کتاب المناقب
انبیاء علیہم السلام کو ایک دوسرے پر ترجیح دینے کی ممانعت
① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينبغي لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن متى ونسبہ إلی ابیہ
”کسی بندے کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ یوں کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ آپ نے انہیں ان کے والد کی طرف منسوب کیا۔“
بخاری، کتاب احادیث الانبیاء 3395، مسلم، کتاب الایمان 2377/167۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينبغي لعبد وفي رواية أن يقول: أنا خير من يونس بن متى
”اس کے کسی بندے کو لائق نہیں، اور ایک روایت میں ہے کسی بندے کے لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
بخاری، کتاب احادیث الانبیاء 3416، مسلم، کتاب الفضائل 166/ 2376.
③ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تخيروا بين الأنبياء
”انبیاء علیہم السلام کو ایک دوسرے پر ترجیح نہ دو۔“
ابو داؤد، کتاب السنة 4668، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 3/ 39.
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کے متعلق احکامات
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقتدوا بالذين من بعدي من أصحابي أبى بكر وعمر، واهتدوا بهدي عمار، وتمسكوا بعبد الله بن مسعود رضي الله عنهما
”میرے بعد میرے صحابہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا، عمار کی راہ پر چلنا اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے تمسک اختیار کرنا۔“
الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابن مسعود 38 اور اس میں تفرد ہے۔ اور اس کے الفاظ ہیں: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے عہد سے تمسک اختیار کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے محبت
① سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا (اگایا) اور روح کو پیدا کیا! نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا کہ مومن شخص مجھ سے محبت کرے گا اور جو منافق ہے وہ مجھ سے بغض رکھے گا۔
مسلم، کتاب الایمان 78۔ ترمذی، کتاب المناقب 3736۔ النسائی، کتاب الایمان والشرائعه 8/ 116، ابن ماجه، المقدمة 114۔
② سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحب عليا منافق ولا يبغضه مؤمن
”منافق شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرے گا اور مومن شخص اس سے بغض نہیں رکھے گا۔“
ترمذی 1161، 3717، مسند احمد 6/ 292 اگرچہ یہ روایت مساور الحميرِي کی وجہ سے ضعیف ہے جو کہ مجہول ہے۔ لیکن حدیثِ سابق کی وجہ سے حسن ہے۔
③ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
من أحبني وأحب هذين وأباهما وأمهما كان معي فى درجتي يوم القيامة
”جس شخص نے مجھ سے، ان دونوں سے، ان دونوں کے والد اور ان دونوں کی والدہ سے محبت کی تو وہ قیامت کے دن میرے درجے میں میرے ساتھ ہو گا۔“
ترمذی، کتاب المناقب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 3733۔ اس کی سند علی بن جعفر کی وجہ سے ضعیف ہے۔
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحبوا الله لما يغذوكم من نعمه وأحبوني بحب الله وأحبوا أهل بيتي
”اللہ نے جو تمہیں اتنی نعمتوں سے نوازا ہے تو اس سے محبت کرو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔“
ترمذی، کتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 3789۔ یہ روایت عبد اللہ بن سلیمان النوفلی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔
⑤ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ اور سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے متعلق فرمایا:
أنا حرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم
”جس سے تمہاری لڑائی ہے اس سے میری لڑائی ہے اور جس سے تمہاری صلح ہے اس سے میری صلح ہے۔“
ترمذی، کتاب المناقب 3870، ابن ماجه، المقدمة 145۔ یہ روایت شیخِ راوی کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