيْنَهُم وَمُعَادَاة من عَادَاهُم وَالإضْرَاب عَن أخْبَار الْمُؤَرّخِين وَجَهَلَة الرُّوَاة وَضُلَّال الشّيعَة وَالْمُبْتَدِعِين الْقَادِحَة فِي أحد مِنْهُم وَأن يُلْتَمَس لَهُم فِيمَا نُقِل عَنْهُم من مِثْل ذَلِك فِيمَا كَان بَيْنَهُم مِن الْفِتَن أحْسَن التَّأْوِيلات وَيُخَرّج لَهُم أصْوَب الْمَخَارِج إذ هُم أهْل ذَلِك وَلَا يُذْكَر أحد مِنْهُم بِسُوء وَلَا يُغْمَص عَلَيْه أمْر بل نذكر حَسَنَاتِهِم وَفَضَائِلَهُم وَحَمِيد سِيَرِهِم وَيُسْكَت عَمَّا وَرَاء ذَلِك۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا احترام کیا جائے اور ان کے معاملے میں اچھا رویہ رکھا جائے، ان کے حق کو پہچانا جائے، ان کی پیروی کی جائے، ان کی اچھی تعریف کی جائے، اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنی چاہیے، اور مشاجرات صحابہ کے حوالے سے خاموش رہا جائے، اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے۔ مؤرخین، جاہل راویوں اور گمراہ قسم کے شیعہ اور بدعتیوں کی روایات سے اعراض کرنا چاہیے کہ جن سے ان صحابہ میں سے کسی ایک پر بھی حرف آتا ہے۔ اور فتنے کے دور کی جو روایات ان کے باہمی تنازعات کو بیان کرتی ہیں ان کی بہتر اور جائز تاویلات بیان کی جائیں اور ان کا بھرپور دفاع کیا جائے کیونکہ وہ اسی کے مستحق ہیں۔ اور ان میں سے کسی ایک کا بھی برائی سے ذکر نا کیا جائے اور نا کسی معاملے میں ان پر عیب لگایا جائے، بلکہ ہمیں ان کے فضائل، حسنات اور نیک سیرت بیان کرنی چاہیے اور اس کے علاوہ خاموش رہنا چاہیے۔“(الشفاء:2/52)
❀ امام ابوزکریا النووی رحمہ اللہ نے فرمایا:
وَمَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْحَقِّ إِحْسَانُ الظَّنِّ بِهِمْ وَالْإِمْسَاكُ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ وَتَأْوِيلُ قِتَالِهِمْ وَأَنَّهُمْ مُجْتَهِدُونَ مُتَأَوِّلُونَ لَمْ يَقْصِدُوا مَعْصِيَةً وَلَا مَحْضَ الدُّنْيَا بَلِ اعْتَقَدَ كُلُّ فَرِيقٍ أَنَّهُ الْمُحِقُّ وَمُخَالِفُهُ بَاغٍ…….
”اہل سنت کا مذہب اور حق بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حسن ظن رکھا جائے، اور جو ان کے مابین لڑائیاں ہوئیں اس معاملے میں بالکل خاموشی اختیار کرنی چاہیے، وہ مجتہدین تھے، ان کا مقصد گناہ اور دنیاوی مال و متاع حاصل کرنا بالکل نا تھا، بلکہ ہر گروہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ حق پر ہے اور مخالف باغی ہے۔“ (شرح النووی علی مسلم:18/11)
اور فرمایا:
وَاعْلَمْ أَنَّ سَبَّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ حَرَامٌ مِنْ فَوَاحِشِ الْمُحَرَّمَاتِ۔
”اور جان لو کہ صحابہ کرام کو برا بھلا کہنا سخت حرام ہے۔“ (شرح النووی:16/93)
❀ علامہ شمس الدین القرطبی رحمہ اللہ:
فَمَنْ نَقَّصَ وَاحِدًا مِنْهُمْ أَوْ طَعَنَ عَلَيْهِ فِي رِوَايَتِهِ فَقَدْ رَدَّ عَلَى اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَأَبْطَلَ شَرَائِعَ الْمُسْلِمِينَ۔
”جس نے ان صحابہ میں سے کسی ایک کی بھی تنقیص کی، یا روایت کے معاملے میں اسے مطعون کیا پس تحقیق اس نے اللہ رب العالمین پر رد کیا اور مسلمانوں کے شرعی احکام کو باطل ٹھہرایا۔“ (تفسیر القرطبی:16/297)
❀ امام ابومحمد ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ:
ومن السنة تولي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومحبتهم وذكر محاسنهم، والترحم عليهم، والاستغفار لهم والكف عن ذكر مساوئهم وما شجر بينهم. واعتقاد فضلهم ومعرفة سابقتهم۔
”یہ بھی سنت میں سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دوست رکھا جائے، ان سے محبت کی جائے، ان کے محاسن بیان کیے جائیں، اور ان کے لیے رحمت اور استغفار کی دعا کی جائے، ان کے عیوب اور باہمی تنازعات کو بیان نا کیا جائے، اور ان کی فضیلت، معرفت اور اسلام میں ان کی سبقت کا عقیدہ رکھا جائے۔“ (لمعۃ الاعتقاد: ص39)
❀ امام شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أمّا من تعرّض إلى أحد من الصحابة بسب فهو شيعي غال نبرأ منه، ومن تعرض لأبي بكر وعمر فهو رافضي خبيث حمار۔
”جو کسی ایک بھی صحابی کو برا کہے تو وہ غالی شیعہ ہے، ہم اس سے بری ہیں، اور جو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے درپے ہوا تو وہ خبیث رافضی ہے، گدھا ہے۔“ (تاریخ الاسلام:5/146)
اور ایک جگہ فرمایا:
بَلْ سَبِيلُنَا أَنْ نَسْتَغْفِرَ لِلْكُلِّ، وَنُحِبُّهُمْ، وَنَكُفَّ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ۔
”بلکہ ہمارا منہج یہ ہے کہ تمام صحابہ کے لیے بخشش کی دعا کی جائے، اور ان تمام سے محبت رکھی جائے، اور ان کے باہمی اختلافات کے معاملے میں خاموش رہا جائے۔“(سیر اعلام النبلاء:7/370)
نیز فرمایا:
من ذم أَصْحَاب رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بِشَيْء وتتبع عثراتهم وَذكر عَيْبا وأضافه إِلَيْهِم كَانَ منافقاً۔
”جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا کہے، اور ان کی لغزشوں کے پیچھے پڑے، اور ان کی عیب جوئی کرے تو وہ منافق ہے۔“(الکبائر: ص238، 239)
❀ امام احمد بن تیمیہ رحمہ اللہ:
وَمِنْ أُصُولِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ: سَلَامَةُ قُلُوبِهِمْ وَأَلْسِنَتِهِمْ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
”اہل سنت والجماعت کے عقائد میں سے ہے کہ اپنے دلوں اور زبانوں کو اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پاک رکھا جائے۔“ (مجموع الفتاوی:3/152)
اور فرمایا:
وهذا مما لا نعلم فيه خلافا بين أهل الفقه والعلم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم والتابعين لهم بإحسان وسائر أهل السنة والجماعة فإنهم مجمعون على أن الواجب الثناء عليهم والاستغفار لهم والترحم عليهم والترضي عنهم واعتقاد محبتهم وموالاتهم وعقوبة من أساء فيهم القول۔
”ہم اس معاملے میں صحابہ و تابعین میں سے اہل العلم والفقہ اور تمام اہل سنت والجماعت کا کوئی اختلاف نہیں جانتے، ان سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف کی جائے اور ان کے لیے استغفار اور رحمت کی دعا طلب کرنی چاہیے، اور ان سے راضی رہنا چاہیے، ان سے محبت اور دوستی کا عقیدہ رکھنا چاہیے، اور ایسے شخص کو جو ان کے متعلق برا نظریہ رکھتا ہو سزا دینی چاہیے۔“(الصارم المسلول: ص578)
❀ علامہ غزالی رحمہ اللہ:
واعتقاد أهل السنة تزكية جميع الصحابة والثناء عليهم كما أثنى الله سبحانه وتعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم۔
”اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تزکیہ کیا جائے، ان کی تعریف کی جائے کہ جس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کی ہے۔“(احیاء العلوم:1/115)
❀ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ:
واتفق أهل السنة على وجوب الكف عما شجر بينهم، والإمساك عن مساوئهم، وإظهار فضائلهم ومحاسنهم۔
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی تنازعات کے معاملے میں اور ان کے عیوب اور غلطیوں کے حوالے سے خاموش رہنے کے وجوب پر اہل سنت کا اتفاق ہے، اور ان کے فضائل و محاسن بیان کرنے پر بھی۔“ (غنیۃ الطالبین:1/163)
❀ امام احمد بن حجر عسقلانی رحمہ اللہ:
وَاتَّفَقَ أَهْلُ السُّنَّةِ عَلَى وُجُوبِ مَنْعِ الطَّعْنِ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بِسَبَبِ مَا وَقَعَ لَهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَلَوْ عَرَفَ الْمُحِقَّ مِنْهُمْ لِأَنَّهُمْ لَمْ يُقَاتِلُوا فِي تِلْكَ الْحُرُوبِ إِلَّا عَنِ اجْتِهَادٍ وَقَدْ عَفَا اللّٰهُ تَعَالَى عَنِ الْمُخْطِئِ فِي الِاجْتِهَادِ بَلْ ثَبَتَ أَنَّهُ يُؤْجَرُ أَجْرًا وَاحِدًا وَأَنَّ الْمُصِيبَ يُؤْجَرُ أَجْرَيْنِ۔
