مرد و زن کے رفع الیدین میں فرق: دلائل کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب مسئلہ رفع الیدین سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مردوں اور عورتوں کے رفع الیدین میں فرق

مردوں اور عورتوں کے ہاتھ اٹھانے میں کوئی فرق نہیں، مردوں کا ہمیشہ کانوں تک اور عورتوں کا کندھوں تک رفع الیدین کرنا، کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ نہ ہی یہ فرق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے باسندِ صحیح ثابت ہے۔ بعض احباب کہتے ہیں کہ عورت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھائے گی اور چادر کے اندر ہی ہاتھ اٹھائے گی، ان کی یہ بات بے دلیل ہے۔

اس سلسلے میں پیش کیے جانے والے دلائل کا علمی و تحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے:

① سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[يا وائل بن حجر، إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك، والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها]
اے وائل بن حجر! آپ نماز پڑھتے وقت اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے برابر رکھیں اور عورت اپنے ہاتھوں کو اپنے پستانوں کے برابر رکھے۔
[المعجم الكبير للطبراني: 19/22 رقم:28]

تبصرہ:

ام یحییٰ ’’مجہولہ‘‘ ہے،
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[لم أعرفها]
میں اسے پہچان نہیں پایا۔
[مجمع الزوائد: 103/2]
❀ ابن ترکمانی حنفی (750ھ) لکھتے ہیں:
[أم يحيىٰ لم أعرف حالها ولا اسمها]
میں ام یحییٰ کے حالات نہیں جان نہیں پایا، نہ مجھے اس کا نام معلوم ہوا ہے۔
[الجوهر النقي في الرد على البيهقي: 30/2]
اس کی راویہ میمونہ بنت عبدالجبار کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔ جس روایت کے دو راویوں کی توثیق نہ ہو، اس سے کیونکر حجت پکڑی جا سکتی ہے؟

② امام ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

[قلت لعطاء: تشير المرأة بيديها بالتكبير كالرجل؟ قال: لا ترفع بذٰلك يديها كالرجل، وأشار فخفض يديه جدا، وجمعهما إليه جدا، وقال: إن للمرأة هيئة ليست للرجل، وإن تركت ذٰلك، فلا حرج]
میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا عورت تکبیر (تحریمہ) میں مرد کی طرح ہی رفع الیدین کرے گی؟ فرمایا: وہ اپنے ہاتھوں کو مرد کی طرح نہیں اٹھائے گی، پھر انہوں نے اشارہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو بہت زیادہ جھکایا اور آپس میں بہت زیادہ جوڑ کر فرمایا: عورت کے لیے ایسی کیفیت ہے، جو مردوں کے لیے نہیں۔ اگر عورت اس کیفیت کو چھوڑ دے، تو کوئی حرج نہیں۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 239/1، وسنده صحيح]

تبصرہ:

یہ امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا اجتہاد ہے، وہ بتا رہے ہیں کہ عورت کے ہاتھ اٹھانے کی ہیئت ہے، اگر وہ ہیئت ترک بھی کر دے تو کوئی حرج نہیں۔

شارحِ بخاری حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:

[لم يرد ما يدل على التفرقة في الرفع بين الرجل والمرأة]
ایسی کوئی روایت نہیں، جو مرد و زن کے رفع الیدین میں فرق پر دلالت کرے۔
[فتح الباري: 222/2]

③ عبدربہ سلیمان شامی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

[رأيت أم الدرداء ترفع يديها في الصلاة حذو منكبيها حين تفتتح الصلاة، وحين تركع وإذا قال: سمع الله لمن حمده رفعت يديها، وقالت: ربنا ولك الحمد]
میں نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ نماز کے شروع میں کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتیں، جب رکوع کرتیں اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتیں، تو رفع الیدین کرتیں، نیز ربنا ولک الحمد کہتیں۔
[جزء رفع اليدين للبخاري: 24، وسنده حسن]

تبصرہ:

بعض حضرات اس روایت سے آدھا استدلال لیتے ہیں، وہ اس سے ثابت کرتے ہیں کہ عورت کندھوں تک ہاتھ اٹھائے گی، لیکن یہ اسی روایت کا اگلا حصہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کے رفع الیدین کے متعلق بیان ہوا۔ اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
الغرض: مرد اور عورت کا نماز میں ہاتھ اٹھانے کے حوالے سے کسی صحیح حدیث میں فرق ثابت نہیں۔ مدعی پر دلیل لازم ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مرد بھی حدیث کی پیروی میں کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔

④ عاصم الاحول رحمہ اللہ کہتے ہیں:

[رأيت حفصة بنت سيرين، كبرت في الصلاة، وأومأت حذو ثدييها]
میں نے حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ کو دیکھا، آپ نے نماز میں اللہ اکبر کہا اور اپنی چھاتی تک (رفع الیدین کرتے ہوئے) اشارہ کیا۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 2475]

تبصرہ:

سند ’’موضوع‘‘ ہے، یحییٰ بن میمون بن عطاء تمار ’’متروک و کذاب‘‘ ہے۔
❀ امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان كذابا، حدث عن علي بن زيد بأحاديث موضوعة روى عن عاصم الأحول أحاديث منكرة]
یہ کذاب ہے، اس نے علی بن زید بن جدعان سے موضوع احادیث روایت کیں ہیں اور عاصم احول سے منکر روایات بیان کیں ہیں۔
[الجرح والتعديل: 189/9، نصب الراية: 26/1]
یہ قول بھی عاصم احول رحمہ اللہ سے روایت کردہ ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔ (تقریب التہذیب: 7656)

⑤ امام حماد رحمہ اللہ سے مروی ہے:

[إنه كان يقول في المرأة إذا استفتحت الصلاة، ترفع يديها إلىٰ ثدييها]
آپ رحمہ اللہ عورت کی بابت فرماتے ہیں کہ جب وہ نماز شروع کرے، تو اپنے ہاتھ چھاتیوں تک اٹھائے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 2473]

تبصرہ:

سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ کا خالد بن حیان مرقی سے سماع ثابت نہیں ہے۔
عیسیٰ بن کثیر کی توثیق درکار ہے!
عیسیٰ بن کثیر کا امام حماد رحمہ اللہ سے سماع بھی ثابت کیا جائے!
کسی صحابیہ یا تابعیہ سے چھاتی تک ہاتھ اٹھانا باسندِ صحیح ثابت نہیں۔

فائدہ:

❀ احناف کی معتبر کتاب میں لکھا ہے:
[المرأة ترفع اليد كما يرفع الرجل في رواية الحسن عن أبي حنيفة]
حسن بن زیاد (متہم بالکذب) نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ عورت مردوں کی طرح ہی ہاتھ اٹھائے گی۔
[فتاویٰ قاضی خان: 61/1]

الحاصل:

مرد و زن کے طریقۂ رفع الیدین میں کوئی فرق نہیں۔