مسجد نبوی اور قبر مبارک کی شرعی زیارت کا صحیح طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

مسجد نبوی اور قبر مبارک کی زیارت :

مسجد نبوی کی زیارت کے لیے جو سفر کیا جائے وہ مستحب ہے۔ چنانچہ اس سفر میں تمام ائمہ کرام کے نزدیک نماز قصر کرنا ضروری ہے۔ کسی امام سے پوری نماز پڑھنا منقول نہیں اور نہ ہی کسی امام سے منقول ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع ہے۔ مسجد نبوی کی زیارت کرنے والے کو قبر مکرم کی زیارت بھی ہو جائے گی۔ اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ قبر مکرم کی زیارت افضل ترین عمل ہے۔ اس بارے میں میری یا کسی دوسرے عالم کی تحریر سے اس کی نفی ثابت نہیں ہے۔ انبیاء کرام، صالحین امت رحمہم اللہ اور دیگر افراد کی قبروں کی زیارت کی شرعی حیثیت مسلم ہے بلکہ ہم نے زیارت قبور کو مستحب قرار دیا ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع اور شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔

زیارت القبور کی دعاء :

نیز صحابہ کو قبرستان میں جا کر مندرجہ ذیل دعاء پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ
”اے مسلمانو اور مومنو! تم پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہو، ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، اللہ تم پر اور ہم سب پر رحم فرمائے۔ ہم اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے عافیت کی دعاء کرتے ہیں۔ اے اللہ کریم! ان کے اجر سے ہمیں محروم نہ کرنا اور ان کے بعد ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا نہ کر دینا۔ اے اللہ! ان کو اور ہم سب کو معاف فرما۔“
(صحيح مسلم – كتاب الجنائز : باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لاهلها حديث : 975 – 974)

قبر مبارک کی زیارت اور درود و سلام :

جب عام لوگوں کی قبروں کی زیارت شریعت اسلامیہ میں مسلم ہے تو انبیاء اور صالحین امت رحمہم اللہ کی قبروں کی زیارت بالاولیٰ ثابت ہوگی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہمیں حکم ہے کہ ہم نماز، اذان، مسجد نبوی اور دیگر تمام مساجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت نیز ہر دعاء مانگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہیں۔ پس ہر وہ شخص جو مسجد نبوی میں داخل ہو اس پر لازم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے۔
مسجد نبوی کی زیارت کے لیے سفر کرنا مشروع ہے لیکن علماء نے آپ کی مسجد اور دیگر مقامات کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھا ہے، حتیٰ کہ امام مالک رحمہ اللہ سے ”زرت قبر النبی“ کہنے کی کراہت منقول ہے، کیونکہ قبرستان کی زیارت کا مقصد وحید یہ ہے کہ انسان اہل قبور کے لیے دعاء اور سلام کہے اور یہ وظیفہ نماز پڑھتے ہوئے، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت، اذان اور دعاء کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیج کر پورا ہو جاتا ہے۔ پس ہر شخص کو دعاء کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہنا مسنون و مستحب ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ مومنوں کو عزیز ہیں۔ چنانچہ ہر نمازی اپنے اور تمام صالحین بندوں پر سلام کہنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کہتا ہے کہ:
السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ
”اے نبی! آپ پر سلام ہو۔ اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اللہ کا سلام ہم پر اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر ہو۔“
قبر مکرم کے سوا کسی بھی قبر کے نزدیک کوئی ایسی مسجد نہیں جس کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھنا مستحب ہو۔ البتہ قبر مکرم کی زیارت کرنا درست ہے جیسے عام قبرستان میں جانا جائز ہے۔