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی تنازعات کو لے کر ان میں سے کسی ایک پر بھی طعن کرنے کی ممانعت پر اہل السنہ کا اجماع ہے، اگرچہ کوئی ان میں سے ایک فریق کو حق پر جانتا ہو (پھر بھی فریق ثانی پر طعن کرنا ناجائز ہے) کیونکہ وہ اجتہاد کرتے ہوئے لڑے تھے (کہ میں حق پر ہوں اور مخالف غلط ہے)، اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے اجتہادی معاملے میں غلطی کرنے والے کو معاف کر دیا ہے بلکہ اسے ایک اجر کا مستحق رکھا ہے اور درستگی کو پہنچنے والے کو دوہرے اجر سے نوازا ہے۔“ (فتح الباری:13/34)
❀ علامہ ابن حجر المکی رحمہ اللہ:
اعْلَم أَن الَّذِي أجمع عَلَيْهِ أهل السّنة وَالْجَمَاعَة أَنه يجب على كل أحد تَزْكِيَة جَمِيع الصَّحَابَة بِإِثْبَات الْعَدَالَة لَهُم والكف عَن الطعْن فيهم وَالثنَاء عليهم۔
”جان لو کہ جس بات پر اہل السنۃ والجماعۃ کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص پر تمام صحابہ کا تزکیہ واجب ہے، اور یہ کہ ان پر طعن کرنے سے رک کے رہنا چاہیے اور ان کی تعریف کرنی چاہیے۔“ (الصواعق المحرقۃ:2/603)
❀ علامہ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأجمع أهل السنة على السكوت عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم. ولا يقال فيهم إلا الحسنى. فمن تكلم في معاوية أو غيره من الصحابة فقد خرج عن الإجماع۔
”اہل سنت کا اجماع ہے کہ مشاجرات صحابہ میں خاموش رہنا چاہیے، ان کے بارے میں صرف اچھی بات کہنی چاہیے۔ پس جو شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی بھی صحابی کے خلاف بولا وہ اجماع سے خارج ہے۔“ (مختصر سیرۃ الرسول: ص317)
یہ تو ہے سلف صالحین اور اہل سنت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق مؤقف اور اتفاقی منہج۔ لیکن دوسری طرف صحابہ پر طعن و تشنیع کرنے والے اور ان سے بغض رکھنے والے دو قسم کے گروہ ہیں ”روافض“ اور ”نواصب“۔ روافض اہل بیت کی آڑ میں ابوبکر و عمر اور عثمان سمیت دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کرتے ہیں بلکہ انہیں منافق، کافر اور مرتد تک بھی کہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ناصبی حضرات اہل بیت یا ان میں سے بعض سے بغض رکھتے اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور دیگر صحابہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں فرقے ہی پرلے درجے کے گمراہ اور بدبخت ہیں اور قرآن و حدیث کے مخالف ہیں۔ اور بعض لوگوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو اہل سنت تو کہتے ہیں اور بظاہر ان دونوں گروہوں سے براءت کا اظہار کرتے ہیں اور خود کو محب صحابہ قرار دیتے ہیں، اور وہ واضح اور دوٹوک الفاظ میں صحابہ پر تنقید نہیں کرتے بلکہ کچھ چیزوں کو پکڑ کر بعض صحابہ پر اعتراضات کرتے اور ڈھکے چھپے الفاظ کے ساتھ ان پر تنقید کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض صحابہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے کچھ واقعات اور روایات کا سہارا لیتے ہیں، انہیں اپنا معنی و مفہوم پہناتے اور ان کی نشر و اشاعت کر کے ان مخصوص صحابہ کرام پر زبان درازی اور توہین کی راہیں ہموار کرتے ہیں، اس سے وہ صحابہ کے متعلق برا تاثر عام کرتے، لوگوں کو ان سے متنفر اور بدظن کرتے اور ان صحابہ کے حوالے سے عوام الناس کے دلوں کو میلا کرتے ہیں۔ دور حاضر میں اس قسم کے لوگوں میں سے ایک نمایاں شخصیت ”انجینئر محمد علی مرزا“ ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے آپ سلف صالحین اور ائمہ دین کے منہج سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں۔ پیچھے ہم نے ائمہ اسلام کے جتنے بھی اقوال ذکر کیے ہیں آپ ان سب کے منکر اور مخالف ہیں۔ بظاہر نام تو آپ بخاری و مسلم اور اہل سنت کی کتابوں کا لیتے ہیں، لیکن حقیقت میں آپ انہی ائمہ کے طریقے اور ان کی تعلیمات سے منحرف ہیں۔
آپ کوئی مستند اور معتبر علمی شخصیت نہیں، ان کا شعبہ انجینئرنگ ہے اور انہوں نے باقاعدہ کسی دینی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی، نیز ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کسی بھی مذہبی جماعت اور مسلک سے تعلق نہیں رکھتے۔ موصوف شروع سے بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے اور تقریباً تیس سال بریلوی رہے، پھر کچھ عرصہ دیوبندی رہے، پھر تحقیق کرتے کرتے انہیں احساس ہوا کہ اہل حدیث کی دعوت اور منہج ہی حق پر ہے اور آج تک آپ واضح الفاظ میں یہ کہتے آ رہے ہیں کہ اہل حدیث کا منہج سو فیصد درست ہے۔ ٹھوکر انہیں یہاں پر لگی کہ یہ اہل حدیث کو بھی ایک فرقہ سمجھتے تھے (جبکہ قرآن و حدیث میں تو فرقوں میں بٹنے کی ممانعت آئی ہے)، لہٰذا انہوں نے خود کو اہل حدیث کہلوانا بھی ختم کر دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اہل حدیث کوئی فرقہ بالکل بھی نہیں ہے، اس تفصیل کا یہ محل تو نہیں لیکن اتنا ضرور کہتے چلیں کہ ایک طرف آپ خود ہی اہل حدیث کے منہج کو سو فیصد درست قرار دیتے ہیں تو اگر اہل حدیث بذات خود ایک فرقہ ہے تو ان کا منہج سو فیصد
درست کیسے ہوا؟ اس سے تو ان کے منہج میں نقص واقع ہونا چاہیے تھا۔
ہمیں انجینئر صاحب سے کئی معاملات میں اختلاف ہے، لیکن ایک بنیادی اختلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہستیوں کو لے کر ہے۔ یہ حق گوئی کے نام پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر الزامات لگاتے اور ان کے متعلق زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔ اہل حدیث کی تحریرات اور ویڈیوز اس بات پر شاہد ہیں کہ ان کے اعتراضات اور گستاخیوں کا اگر سب سے بہترین، مدلل اور کافی وشافی جواب اگر کسی نے انہیں دیا ہے تو وہ اہل حدیث ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج انجینئر صاحب اہل حدیث کے سخت خلاف ہیں، انہیں برا بھلا کہتے ہیں اور مزید دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے انہیں ناصبی ناصبی کہتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اہل حدیث سب سے پہلے ناصبیت کے مخالف ہیں، اور ان سے براءت کا اعلان کرتے ہیں۔ ہمارا صحابہ کرام واہل بیت کے حوالے سے وہی منہج ہے جو قرآن وحدیث میں آیا ہے کہ صحابہ کے فضائل ومحاسن بیان کیے جائیں، ان میں سے کسی ایک کی بھی گستاخی اور توہین نا کی جائے، ان کی غلطیاں اپنی جگہ لیکن ان میں سے کسی کی غلطی کو لے کر ان پر تنقید ہرگز نا کی جائے اور نا ہی ان پر جھوٹے الزامات لگائے جائیں، بس ہمارا یہی قصور ہے! حالانکہ یہی محدثین کا اجماعی اور اتفاقی منہج رہا ہے جیسا کہ ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں۔
رہا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کا اہل حق کو ناصبی (اہل بیت کے دشمن) کہنا تو یہ ان کی عادتِ بد ہے کہ یہ اہل بیت کے دفاع کا نام لے کر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن وتشنیع کرتے ہیں اور جو ان کا علمی رد کرتے ہیں انہیں یہ ناصبی ہونے کے طعنے دیتے ہیں، امام ابوزرعہ الرازی اور امام ابوحاتم الرازی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تمام اہل علم کو اس بات پر متفق پایا ہے کہ:
وَعَلَامَةُ الرَّافِضَةِ تَسْمِيَتُهُمْ أَهْلَ السُّنَّةِ نَاصِبَةً۔
”رافضیوں (صحابہ کے دشمنوں) کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں۔“ (شرح اصول اعتقاد: 1/197، رسالہ: اصل السنة واعتقاد الدین)
علامہ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے بھی رافضیوں کی یہ علامت ذکر کی ہے کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے اہل الحدیث کو ناصبی کہتے ہیں۔ (غنیۃ الطالبین: 1:166)
