سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا

سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا، چنانچہ بحفاظت حدود مصر سے نکل کر مدین کے علاقہ میں پہنچ گئے، اور چلتے چلتے ایک کنویں کے پاس جا پہنچے تو دو لڑکیاں ملیں، جن کی بکریوں کو آپ علیہ السلام نے پانی پلا دیا، پھر ایک درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گئے، اور دعا کی کہ میرے رب! روزی حاصل کرنے کا جو ذریعہ ابھی میرے سامنے ظاہر ہوا ہے، میں اس کا محتاج ہوں، یعنی لڑکیوں کے والد کو ایک مزدور چاہیے اور مجھے روزی کی ضرورت ہے:
﴿رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ﴾ ‎
”اے میرے مالک! تو جو کوئی نعمت مجھ پہ اتارے تو میں اس کا محتاج ہوں۔“
(28-القصص:24)