اللہ تعالیٰ سے محبت کی فضیلت اور اس کے دنیوی و اُخروی ثمرات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فضل الولاء للٰہ سبحانہٗ و تعالٰی

اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے محبت کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ بشارتیں ہی بشارتیں ہیں ان کے لئے آخرت میں کسی قسم کا خوف ہو گا نہ غم۔

❀ [اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ]،[الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ]،[ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ]

سنو! اللہ کے وہ دوست جو اللہ پر ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا، ان کے لئے کسی قسم کا خوف نہیں اور نہ ہی وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔ ان کے لئے دنیا کی زندگی اور آخرت (دونوں جگہ) بشارتیں ہیں (یاد رکھو) اللہ کی باتیں (یعنی وعدے) بدل نہیں سکتیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (سورۃ یونس:62-64)

اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بھی محبت فرماتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی محبت میں زندگی بسر کرنا اللہ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ہے۔

❀ [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ]

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! (یاد رکھو) تم میں سے جو شخص ایمان لانے کے بعد اپنے دین سے پھر جائے گا اللہ تعالیٰ (اس کی جگہ) ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرے گا جو مسلمانوں پر مہربان ہوں گے اور کافروں کے لئے سخت ہوں گے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے۔ (سورۃ المائدۃ:54)

❀ [عن عبادة بن الصامت، أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءہ]

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات پسند نہیں کرتا اللہ بھی اس سے ملاقات پسند نہیں کرتا۔ [صحیح المسلم:2683]

اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے محبت کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے۔

❀ [عن أبي ذر، قال: خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أتدرون أي الأعمال أحب إلى الله؟ قال قائل: الصلاة والزكاة، وقال قائل: الجهاد، قال: إن أحب الأعمال إلى الله الحب في الله، والبغض في الله]

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: جانتے ہو اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل کون سا ہے؟ کسی نے جواب دیا، نماز اور زکاۃ۔ کسی نے عرض کیا جہاد۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین عمل یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے محبت کی جائے اور اللہ کی رضا کے لئے غصہ کیا جائے۔ [مسند احمد:21303]

اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کے چہرے قیامت کے روز اس قدر نورانی ہوں گے کہ انبیاء اور شہداء بھی ان کے درجات کی تحسین فرمائیں گے۔

❀ [عن عمر بن الخطاب، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن من عباد الله لأناسا ما هم بأنبياء، ولا شهداء يغبطهم الأنبياء، والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله تعالى، قالوا: يا رسول الله، تخبرنا من هم؟، قال: هم قوم تحابوا بروح الله على غير أرحام بينهم، ولا أموال يتعاطونها، فوالله إن وجوههم لنور، وإنهم على نور، لا يخافون إذا خاف الناس ولا يحزنون إذا حزن الناس، وقرأ هذه الآية: أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ]

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو نبی ہوں گے نہ شہداء لیکن قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انہیں ایسے درجات سے نوازیں گے جنہیں انبیاء اور شہداء بھی تحسین کی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو بغیر کسی رشتہ یا مالی لین دین کے محض اللہ کی رحمت (کے حصول کے لئے) ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور وہ نور (کے منبروں) پر ہوں گے۔ جب لوگ خوف زدہ ہوں گے تو انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ جب لوگ غم میں مبتلا ہوں گے تو وہ بے غم ہوں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی، سنو! اللہ کے دوستوں کو خوف ہوگا نہ غم۔ (سورۃ یونس:62) [سنن ابوداؤد:3527]

اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے محبت کرنے والے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔

[عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله، الإمام العادل، وشاب نشأ في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی (للهى) (اللہ کے لیے محبت) محبت ہے۔ [صحیح البخاری:660]

اللہ تعالیٰ سے دوستی کرنا دنیا و ما فیہا سے افضل ہے۔

❀ [عن أبو هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم, وهو يقول: الدنيا ملعونة ملعون, ما فيها إلا ذكر الله, وما والاه أو عالما أو متعلما]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: دنیا ملعون ہے اور دنیا کی ہر چیز ملعون ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے اور سوائے اس کے جسے اللہ دوست رکھے اور سوائے عالم دین اور طالب علم کے۔ [سنن ابن ماجہ:4112]