یاد رہے مرزا صاحب نے کئی مقامات پر محدثین کو بھی ناصبی قرار دے رکھا ہے اور جس چیز کو انجینئر صاحب آج ناصبیت کہتے ہیں اس حساب سے یہ خود بھی ناصبی رہ چکے ہیں۔ انجینئر صاحب پہلے پہل اس طرح بالکل نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کا منہج اہل سنت اور محدثین کے اتفاقی منہج ہی کے موافق تھا، یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کی تعظیم اور ان کا احترام کرتے، تمام کا تذکرہ بالخیر کرتے، ان تمام سے محبت کے دعوے دار تھے، اور ان کی گستاخی اور توہین سے گریز کرتے، بلکہ ہر ایسی بات سے بچتے جو ان کے خلاف غلط تاثر پیدا کر سکے۔ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا لحاظ کرتے، ان کے نام کے ساتھ ”سیدنا“ لگاتے، ان کے فضائل ومحاسن کا اقرار کرتے، اور قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کو لے کر جو صحابہ کے مابین اختلاف واقع ہوا اسے مبنی بر اجتہاد ہی قرار دیتے جو کہ اسلاف امت، تمام ائمہ ومحدثین، فقہاء اور مؤرخین کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے باقاعدہ ایک رسالہ ”رافضیت، ناصبیت اور یزیدیت کا تحقیقی جائزہ“ بھی تحریر فرمایا تھا جس کی تعلیمات سے آج یہ خود منحرف ہیں، آپ نے اس مقالے کا پہلا عنوان ہی یہ قائم کیا کہ:
”رافضیت کا رد: اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ قابل احترام ہیں۔“
اور اپنی اسی تحریر میں یہ لکھا کہ:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی غلطی اجتہادی تھی۔“
نیز اپنی قدیم ویڈیوز میں معروف اصطلاح ”پنج تن پاک“ کے بیان میں یہ بھی کہا کرتے کہ صرف یہی نہیں بلکہ تمام صحابہ ہی پاک ہیں۔ (مسئلہ نمبر: 66، دورانیہ- 10:50)
لیکن جب انجینئر صاحب نے اپنے قدم جما لیے اور لوگوں کو اپنے قریب کر لیا تو آہستہ آہستہ یہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اپنے خبث باطن کا اظہار اور ان پر زبان درازی کرنے لگے۔ کبھی کہتے ہیں مجھے پہلے ان حقائق کا علم نہیں تھا، تو کبھی یہ بہانہ بناتے ہیں کہ مجھے ان باتوں کا علم تو تھا لیکن مصلحت کے تحت کھل کر بیان نہیں کرتا تھا۔ جو مرزا صاحب کے اس فریب، مکاری اور دوغلی پالیسیوں کو سمجھ گیا وہ کبھی بھی ان کے جھانسے میں نہیں آ سکتا۔ دھوکے باز اور جھوٹے انسان کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ پہلے کچھ کہتا ہے بعد میں کچھ، ایک جگہ اس کا بیان اور ہوتا ہے اور دوسری جگہ اور، اس کتاب میں آپ کو انجینئر صاحب کی اسی قسم کی تضاد بیانیوں کی کئی ایک مثالیں دیکھنے کو ملیں گی۔
کوئی بھی گستاخ یہ نہیں کہتا کہ میں گستاخ ہوں، ابوبکر وعمر وعثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر، فاسق، بدعتی اور مرتد کہنے والے بھی یہ بالکل نہیں کہتے کہ ہم ان ہستیوں کی توہین کر رہے ہیں بلکہ وہ بھی بہانے بازی کے ساتھ اور باتیں گھماتے ہوئے اپنے باطل نظریات اور گندے مقاصد کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ہر دھوکے باز اور فتنہ پرور انسان اپنی باتوں کے جادو اور لفظوں کے جال میں پھنساتا ہے، سبز باغ دکھاتا ہے، اچھی اچھی باتیں کرتا ہے، خود کو مصلح باور کراتا ہے۔ مرزا انجینئر صاحب صحابہ پر اعتراضات کرنے اور ان پر تنقید کے دروازے کھولنے کے لیے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے ایک بہانہ یہ پیش کیا کرتے ہیں کہ میں کوئی گستاخی اور طعن نہیں کرتا بلکہ میں تو صرف ان کی غلطی ہی بیان کرتا ہوں، یہ کسی پر تنقید کرنا توہین نہیں کہلاتا، قرآن بھی تو انبیاء کی غلطیوں کا ذکر کرتا ہے۔
دیکھیں! صحابہ بھی انسان تھے ان سے بھی خطائیں سرزد ہوئیں، ہم ان کی غلطیوں کا جھوٹا دفاع بالکل نہیں کرتے نا ہی باطل تاویلات کرتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بات غلطی بیان کرنے کی نہیں بلکہ غلطی بیان کرنے کے نام پر غلط بیانی اور الزام تراشی کی ہے، اور اس کی آڑ میں ان صحابہ پر طعن وتشنیع کرنے کی ہے۔ جسے یہ غلطی بنا کر پیش کر رہے ہوتے ہیں بات ویسی ہوتی ہی نہیں، بلکہ روایت اور حوالے میں اپنی تحریفات کے ذریعے قصے میں رنگ بھرے جاتے ہیں، بات کو کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے۔ یا سیاق وسباق اور پس منظر سے ہٹ کر بات کی جاتی ہے، اور اس حوالے سے تمام مثبت پہلوؤں کو چھپایا جاتا ہے۔ اور روافض بھی بالکل اسی طرح کسی روایت اور حوالے کو پکڑ کر غلط رزلٹ نکالتے ہیں، مرزا انجینئر صاحب حسن اللہیاری کے متعلق کہتے ہیں:
”مثلاً آج کل ایک غالی رافضی باہر کے ملک میں بیٹھ کے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح بخاری سے کچھ باتیں بیان کر رہا ہے، وہ باتیں تو ٹھیک بیان کر رہا ہے (لیکن) اس کے بعد جو رزلٹ نکال رہا ہے وہ غلط ہے۔“
Hazrat USMAN SHAHEED kewn hoay? Issues in KHELAFAT Vs Fazail – 25:03
”باتیں ٹھیک کر رہا ہے“ حالانکہ اس رافضی کی پہلی اور آخری بات یہ ہوتی ہے کہ ابوبکر وعمر کافر ہیں انہیں مسلمان ثابت کر کے دکھاؤ۔ یہ ہے مرزا صاحب کی حق گوئی، صحابہ کی غلطیاں بیان کریں گے حق گوئی کہہ کر، محدثین پر کیچڑ اچھالیں گے حق گوئی کے نام پر، reply to فلاں اور reply to فلاں کے نام سے ان کی سینکڑوں ویڈیوز موجود ہیں لیکن ان کے official چینل پر دیکھیں کہیں اس رافضی کے جواب میں باقاعدہ کوئی ایک ویڈیو بھی ملتی ہے؟ جواب دینے کی بجائے ان کی تائید کی جاتی ہے کہ جی باتیں تو ٹھیک کرتے ہیں۔ اور رہا روایات سے غلط رزلٹ نکالنا، تو بھائی آپ اور کیا کر رہے ہیں؟ آپ بھی تو ان کی طرح روایات میں ضربیں تقسیمیں لگا کر غلط رزلٹ نکالتے ہیں اور صحابہ کے خلاف غلط تاثر عام کرتے ہیں۔ بلکہ آپ تو ان سے بھی زیادہ ماہر انسان ہیں، خود یہ ایک جگہ اپنے اس روایتی ہنر کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”اس طرح سے اگر جھوٹی سٹوری بنانی ہو تو میں بڑی فٹ قسم کی سٹوری بنا کر ایک فلم بنا سکتا ہوں۔“
Masla 157, part 2 – 52:20
یہ تو ”بنا سکتا ہوں“ پر بات کر رہے ہیں لیکن ہم ثابت کریں گے کہ یہ سٹوریاں بنا کر فلمیں بناتے بھی ہیں۔ روایت کو آگے رکھ کر اس میں اپنی طرف سے باتیں گھسیڑتے ہیں، یا کبھی کہیں سے ایک بات پکڑ کر کسی روایت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ یا پھر سرے ہی سے ان کے بیان کردہ حوالے میں ایسی کوئی بات ہوتی ہی نہیں جو یہ اس روایت کا نام لے کر بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ یا بعض دفعہ بغیر کسی دلیل اور ریفرنس کے کسی صحابی کے خلاف مدعا کھڑا کیا گیا ہوتا ہے، یا پھر ان صحابہ کے متعلق منفی تاثر عام کرنے کے لیے جھوٹی، من گھڑت، جعلی اور ضعیف قسم کی روایات کو مزے لے لے کر بیان کیا جاتا ہے جو کہ خود ان کے اپنے بیان کردہ اصولوں کے مطابق جعلی اور ضعیف ہوتی ہیں۔
اگر کوئی غلطی واقعی ان سے ثابت ہوتی بھی ہے تو یہ کہنا سو فیصد جھوٹ ہے کہ میں صرف غلطی بیان کرتا ہوں، ان صحابہ سے بغض نہیں رکھتا اور نا ہی گستاخی والا کوئی معاملہ ہے۔ مرزا صاحب سمیت تمام گستاخ صحابہ یہی بہانہ بنا کر اپنی دکان چلاتے ہیں لیکن حقیقت میں مقصد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین اور تذلیل کرنا اور ان پر تنقید کرنا ہی ہوتا ہے۔ مرزا صاحب صرف ان صحابہ کی غلطی بیان نہیں کرتے بلکہ اس کی آڑ میں آپ رضی اللہ عنہم کے متعلق زبان درازی کرتے ہیں، ان کے متعلق سخت نازیبا اور توہین آمیز جملے کہتے ہیں۔ کیا قرآن کے غلطی بیان کرنے کا یہی اسلوب اور انداز ہے جو انجینئر صاحب روافض کی ہمنوائی میں اختیار کیے ہوئے ہیں؟
پھر ایک دھوکا یہ بھی دیتے ہیں کہ چور سے پہلے چور کی ماں کو مارو۔ یعنی کہ میں تو بخاری ومسلم اور دیگر کتب ہی سے بیان کرتا ہوں جو روایات اہل سنت کے ائمہ نے نقل کی ہیں، تو جب یہ محدثین غلط نہیں تو میں ان کی نقل کردہ روایات کو بیان کرنے سے غلط کیسے؟ تو اس کا جواب بھی وہی ہے کہ ان محدثین کی کتب میں وہ روایات اس طرح بالکل نہیں ہوتیں جیسا کہ آپ ان سے تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو صاحب کتاب کا کسی روایت کو لے کر ایک مثبت فہم ہوتا ہے لیکن جو معنی آپ اس سے کشید کر رہے ہوتے ہیں وہ بالکل اس فہم کے برعکس ہوتا ہے، اور بعض اوقات روایت ہی ضعیف ہوتی ہے۔ لہٰذا آپ کا خود کو چور کہنا تو درست ہے لیکن ان محدثین کو چور کی ماں قرار دینا باطل ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اہل سنت کی کسی بھی کتاب سے کوئی بھی روایت اپنی مرضی کی پکڑیں، آپ تو اسے بیان کرنے کے ساتھ ان مخصوص صحابہ پر زبان درازی بھی کرتے ہیں، ان کے خلاف طعن وتشنیع اور توہین آمیز گفتگو بھی کرتے ہیں لیکن کیا ان محدثین کا بھی ان روایات کے حوالے سے یہی منہج اور طریقہ کار ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ پیچھے ہم محدثین کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے اتفاقی اور اجماعی عقیدہ اور منہج بیان کر آئے ہیں، ان اقوال کو ایک پلڑے میں رکھیں اور انجینئر صاحب کی زبان کو دوسرے پلڑے میں، تو آپ کو ان کی مکاری اور دھوکے بازی کا پتہ چل جائے گا کہ یہ محدثین اور ان کی کتب کا نام لے کر انہی محدثین کے منہج کے خلاف عوام کو سبق پڑھا رہے ہیں اور محدثین کی تعلیمات کو مسخ کر رہے ہیں۔ پھر صرف منفی پہلو ہی کیوں؟ حالانکہ انہی محدثین نے بہت سی ایسی روایات بھی نقل کی ہیں جو بالکل واضح طور پر ان مخصوص صحابہ (سیدنا معاویہ، عمرو بن عاص یا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم) کے فضائل اور ذکر خیر پر مشتمل ہیں، تو آخر ان پر کتنا زور دیا جاتا ہے؟ محدثین کا نام لے کر بیان کرنا تو دور بلکہ جن روایات کو محدثین ان صحابہ کے فضائل میں لاتے ہیں آپ انہیں بھی توڑ موڑ کر ان کے خلاف بنا کر اس سے بھی منفی تاثر ہی پھیلاتے ہیں، جیسا کہ اس کتاب کے شروع ابواب ہی میں مثالیں آ رہی ہیں۔
رافضی حضرات دیگر صحابہ پر بھی جرأت کرتے ہیں لیکن بنوامیہ اور خصوصاً سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سب سے زیادہ بغض اور دشمنی رکھتے ہیں۔ صحابی مان کر احترام کرنا تو دور بلکہ سرے ہی سے ان کے اسلام لانے ہی کو مشکوک ٹھہرایا جاتا ہے کہ جی یہ (بنو امیہ) قبیلہ تو ڈر کر اوپر اوپر سے ایمان لایا تھا جبکہ ہے یہ پکے منافق اور اسلام کے دشمن تھے، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو مزید داغ دار بنانے کے لیے انہیں سیدنا علی اور اہل بیت کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ ہاں انجینئر صاحب اور ان روافض میں فرق یہ ہے کہ رافضی یہ سب کچھ کھل کر کہتے ہیں اور انجینئر صاحب ڈھکے چھپے الفاظ میں، لیکن سلیبس مرزا صاحب کے ہاتھ میں انہی کا دیا ہوا ہے۔
مرزا صاحب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو صحابی مانتے ہیں، نا تو یہ گستاخ ہیں اور نا ہی ان سے بغض ہی رکھتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ ”سیدنا“ ”حضرت“ یا ”امیر المومنین“ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے انہیں موت پڑتی ہے۔ اور یہ جو کبھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ ”حضرت“ اور ”رضی اللہ عنہ“ بول دیتے ہیں یہ بھی ان کا تقیہ ہے، انہوں نے خود اپنی اس منافقانہ حرکت کا اقرار کر رکھا ہے، چنانچہ اسی کے متعلقہ سوال (کہ آپ حضرت معاویہ کو ”رضی اللہ عنہ“ کیوں کہتے ہیں) کے جواب میں کہتے ہیں کہ: میرا دل نہیں کرتا انہیں رضی اللہ عنہ کہوں، بس دل پر پتھر رکھ کر کہتا ہوں۔ نیز اسی سوال کے جواب میں مرزا صاحب نے خود کو جاہل بھی تسلیم کیا جو کہ ہم دلائل سے ثابت کریں تو انجینئر صاحب ناراض ہوتے ہیں:
014- Public Q .A Session… Meeting of SUNDAY with Engineer Muhammad Ali Mirza Bhai (24-Oct-2021) 1:39:00
اگر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان کی بات کریں تو یہ کہنا سو فیصد جھوٹ اور بلا دلیل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ڈر کر اور معافیاں مانگ کر اسلام لائے تھے، مرزا صاحب ایک عرصے سے پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن آج تک اس دعوے پر ایک صحیح اور متصل روایت پیش نہیں کر سکے۔ اگر بات کی جائے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایمان کب لائے تو اس سلسلے میں مختلف روایات مروی ہیں۔ بعض اہل علم نے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے لیکن دوسری طرف یہ قول بھی موجود ہے کہ آپ فتح مکہ سے قبل اسلام لا چکے تھے۔ اور بعض اہل علم نے یوں تطبیق دی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے لیکن اپنے اسلام کا اعلانیہ اظہار فتح مکہ کے موقع پر کیا۔ یہ کہنا کہ آپ رضی اللہ عنہ ڈر کر اوپر اوپر سے ایمان لائے سراسر رافضیت ہے، ائمہ اہل سنت کا اجماع اس کے خلاف ہے چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وَأَمَّا قَوْلُ الْقَائِلِ: إِيمَانُ مُعَاوِيَةَ كَانَ نِفَاقًا، فَهُوَ أَيْضًا مِنْ الْكَذِبِ الْمُخْتَلَقِ۔ فَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ مَنِ اتَّهَمَ مُعَاوِيَةَ بِالنِّفَاقِ، بَلِ الْعُلَمَاءُ مُتَّفِقُونَ عَلَى حُسْنِ إِسْلَامِهِ۔
”رہا کسی کا یہ کہنا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا منافقت سے تھا تو یہ جھوٹ ہے، کیونکہ علماء مسلمین میں سے کسی نے بھی آپ رضی اللہ عنہ پر نفاق کی تہمت نہیں لگائی، بلکہ تمام علماء تو ان کے حسن اسلام پر متفق ہیں۔“ (مجموع الفتاوی: 4/477)
اور فرمایا:
إِيمَانُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَابِتٌ بِالنَّقْلِ الْمُتَوَاتِرِ وَإِجْمَاعِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى ذَلِكَ۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ایمان تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے۔“ (مجموع الفتاویٰ: 4/453)
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت بھی دے رکھی ہے جیسا کہ آپ کے فضائل کے باب میں بیان کیا جائے گا، لہٰذا ان صحابہ کے ایمان کو مشکوک بنانے والے اپنے اسلام اور آخرت کی فکر کریں۔
مرزا صاحب بنوامیہ بنوامیہ کی رٹ لگا کر بھی دھوکا دیتے ہیں اور یہ واضح نہیں کرتے کہ میں بنوامیہ کہہ کر مراد کسے لے رہا ہوں؟ حالانکہ کئی جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنوامیہ خاندان سے تعلق رکھتے۔ جو زیادہ مشہور ہیں ان میں دوہرے دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تیسرے امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور آپ کے بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ لیکن مرزا صاحب کا طریقہ واردات یہ ہے کہ جب بھی آپ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھڑاس نکالنی ہو تو آپ کا نام لیے بغیر بنوامیہ بنوامیہ کی رٹ لگا کر اپنے اندر کا گند اگلتے ہیں۔ اور ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم بنوامیہ کا جھوٹا دفاع کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارا مدعا اور منہج اچھی طرح سمجھ لیں کہ نا تو ہم سارے کے سارے بنوامیہ خاندان کا دفاع کرتے ہیں اور نا ہی سب کو اچھا کہتے ہیں بلکہ ہمارا مدعا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں خواہ وہ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہم صحابہ کے متعلق اپنا منہج بیان کر چکے ہیں اور وہی اسلاف امت اور ائمہ محدثین کا منہج ہے، کہ صحابی خواہ کوئی بھی ہے ہم تمام سے محبت رکھتے ہیں، تمام کی تعظیم واحترام کے قائل ہیں اور کسی کی تنقیص اور گستاخی نہیں کرتے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا بھی یہی سبق اور خلاصہ ہے۔ کسی حدیث میں یہ تخصیص نہیں آئی کہ غیر اموی صحابہ کی تعظیم کرنی ہے اور بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے صحابہ پر زبان درازی کرنے، ان پر تنقید کرنے اور ان کی گستاخی کرنے کی کھلم کھلی اجازت ہے۔ لہٰذا چاہے کوئی بھی ہو جب وہ کسی اموی یا غیر اموی صحابی یا اہل بیت میں سے ہی کسی کی تنقیص کرے گا، گستاخی کرے گا یا ان پر بہتان لگائے گا، ان کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اس گستاخی کا منہ توڑ جواب دیں اور ان ہستیوں کا دفاع کریں۔ پھر چاہے آپ اپنی بے بسی میں ناصبی ناصبی کے نعرے لگائیں یا بنوامیہ کے نام کے طعنے ہی دیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ کیونکہ ہمارے ساتھ تو جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کھڑی ہیں، اور آپ خبیث روافض جو کہ نا صرف صحابہ کے بلکہ اسلام کے دشمن ہیں کی صف میں کھڑے ہیں۔