اللہ سے دوستی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ دعائیں قبول فرماتے ہیں۔

❀ [عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے میرے دوست سے دشمنی کی اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے، میرا بندہ جن عبادتوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے مجھے سب سے زیادہ پسند فرض عبادتیں ہیں (فرضوں کے بعد) نفل عبادت کرتے کرتے بندہ میرے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں بندے سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ (صرف وہی کچھ) سنتا ہے (جس کی میں نے اجازت دی ہے) میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ (صرف وہی کچھ) دیکھتا ہے (جس کی میں نے اجازت دی ہے) اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ (صرف اسے ہی) پکڑتا ہے (جس کی میں نے اجازت دی ہے) اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ (صرف اسی طرف) چل کر جاتا ہے (جس کی طرف جانے کی میں نے اجازت دی ہے) اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور جب وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔ [صحیح البخاری:6502]

اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور آسمانوں کے سارے فرشتے محبت کرتے ہیں اور زمین والوں کے درمیان بھی اسے ہر دلعزیز بنا دیا جاتا ہے۔

❀ [عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله إذا أحب عبدا دعا جبريل، فقال: إني أحب فلانا فأحبه، قال: فيحبه جبريل، ثم ينادي في السماء، فيقول: إن الله يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء، قال: ثم يوضع له القبول في الأرض]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتے ہیں میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور (ساتھ ہی) آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ فلاں شخص سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے (سب کے سب) اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ [صحیح السملم:2637]

اللہ تعالیٰ سے محبت مومن کو ایمان کامل کے درجہ تک پہنچا دیتی ہے۔

❀ [عن أبي أمامة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أنه قال: من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله، فقد استكمل الإيمان]

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ (کی رضا) کے لئے محبت کی، اللہ کے لئے غصہ کیا، اللہ کے لئے دیا اور اللہ کے لئے نہ دیا اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ [سنن ابوداؤد:4681]

❀ [عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي ذر: أي عرى الإيمان أظنه قال: أوثق؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: الموالاة في الله، والمعاداة في الله، والحب في الله، والبغض في الله]

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا سب سے مضبوط کڑا اللہ (کی رضا) کے لئے دوستی کرنا، اللہ کے لئے دشمنی رکھنا، اللہ کے لئے محبت کرنا اور اللہ کے لئے غصہ کرنا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني:11537]

اللہ تعالیٰ سے محبت ہی مومن کے ایمان میں حلاوت پیدا کرتی ہے۔

[عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان، من كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر بعد أن أنقذه الله منه، كما يكره أن يقذف في النار]

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی ٹھیک ٹھیک حلاوت محسوس کرے گا۔ [1] اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت کرنا۔ [2] کسی دوسرے آدمی سے صرف اللہ کے لئے محبت کرنا۔ [3] جس کفر سے اللہ تعالیٰ نے اسے بچایا ہے اس میں واپس پلٹنا اسے اتنا ہی برا لگے جتنا آگ میں جانا بر الگتا ہے۔ [صحیح المسلم:43]

اللہ کے لئے محبت کرنے والے کویہ دعا دینی چاہئے۔ (اللہ تجھ سے محبت کرے)۔

❀ [عن أنس بن مالك، أن رجلا كان عند النبي صلى الله عليه وسلم فمر به رجل، فقال: يا رسول الله، إني لأحب هذا, فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أعلمته؟ قال: لا, قال: أعلمه, قال: فلحقه، فقال: إني أحبك في الله, فقال: أحبك الذي أحببتني له]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اتنے میں ایک آدمی وہاں سے گزرا تو اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے اسے بتایا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آگاہ کردے۔ چنانچہ وہ آدمی اس کے پیچھے گیا اور اسے بتایا: میں تم سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ جواب میں اس نے اسے یہ دعا دی تجھ سے وہ ذات محبت کرے جس کے لئے تو نے مجھ سے محبت کی۔ [سنن ابی داؤد:5125]