انجینئر صاحب سب سے زیادہ اعتراضات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کیا کرتے ہیں لیکن اس سے یہ مت سمجھیں کہ ان کی اس قسم کی محبت صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خاص ہے بلکہ یہ ایک کورس ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے شروع ہوتا ہے اور کرتے کرتے پھر دیگر صحابہ کے گریبانوں تک لے جاتا ہے۔ امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے حسن سند کے ساتھ امام ربیع بن نافع رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
معاوية بن أَبِي سفيان ستر أصحاب رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فإذا كشف الرجل الستر اجترأ على ما وراءه۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ستر (پردہ) ہیں، جب کوئی پردہ ہٹا دیتا ہے تو پردے کے پیچھے والی چیز پر جسارت کرتا ہے۔“ (تاریخ بغداد: 1/577)
تو جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کرنے اور آپ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کرنے پر لوگوں کا مائنڈ سیٹ کر دیا جاتا ہے تو پھر مزید راہیں ہموار کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ہم اسی کتاب کی ”دوسری جلد“ میں انجینئر صاحب کی جناب معاویہ کے ساتھ ساتھ سیدنا عثمان، عائشہ، طلحہ، زبیر اور جناب عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے متعلق زبان درازیوں اور ان پر کیے گئے اعتراضات کی مثالیں بھی ذکر کریں گے۔
ہم پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جی آپ لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بہت دفاع کرتے ہیں، کیا صرف ایک وہی صحابی ہیں؟ عرض ہے کہ ہمارے لیے تو تمام صحابہ ہی محترم ہیں اور ہم سب کی فضیلت کے قائل ہیں لیکن بات یہ ہے کہ ہمارا جواب تو جوابی کارروائی ہوتی ہے، یعنی جب آپ سب سے زیادہ طعن اور اعتراضات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر کریں گے تو ظاہری بات ہے کہ اس کے ردعمل کے طور پر سب سے زیادہ دفاع بھی تو انہی کا کیا جائے گا۔ لہٰذا مسئلہ ہمارے دفاع کرنے کا نہیں بات آپ لوگوں کے اعتراضات کرنے کی ہے۔
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ مرزا صاحب کے خلاف سب سے زیادہ متحرک ہونے والی جماعت اہل حدیث ہے اس لیے صحابہ اور خصوصاً حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سب سے زیادہ زبان درازی یہ اہلحدیث پر کرتے ہیں، لیکن ان کے یہ تمام الزامات اور طعنے ہم پر نہیں بلکہ محدثین پر ہیں۔ آپ کے نزدیک اہل حدیث کا یہی گناہ ہے نہ کہ ہم حضرت معاویہ کا دفاع کرتے ہیں، ان کی وکالت کرتے ہیں، ان سے محبت رکھتے ہیں، ان کے متعلق زبان درازی نہیں کرتے، ان کے متعلق صرف کلمہ خیر ہی کہتے ہیں؟ تو ہم نے پیچھے اقوال محدثین کی روشنی میں اس امت کے تمام ائمہ کا مذہب اور مؤقف بیان کر دیا ہے، آپ محدثین کی دعوت کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا اہلحدیث کا منہج، فکر اور دعوت ذرا برابر بھی محدثین کے منہج سے ہٹا ہوا ہے؟ لہٰذا انجینئر صاحب جتنا گند بولتے ہیں وہ درحقیقت ائمہ محدثین پر بولتے ہیں۔ اور محدثین نے جو کچھ سیدنا معاویہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے حوالے سے فرمایا ہے وہ سب اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہ سب تو قرآن وحدیث کی تعلیمات ہیں، تو پھر ان دشمنانِ صحابہ کا نشانہ نا صرف اہل حدیث اور ائمہ کرام ہیں بلکہ قرآن وحدیث بھی ہیں۔
اب کچھ تعارفی باتیں انجینئر صاحب کے اصول وضوابط اور ان کے دعوؤں کے حوالے سے کر لیتے ہیں۔ تو دیکھیے! مرزا صاحب کی مثال اس دودھ والے کی سی ہے کہ جس نے دکان کے باہر سو فیصد خالص اور ملاوٹ سے پاک دودھ دستیاب ہے لکھ کر لگایا تو ہوتا ہے لیکن وہ صرف لکھنے کی حد تک ہی ہوتا ہے۔ انجینئر صاحب نے بھی اپنی دکان کے باہر کچھ سلوگنز لٹکا رکھے ہیں، جو کہ یہ ہیں:
”نا میں وہابی، نا میں بابی، میں ہوں مسلم علمی کتابی“
”مرنے سے پہلے اے مسلماں کر لے اس پہ غور
بابوں کا خدا اور ہے، کتابوں کا خدا اور“
”میرے نبی سا ہے ہی کوئی نئیں، بابے تے شے ای کوئی نئیں“
ان کا ایک بہت ہی بڑا یا شاید سب سے بڑا دعویٰ یہ ہے کہ میں ایک حق گو اور منصف مزاج آدمی ہوں، جو کچھ بیان کرتا ہوں پوری ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ بیان کرتا ہوں، اور فرمایا کرتے ہیں کہ حق صرف ہمارے ہی پلیٹ فارم سے بیان ہو رہا ہے، جس طرح حق گوئی کا مظاہرہ ہمارے یہاں سے ہو رہا ہے اس کی مثال پیش کرنا ناممکن ہے۔
پھر ایک بہت ہی بڑا دھوکہ یہ بخاری ومسلم اور صحیح الاسناد روایات کے نام پر دیتے ہیں کہ جی ہمارا مقدمہ تو بخاری ومسلم اور صحیح الاسناد احادیث پر مشتمل ہے، ہمارے ہاں صرف آپ کو صحیح روایات ہی ملیں گی، اور ہم ضعیف روایات کو بالکل بیان نہیں کرتے۔ بلکہ ضعیف روایات کو امت اور ایمان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
مرزا صاحب نے لوگوں کو مختلف صحابہ سے بدظن کرنے کے لیے ایک رسالہ ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ تحریر کیا، اور اس کے ہر صفحے کے اوپر یہ سنہری دعوت موجود ہے کہ:
”فرقہ واریت سے بچ کر، صرف [قرآن اور صحیح الاسناد احادیث] کو حجت و دلیل ماننے، اور جھوٹی، بے سند اور [ضعیف الاسناد تاریخی روایات] کے فتنوں سے بچنے والوں کے لیے۔“
اور جہاں تک تاریخ کی کتب کی بات ہے تو جناب صاحب کہتے ہیں کہ تاریخ تو حکمرانوں نے اپنے مفاد کے لیے لکھوائی تھی، تاریخ میں جھوٹ سچ سب مکس ہے، تاریخ کی حیثیت محدثین کے ہاں کھوٹے سکوں کی مانند ہے، اور خود یہ تاریخ کو کوڑ کباڑ اور گند کہتے ہیں۔
اگر مرزا صاحب اپنے ان بیان کردہ اصول وضوابط اور دعوؤں پر عمل پیرا ہوں تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں رہتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انجینئر صاحب کے یہ اصول صرف بولنے، لکھنے اور سنانے کی حد تک ہی ہیں۔ اس کتاب کا مقصد ہی یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ ایک دھوکے باز، دوغلے اور جھوٹے انسان ہیں، حق گو اور منصف مزاج آدمی نہیں۔ آپ اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب بھی یہ کسی صحابی اور خصوصاً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہیں تو ان کے خود کے اصولوں کے مطابق ہی وہ اعتراض باطل ہوتا ہے، جیسا کہ آپ دیکھیں گے کہ ہم ان کے تقریباً تمام اعتراضات کا جواب انہی کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق دیں گے (ان شاء اللہ)۔
ان کا دعویٰ ہے کہ میں حق بیان کرتا ہوں، لیکن یہ خود سب سے زیادہ حق چھپاتے ہیں، ایک منفی پہلو کو اچھالتے ہوئے دسیوں مثبت روایات کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ کہ میں بابی یعنی مقلد اور ائمہ یا کسی کے بھی بلا دلیل اقوال پر عمل کرنے والا نہیں! بلکہ دلائل اور اصول وضوابط کو لے کر چلتا ہوں، بھی محض جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ بلکہ آپ دیکھیں گے کہ کئی مقامات پر یہ اصول وضوابط کو چھوڑ کر بلا دلیل بات پر جم جاتے ہیں، کبھی کسی واضح اور ٹھوس دلیل کے مقابلے میں کسی بابے یا امام کے بے دلیل قول کی تقلید کرتے ہیں۔ جہاں کہیں انہیں کسی کے بے بنیاد قول سے فائدہ ہوتا ہو تو یہ علمی وکتابی صاحب بابی بن جاتے ہیں۔
انجینئر صاحب صحیح الاسناد روایات پر بہت زور دیتے ہیں، اور ان کا اپنے متعلق دعویٰ ہے کہ ہم صحیح روایات کو لے کر چل رہے ہیں اور ضعیف روایات بالکل بیان نہیں کرتے۔ انہوں نے صحیح وضعیف اور اس فن کے حوالے سے دیگر کئی اصطلاحات کو اپنی ویڈیوز میں متعارف کروایا ہے۔ اس حوالے سے ان کی درج ذیل چند ویڈیوز ضرور ملاحظہ فرمائیں تاکہ ان کا منافقانہ رویہ اور دوغلہ پن جو کہ ہم بیان کرنے جا رہے ہیں کو سمجھنے میں آپ کو آسانی ہو سکے:
[36-Mas’alah: ZAEEF Ahadith & MANGHARAT Ahadith ka Fitnah].
[Imam MUSLIM r.a ka Muqaddimah & Aqeedah??? Saheh AHADITH hi Kewn???]
[ZAEEF-ul-Isnad AHADITH hamaray EMAN kay liay KHATRAH kewn hain???]
ان ویڈیوز سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے مرزا صاحب کوئی بہت بڑے محقق، اصولی، منصف مزاج اور روایتِ حدیث کے حوالے سے بہت ہی محتاط انسان ہیں۔ یہ ہر وقت ضعیف روایات بیان کرنے والوں پر تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔ اور جو حضرات ضعیف روایات بغیر ان کا ضعف بیان کیے بیان کرتے ہیں کو امام مسلم رحمہ اللہ کی زبانی جاہل قرار دیتے ہیں۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ یہی مرزا صاحب ضعیف اور سخت سے سخت ضعیف روایت جو کہ اپنے حق میں ہو کو بغیر اس کا ضعف واضح کیے بیان بھی کرتے ہیں اور ان کے ذریعے صحابہ اور خصوصاً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن بھی کرتے ہیں۔ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے انہوں نے کچھ بہانے اور باطل قسم کے اصول گھڑ رکھے ہیں۔ ان میں سے ایک دھوکہ یہ دیتے ہیں کہ جی اس روایت کو فلاں نے صحیح قرار دیا ہے فلاں نے حسن کہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمارے منصف مزاج اور حق گو صاحب یہ نہیں بتاتے کہ بھائی اگر اصول کو دیکھا جائے تو یہ روایت ضعیف ہے، اسے اگر کسی نے صحیح کہہ دیا ہے تو یہ اس کی اصولی یا اجتہادی خطا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کبھی ذکر نہیں کریں گے کہ اسے فلاں فلاں نے ضعیف قرار دے رکھا ہے، اور وہ اس علت کے سبب اسے ضعیف کہتے ہیں۔ ظاہری بات ہے اگر آپ منصف مزاج ہیں، علم اور حق پھیلا رہے ہیں تو آپ کو دونوں فریقین کے اقوال پیش کرنے چاہئیں اور ان میں سے جو حق بات ہو اس کو ترجیح دینی چاہیے۔
کبھی کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی ایک ایسی روایت ذکر نہیں کی جسے کسی ایک بھی عالم نے صحیح نا کہا ہو، بلکہ کسی ایک نا ایک نے اسے صحیح کہا ہی ہوگا۔ سبحان اللہ! یہ کون کہہ رہا ہے؟ جو کہتا ہے میں بابی نہیں، مقلد نہیں بلکہ علمی کتابی ہوں، اصول وقوانین پر چلنے والا انسان ہوں۔ تو کیا یہ ایک ہی شخص کے دو چہرے نہیں؟ ہم نے مرزا صاحب کی جن ویڈیوز کا حوالہ دیا ہے انہیں غور سے سنیں اور دیکھیں کہ کیا کہیں ضعیف روایت کی تعریف انہوں نے یہ کی ہے کہ ضعیف روایت وہ ہوتی ہے جسے کسی ایک بھی محدث یا محقق نے صحیح نا کہا ہو، اور یہ شرط اور اصول بیان کیا ہو کہ ہر وہ روایت صحیح کہلاتی ہے کہ جسے کم از کم کسی ایک فرد نے صحیح کہا ہو؟ ہرگز نہیں! بلکہ جن روایات کو مرزا صاحب نے ان ویڈیوز میں ایمان کے لیے خطرہ، امت کے لیے فتنہ اور گستاخیوں کا سامان قرار دیا ہے تو ان میں سے بعض کو بھی کسی نا کسی امام اور محقق نے صحیح قرار دیا ہے۔ مثلاً مسند احمد کی اپنے نسب پر فخر کرنے کے متعلق حدیث کہ جسے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا بھی گستاخی تصور کرتے ہیں، انہیں انتہائی نازیبا الفاظ کہتے ہیں کو خیر سے امام ابن حبان، امام ضیاء الدین المقدسی اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے صحیح اور علامہ شعیب الارنووط نے بھی مسند احمد کی تخریج میں حسن قرار دیا ہے۔ (صحیح ابن حبان: 3153، الاحادیث المختارة: 1244، السلسلة الصحیحة: 269)
تو کیا اب یہ روایت صحیح اور قابل حجت ہو گئی؟ اور کیا اس سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ بھائی میں تو حدیث ہی بیان کر رہا ہوں، میں کونسا اصولِ کافی پڑھ رہا ہوں، اور (چور سے پہلے چور کی ماں کو پکڑو یعنی) سب سے پہلے انہیں پکڑو جنہوں نے اسے نقل کیا اور جنہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے وغیرہ وغیرہ، جیسا کہ آپ کا مخصوص طرزِ کلام ہے؟ تو جب یہ روایت اس کے باوجود بھی ضعیف ہے اور پھر یہ اس روایت کی بات ہے کہ جسے آپ ضعیف روایات کی مذمت اور ان کے فتنے کے بیان میں بطور مثال پیش کر رہے ہیں تو باقی ضعیف روایات کا کیا بنے گا؟
لہٰذا یہ شرط اور اصول ہی باطل ہے جو انجینئر صاحب نے عوام کو دھوکا دینے اور صحابہ سے متنفر کرنے کے لیے گھڑا ہے۔ اور آپ خیر سے کس منہ کے ساتھ یہ بات کرتے ہیں کہ جب آپ تو علمی کتابی ہیں بابی نہیں، آپ کو کیا لگے کس نے کیا کہا ہے؟ اور آپ کے نزدیک تو کسی بھی بڑے سے بڑے امام اور محدث سے غلطی ہو سکتی ہے۔ انجینئر صاحب کہتے ہیں:
”علم کے میدان میں جذبات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، پھر نشتر ہاتھ میں ہوتا ہے پھر سرجن کا کام تو یہ ہے کہ چاہے کوئی شیخ الحدیث لیٹا ہوا ہے چاہے کوئی ڈاکٹر لیٹا ہوا ہے وہ چیرا لگائے گا، اس کو یہ نہیں کہہ سکتے یار تو چیرا کیوں لا دتا شیخ الحدیث نو؟ اپنڈکس کڈن واسطے چیرا تے لانا پینے، تو چاہے کوئی بھی بڑے سے بڑی بزرگ ہستی ہے جہاں پہ علمی دلائل ہیں وہاں ہم کہیں گے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے، اس غلطی کے اوپر ان کی علمی گرفت کی جا سکتی ہے۔“
Masalah 157a-1:30:10
تو جب بڑے سے بڑے امام سے بھی غلطی ہو سکتی ہے تو یہ کہنا علمی دنیا میں کیا حیثیت رکھتا ہے کہ جی اس فلاں روایت کو فلاں نے صحیح کہا ہے؟ بلکہ جو علمی کتابی ہوگا وہ تو اصول پر بات کرے گا کہ اصول وضوابط کیا کہتے ہیں؟ جس کا قول پیش کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہے یا مبنی بر خطا؟ مرزا صاحب دھوکہ دیتے ہیں کہ جی ہم نے دور حاضر کے بڑے بڑے محققین کی تحکیم اور تصحیحات کے ساتھ روایات نقل کی ہیں۔ اور جناب انجینئر صاحب دور حاضر کے سب سے بڑے محدث اور محقق علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اور علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات اہلحدیث تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ علم کی دنیا میں ان کی بہت سی خدمات ہیں۔ لیکن کون ہے جو ان کی تمام تر تحقیقات سے اتفاق کرتا ہو اور انہیں معصوم عن الخطاء سمجھتا ہو؟ بھائی وہ انسان ہیں، ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے، کہیں ان سے بھی دلائل یا سند کی علت مخفی رہ سکتی ہے، لہٰذا کسی ایک محقق کے حکم کو لے کر باقی تمام سے نظریں چرا لینا خواہش پرستی ہے، اسے منصف مزاجی نہیں بلکہ ناانصافی کہتے ہیں، اور ایسا شخص علمی کتابی نہیں بلکہ فسادی ہوتا ہے۔ مرزا صاحب خود اتنے بڑے محقق ہیں کہ کئی مقامات پر علامہ البانی وشیخ زبیر صاحب کی تحقیقات کا رد کر دیتے ہیں۔ ایک جگہ ایک روایت بیان کرنے کے بعد فرماتے:
”اچھا یہ حدیث جو ہے نا ابوداؤد کی، اسے شیخ البانی اپنے منہج کی غلطی کی وجہ سے ضعیف کہتے ہیں لیکن یہ حدیث بالکل سونے کی مہر صحیح ہے۔“
Hazrat USMAN Shaheed kewn hoay ??? Reply to Dr. ISRAR r.a !! – 3:55
نیز یوٹیوب پر ان کی ایک اور ویڈیو دیکھیے:
Sheikh Albani on ibn e Masood R.A ki Raful yadain wali hadith. Engineer Ali Mirza
اس ویڈیو میں جن دو روایات کے متعلق علامہ البانی رحمہ اللہ کا حکم بیان ہوا ہے کہ آپ رحمہ اللہ نے انہیں صحیح کہا تو ان دونوں روایات کو مرزا صاحب پکا ضعیف مانتے ہیں اور البانی رحمہ اللہ کے اصول کو غلط قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب البانی رحمہ اللہ کا کوئی حکم اپنے مطلب کا ہو تو مرزا صاحب وہاں یہ بیان نہیں کرتے کہ اس روایت کو اگرچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے لیکن حق یہ ہے کہ اصولی طور پر یہ روایت ضعیف ہے اور علامہ البانی کا اصول غلط ہے۔
مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی بہت سی تحقیقات سے بھی انجینئر صاحب اختلاف کرتے ہیں یہاں صرف ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں، چنانچہ انجینئر صاحب ایک جگہ بیان کرتے ہیں:
”اس حدیث کو شیخ زبیر صاحب نے کھینچ تان کر ضعیف ثابت کیا ہے، اور میں نے شیخ زبیر صاحب سے فون پر بات کی، میں نے کہا شیخ صاحب یہ حدیث ضعیف تو آپ سے ثابت نہیں ہوئی ہے، مجھے بھی تو علمی بحث پڑھ کر پتہ چل گیا کہ کمزور ہے۔“
Masla 157, part 1 – 1:51:00
ایک ویڈیو میں امام بخاری، امام ترمذی، علامہ البانی اور زبیر علی زئی رحمہم اللہ کی تحقیقات سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں کسی کی تحقیق غلط ہوئی ہم ان کے قول کو تسلیم نہیں کریں گے، اور ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو ضرور دیکھیے:
Sheikh Albani vs Hafiz Zubair Ali Zai vs Imam Tirmizi by Engineer Ali Mirza
پھر لطف کی بات سنیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جو روایات صحیح ہیں انہیں دیگر کئی محدثین کے ساتھ ساتھ علامہ البانی وزبیر علی زئی رحمہما اللہ بھی صحیح قرار دیتے ہیں لیکن انجینئر صاحب سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ وہ روایات تو ضعیف، جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔ بہرحال جب خود انجینئر صاحب ان حضرات سے اختلاف کیا کرتے ہیں، تو پھر کسی ضعیف روایت کو بیان کر کے یہ بہانہ پیش کرنا کہ شیخ زبیر یا البانی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے باطل ہے، علمی میدان میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔
مرزا صاحب خود کو بہت بڑا محقق، جرح وتعدیل کا امام اور اصول حدیث کا ماہر سمجھتے ہیں، اور اپنے مطابق یہ ایسے دقیق، لطیف اور انتہائی مشکل قسم کے اصولوں کو اپنے دماغ میں لیے پھر رہے ہیں کہ جو ان کے بقول جامعہ کے فارغ التحصیل طلباء اور علماء کو بھی پتہ نہیں ہوتے، دیکھیے ان کی ویڈیوز:
23-ILMI-o-Tahqeeqi MAJLIS (Open Q & A Session) – 44:22
Introduction of HADITH & SUNNAT ??? KARBLA say related 200-AHADITH ??? -20:50
لہٰذا جب معاملہ ایسا ہے، اور مرزا صاحب بابی اور مقلد نہیں بلکہ علمی کتابی ہیں لہٰذا ان کے لیے تو کسی طرح بھی جائز نہیں کہ کسی ضعیف روایت کو کسی کا حوالہ دے کر پروموٹ کریں! بلکہ ہم ہر روایت کو اصولوں پر پرکھیں گے، جس کی جو بات صحیح ہوئی وہ سر آنکھوں پر، اور جو اصولوں کے مطابق غلط ہوئی وہ مردود ہوگی۔
نوٹ: ”چونکہ انجینئر صاحب نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ اپنی بیان کردہ روایات پر آپ علامہ البانی، شعیب الارنؤوط، زبیر علی زئی رحمہم اللہ اور علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کی تصحیحات نقل کیا کرتے ہیں اور آپ انہیں دور حاضر کے حدیث کی فیلڈ کے بڑے محققین قرار دیتے ہیں۔ تو اس کتاب میں ہمارا منہج اور اسلوب یہ ہوگا کہ پوری دیانتداری کے ساتھ احتجاج میں صرف وہی روایات نقل کی جائیں گی جو اصول محدثین پر صحیح یا حسن لذاتہ ہوں۔ لہٰذا ہر ہر روایت کے ساتھ صحیح یا حسن لکھا ہونا ضروری نہیں۔ ہاں بعض اوقات کسی روایت کی سند میں کلام ہو اور کسی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہو تو ہم دلائل اور تحقیق کے ساتھ حق بات واضح کریں گے۔ روایت کے اپنے نزدیک صحیح ثابت ہو جانے کے بعد ہی ہم کسی محدث اور دور حاضر کے محققین میں سے کسی کا حوالہ بطور تائید پیش کریں گے کہ اسے فلاں فلاں نے بھی صحیح یا حسن کہا ہے۔ نیز ہم تاریخ کی کسی بھی بے سند یا جھوٹی روایت کو نا تو احتجاج میں پیش کریں گے اور نا ہی متابعت میں۔ کسی تاریخ کی کتاب سے بھی صرف اور صرف وہی روایت نقل کی جائے گی جو باسند ہو اور اصول محدثین پر صحیح یا حسن ہو۔“
انجینئر صاحب مسئلہ تدلیس پر بھی بڑا زور دیا کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ محدثین کا اتفاقی اور اجماعی اصول ہے کہ مدلس راوی کی عن والی روایت جو وہ اپنے استاد سے سماع کی صراحت کے بغیر بیان کرے ضعیف ہوتی ہے۔ جناب محترم مدلسین کی روایات کو جھوٹی، جعلی اور من گھڑت تک کہہ دیا کرتے ہیں۔ آپ ان کی ویڈیو ”ضعیف الاسناد احادیث کا فتنہ“ ملاحظہ فرمائیں کہ کتنی ہی روایات کو اسی سبب ضعیف کہا گیا ہے کہ اس میں فلاں مدلس راوی ہے اور روایت عن کے ساتھ بیان کر رہا ہے لہٰذا روایت فارغ ہے۔
آپ یوٹیوب پر ان کا نام لکھے بغیر بھی ”مدلس کی عن والی روایت“ جیسے الفاظ لکھیں سب سے اوپر انہی کی ویڈیوز دکھائی دیں گی۔ لیکن ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ انجینئر صاحب اصول تو بہت اچھے اچھے بیان کرتے ہیں، اور اتنے سے ہی بس عوام کے دل جیت لیتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ ان اصولوں پر کماحقہ عمل پیرا نہیں ہوتے۔ آپ اس کتاب میں دیکھیں گے کہ یہی منصف مزاج اور حق گو مرزا صاحب اپنے باطل نظریات کی ترویج اور رافضیت کے مشن کو فروغ دینے کے لیے مدلسین کی معنعن روایات کو بیان بھی کرتے ہیں اور ان ضعیف روایات کی بنا پر صحابہ کرام کے متعلق شکوک وشبہات عام کرتے اور ان پر تنقید بھی کیا کرتے ہیں۔ تب یہ نہیں بتاتے کہ اس میں فلاں راوی مدلس ہے لہٰذا میرے اصول کے مطابق یہ روایت ضعیف ہے۔ لیکن پھر بھی مکمل ڈھٹائی کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم تو منصف مزاج ہیں، حق ہی تو بیان کر رہے ہیں، ہم صحابہ سے بغض نہیں رکھتے۔
ذرا سوچیں! اگر کسی کا مقصد حق گوئی ہو، اور اگر صحابہ کا بغض اور رافضیت کا گند دل میں نا ہو تو جس طرح یہ اصول وضوابط بیان کرتے ہیں، اور صحیح الاسناد روایات کے دعوے دار ہیں تو صحابہ کرام کے معاملے میں یہ اور بھی زیادہ محتاط نا ہوتے؟
یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی حق گو اور منصف مزاج آدمی ہو، ارادے نیک ہوں، اس کے دل میں صحابہ کی تعظیم اور محبت پائی جائے اور وہ ان کے خلاف کوئی ضعیف روایت بیان کر دے اور پھر یہ بیان بھی نا کرے کہ اسے فلاں محدث اور محقق نے ضعیف قرار دیا ہے، اس میں فلاں علت ہے، فلاں راوی کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے؟
صحیح الاسناد روایات کا نعرہ محض ڈھونگ ہے، یہی مرزا صاحب ضرورت پڑنے پر تاریخ کی بے سند جھوٹی روایات کو بھی پیش کرنے سے پیچھے نہیں رہتے۔ پھر جب ان سے سند کا مطالبہ کیا جائے تو یہ طرح طرح کے بہانے بنانے اور ایسے جھوٹ بولنے لگتے ہیں کہ تھوڑا سا شعور رکھنے والے انسان کو پتہ چل جائے کہ یہ شخص دوغلہ اور دھوکے باز ہے اور صرف بہانے بنا رہا ہے۔ کبھی اس تاریخی روایت کو پروموٹ کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ جی اہل سنت کی معتبر تاریخ کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے۔ حالانکہ دوسری طرف یہ جن تاریخی روایات کو جعلی، جھوٹی، من گھڑت اور تاریخ کا کوڑ کباڑ کہتے ہیں وہ بھی تو اہل سنت کی معتبر تاریخی کتب کی ہی روایات ہوتی ہیں! بات یہ ہے کہ کتاب کے معتبر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس میں موجود ہر ہر روایت بسند صحیح موجود ہوگی، یا مؤلف اس کی صحت سے اتفاق کرتا ہے۔ ہاں! آپ کے اور ہمارے درمیان فیصلہ کن چیز سند ہے اور اگر کسی روایت کی سند ہی موجود نہیں تو وہ مردود ہے چاہے وہ کسی بھی کتاب میں ہو۔
پھر بعض اوقات اپنی بیان کردہ جھوٹی روایت کو صحیح باور کرانے کے لیے ایک نہایت گھٹیا جھوٹ یہ بولا کرتے ہیں کہ جی اس پر تو اجماع ہے، یہ روایت تو تواتر کے ساتھ اہل سنت کی کتب میں نقل ہوئی ہے لہٰذا سند کی تو ضرورت ہی نہیں۔ وہ تو کتاب میں جہاں کہیں بات آئی تو ان شاء اللہ اس اجماع اور تواتر والے جھوٹے دعوے کی حقیقت بھی واضح کی جائے گی، یہاں صرف اتنا عرض کرتے چلیں کہ یہ لفظ ”اجماع“ بہت بڑا لفظ ہے اور ایسا نہیں کہ ہر فالتو اور جاہل آدمی اٹھ کر کسی بات پر اجماع کا دعویٰ کر دے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے انہی جیسے نااہل قسم کے لوگوں کے متعلق فرمایا ہے:
من ادعى الاجماع فهو كذب۔
”جو اجماع کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔“ (مسائل الامام احمد روایۃ عبداللہ: ص: 439)
دیکھیں علم کے میدان میں ایسا نہیں ہوتا کہ کسی نے بھی اٹھ کر ایک بے بنیاد اور بغیر دلیل کے دعویٰ کر دیا تو وہ قابل قبول ہے، بلکہ علم کی دنیا میں بغیر دلیل کے دعوے کی رتی برابر بھی حیثیت نہیں ہوتی، جو انسان جس چیز کا دعویٰ کرے گا اسے اپنے دعوے کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنا ہوگا، محض زبان ہلا دینے سے مدعا ثابت نہیں ہو جاتا۔ مرزا صاحب کے اپنے بیان سے واضح ہے کہ ان کے پاس اپنے اجماع اور تواتر کے دعوے پر کوئی دلیل نہیں ہوتی ہے، چنانچہ سوال وجواب کی ایک نشست میں ان سے سوال ہوا کہ:
”اچھا جب آپ کسی چیز پر claim کرتے ہیں کہ اس میں اجماع ہے تو ہم لوگ کس طرح verify کریں گے کہ اس پر اجماع ہے؟“
11-ILMI-o-Tahqeeqi MAJLIS (Open Q & A Session) – 2:32:44
اب سوال سے ظاہر ہے کہ وہ بیچارہ یہ پوچھنا چاہ رہا ہے کہ کس کتاب میں آپ کے اجماع کے دعوے کی دلیل مل سکتی ہے؟ یا کسی امام نے اپنی کتاب ”الاجماع“ میں یا اور کسی جگہ اجماع کا دعویٰ کیا ہو کہ جن باتوں پر آپ اجماع یا تواتر عملی کا دعویٰ کرتے ہیں؟ لیکن چونکہ آپ ایک جھوٹے اور مکار انسان ہیں اس لیے ان کے اکثر جواب ”سوال گندم جواب چنا“ کی قبیل سے ہوتے ہیں، اور یہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ آپ ویڈیو دیکھ سکتے ہیں کہ جناب صاحب نے کون سا علمی اور تسلی بخش جواب دیا ہے۔
تنبیہ: ان کا ایک مخصوص طرزِ کلام ہے، کہ ”وہ کہتے ہیں، یہ کہتے ہیں، تم کہتے ہو“۔ یعنی خود سے ہی مخالف فریق کے ذمے ایسی باتیں لگاتے ہیں جس سے وہ بری ہوتا ہے اور وہ اس کا قائل وفاعل ہوتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان کی اس قسم کی چرب زبانی سے بھی ہوشیار رہا جائے۔
نیز جو شخص صحابہ ومحدثین کے حوالے سے جھوٹ بول سکتا ہے، دھوکا دے سکتا ہے تو اس سے کیا بعید ہے کہ اپنے مخالف اور مدمقابل کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرے۔ انجینئر صاحب جہاں اہل الحدیث کی حق گوئی اور صداقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں، ان کے منہج کو آج بھی سو فیصد صحیح منہج قرار دیتے ہیں لیکن دوسری جانب یہ اہل حدیث کے متعلق بے حد زبان درازی بھی کرتے ہیں۔ اور ایک جگہ انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے کہ مجھے سب سے زیادہ نقصان اہل حدیث سے پہنچا ہے۔ لہٰذا اب دل کی بھڑاس بھی تو انہوں نے کسی نا کسی طریقے سے نکالنی ہے نہ۔ تو یہ اہل حدیث کے نام پر بہت جھوٹ بولتے ہیں کہ اہل حدیث یہ کہتے ہیں، یہ کرتے ہیں، ان کا یہ مؤقف ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان میں سے اکثر چیزوں کا انتساب اہل حدیث کی طرف غلط ہوتا ہے۔
مرزا صاحب علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا نام لے کر اکثر باتیں بیان کیا کرتے ہیں کہ میں نے انہیں یہ کہا، انہوں نے مجھے یہ کہا۔ ان میں سے بعض باتوں میں ان کے جھوٹ پکڑے بھی گئے ہیں جیسا کہ اپنے محل پر واضح کیا جائے گا۔ لہٰذا انجینئر صاحب مولانا صاحب کا نام لے کر کچھ بھی کہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا جب تک کوئی اور معتبر شخصیت ان کی متابعت نہیں کر دیتی۔ اور یاد رہے مرزا صاحب کو غیر معتبر قرار دینے میں ہم منفرد نہیں ہیں بلکہ خود محدث العصر مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مرزا صاحب متروک انسان ہیں۔ مولانا ندیم ظہیر حفظہ اللہ آپ رحمہ اللہ کے بڑے قریبی اور خاص شاگرد ہیں، آپ حفظہ اللہ نے اس بات کی توضیح وتصدیق فرمائی ہے:
EP-05 II Baythak II Guest: Sheikh Hafiz Nadeem Zaheer Sb-15:56
اسی طرح علامہ زبیر رحمہ اللہ کے ایک دوسرے شاگردِ خاص مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ بھی ہیں۔ انہوں نے بھی اس بات کی صراحت کر رکھی ہے، میں بندہ ناچیز نے براہ راست آپ حفظہ اللہ سے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔
بعض اوقات علی مرزا صاحب ایسے شخص کا نام لے کر ہم پر حجت قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس کو اہل حدیث کہنا ہی غلط ہے، مثلاً وحید الزمان خان صاحب۔ مرزا صاحب اکثر دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اہل حدیث کا ترجمہ ہے، یہ اہل حدیث کے عالم کی بات ہے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ کئی چیزوں میں ان کا میلان شیعیت کی طرف تھا، اور بہت سے کبار علماء اہلحدیث نے صراحت کر رکھی ہے کہ موصوف اہلحدیث نہیں ہیں، جناب انجینئر صاحب مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ کو اہلحدیث کے سب سے بڑے عالم سمجھتے ہیں، تو عرض ہے کہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں:
”مختصر یہ کہ وحید الزمان متروک الحدیث ہے اور اہل حدیث اس کے اقوال اور کتابوں سے بری ہیں۔“ (توضیح الاحکام: 429)
اور یہ وضاحت اس لیے بھی ضروری تھی کہ مرزا صاحب ”اسلام 360“ ایپ کی بڑی مشہوری کرواتے ہیں، اگرچہ اس ایپ کے کئی فوائد بھی ہیں لیکن اس کے تراجم میں بعض مقامات پر مسئلہ پایا جاتا ہے، اور وہ وحید الزمان ہی کے کیے گئے ترجمے ہیں، اور بعض دفعہ ترجمے میں غلط بریکٹیں بھی پائی جاتی ہیں۔
انجینئر صاحب کو سننے والے مختلف اقسام کے لوگ ہیں جن میں سے بڑی معذرت کے ساتھ اکثریت اندھے مقلدین اور جہلاء کی ہے، جنہوں نے انجینئر صاحب کو امام بنا رکھا ہے اور آنکھیں بند کر کے ان کی ہر بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ بس جو انہوں نے کہہ دیا وہی درست ہے۔ جناب مرزا صاحب ایک طرف کوئی بات کرتے ہیں اور دوسری جگہ کچھ اور کہتے ہیں، کبھی اصول بناتے ہیں اور خود ان گنت مقامات پر اصول شکنی بھی کرتے ہیں، نیز ہر قسم کی دھاندلی انجینئر صاحب ان کی ناک کے نیچے کرتے ہیں لیکن یہ پڑے رہتے ہیں جیسے hypnotized ہوں۔ وجہ کیا ہے؟ کہ یہ اپنے طور پر کبھی تحقیق کرتے ہی نہیں، ہمیں جہاں تک ان کے مریدین سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے طور پر انہوں نے کبھی کسی کتاب کی شکل تک کھول کر نہیں دیکھی ہوتی۔ اور یہی چیز مرزا صاحب کی دکانداری کو فائدہ دیتی ہے کہ انہیں اندھی بہری عوام جو ملی ہوئی ہے۔ خود علی مرزا صاحب کی زبانی عوام کا حال سنیے:
”اکثر لوگ مجھے یہ کہتے بھی ہیں کہ جی اب آپ خود اتنا بڑا icon بن چکے ہیں – حالانکہ میں اپنے آپ کو نہیں سمجھتا – وہ کہتے ہیں کہ جی آپ ہمیں ریفرنس کے بغیر بتایا کریں کہ آپ کا مؤقف کیا ہے اس مسئلے میں۔ تو میں نے اسی بت پرستی کو تو توڑا ہے………………“
Masla 157, part 1 – 6:00
یعنی ان کے مقلدین کو ان پر اتنا یقین ہے کہ انہیں مرزا صاحب کے دلائل اور حوالوں کی کوئی ضرورت نہیں، تو کیا خیال ہے کہ اس سوچ کے مالک حضرات مرزا صاحب کے ریفرنسز کو کبھی کھول کر دیکھتے ہوں گے؟ کیا اپنے طور پر مزید تحقیق کرتے ہوں گے؟ ایک مقام پر جناب انجینئر صاحب فرماتے ہیں:
”آج کے کمزور مسلمان کو آپ benefit of doubt دے سکتے ہیں، اسے پتہ نہیں، اس تک تو جو ٹوٹا پھوٹا دین پہنچا ہے۔“
312-Lecture : Surah-e-HADEED Ayat No. 01 to END- 36:23
یہی ہمارا مدعا ہے کہ حوالوں کے نام پر مرزا صاحب اپنے مریدین کو benefit of doubt دیتے ہیں۔ اور جس بات کے ضمن میں انہوں نے یہ بات کہی ہے اس جگہ پر بھی یہ دھوکہ ہی دے رہے ہیں، جس کا تفصیلی بیان ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گا۔ مزید ملاحظہ فرمائیں کہ انجینئر صاحب عوام کے متعلق کیا کہتے ہیں:
”عوام کالانعام، عوام چوپائیوں کی مانند ہے۔“
Masla 157, part 2 – 1:43:54
اور ایک مقام پر تو عوام کے متعلق ایسے الفاظ کہے کہ وہ یہاں نقل کرنا بھی غیر مناسب ہے:
Masla 157, part 1 – 22:36
تو خیر سے مرزا صاحب کے مقلدین بھی اسی عوام میں سے ہیں ورنہ وہ کونسا دوسرے پلینٹ سے آئے ہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب اپنی جاہل عوام کی جہالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اور مسئلہ سارا یہ ہے کہ یہ از خود مطالعہ نہیں کرتے۔
المیہ یہ ہے کہ لوگوں نے source of knowledge انٹرنیٹ اور یوٹیوب کو بنا لیا ہے، نا تو خود ورق گردانی کرتے ہیں اور نا ہی علم اور علماء کی مجالس میں بیٹھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ مطالعہ کریں، ائمہ محدثین کے منہج کو پہچانیں، علم کو اس کا حق دیں تو ان شاء اللہ ان جیسے فتنے کبھی بھی امت میں اپنے پیر نا جما سکیں۔ لہٰذا ہماری تمام قارئین کو یہ دعوت ہے کہ وہ انٹرنیٹ سے نکلیں، کتابوں کو اپنا دوست بنائیں، حق پہچانیں، مطالعہ کریں اور علماء حق سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔ اللہ تعالی مجھے اور آپ کو حق بات سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
نوٹ: اس کتاب میں ہم انجینئر صاحب کی کئی ایک دھوکے بازیوں اور کذب بیانیوں کو واضح کریں گے، اور ان شاء اللہ ممکنہ حد تک کوشش ہے کہ مرزا صاحب کے ہر دعوے اور بیان کے ساتھ ان کی ویڈیو کا حوالہ بھی دیا جائے، لہٰذا آپ احباب ضرور بالضرور ان ویڈیوز کی طرف مراجعت کریں، اس سے آپ پر ان کے جھوٹ بالکل واضح ہو جائیں گے کہ یہ کس طرح لفظوں اور حوالوں کے جال میں پھنسا کر آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ اور اگر آپ کو لگے کہ واقعی یہاں مرزا صاحب غلط ہیں اور دھوکہ دے رہے ہیں تو آپ کے لیے ویڈیو کو دیکھنا اور سننا کافی نہیں بلکہ صحابہ کے خلاف بدزبانی کرنے والوں کے حوالے سے محدثین کے اقوال اور رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے ویڈیوز کو dislike اور ان کے چینل کو unsubscribe ضرور کریں، ورنہ ان کی viewership بڑھنے سے یہ فتنہ اور زیادہ پھیلے گا جبکہ ہمیں برائی کو ہاتھ یا زبان سے روکنے کا حکم ہے۔
❀❀❀