نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کی ممانعت اور استخارے کے متعلق احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كيف أنت إذا كانت عليكم أمراء يؤخرون الصلاة عن وقتها أو يميتون الصلاة عن وقتها؟
”تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہو گی جب تم پر ایسے امراء ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا وہ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنے میں کمزوری ظاہر کریں گے؟“
راوی بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صل الصلاة لوقتها فإن أدركتها معهم فصل فإنها لك نافلة
”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، اگر تو ان کے ساتھ بھی نماز پا لے تو پھر پڑھ لینا، وہ تمہارے لیے نفل ہو گی“۔
مسلم كتاب المساجد و مواضع الصلوة 648/238۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 431۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1256۔
② سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أبا ذر إنه سيكون بعدي أمراء يميتون الصلاة فصل الصلاة لوقتها فإن صليت لوقتها كانت لك نافلة وإلا قد أحرزت صلاتك
”اے ابوذر! عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے میں کمزوری ظاہر کریں گے، پس نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، اگر تم نے اسے وقت پر پڑھ لیا تو تیرے لیے نفل ہو گی، ورنہ تم نے اپنی نماز کو بچا لیا“۔
مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة 648/239۔
③ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنهم میں پیچھے رہنے کا طرز عمل دیکھا تو انہیں فرمایا:
تقدموا فأتموا بي وليأتم بكم من بعدكم ولا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله
”آگے بڑھو میری اقتدا کرو اور تمہارے بعد آنے والے تمہاری اقتدا کریں گے، لوگ پیچھے ہوتے چلے جائیں گے حتی کہ اللہ انہیں پیچھے کر دے گا۔“
مسلم، كتاب الصلوة 438/130۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 680۔
④ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال قوم يتأخرون عن الصف الأول حتى يؤخرهم الله فى النار
”لوگ پہلی صف سے پیچھے ہوتے رہیں گے حتی کہ اللہ انہیں جہنم میں پیچھے دھکیل دے گا۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 689۔

استخارے کے متعلق احکامات

① سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام امور میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے جس طرح ہمیں قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو اسے چاہیے کہ وہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر یہ دعا پڑھے:
اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي فى ديني ومعاشي وعاقبة أمري (أو قال:) عاجل أمري وآجلهفاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي فى ديني ومعاشي وعاقبة أمري (أو قال: ) عاجل أمري وآجلهفاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به ويسمي حاجته
”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی وجہ سے خیر چاہتا ہوں، تیری قدرت کے ذریعے قدرت چاہتا ہوں، تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں؛ کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو تمام پوشیدہ چیزیں جانتا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری معاش اور میری آخرت کے بارے میں میرے لیے بہتر ہے (یا فرمایا: میرے فوری معاملے اور بعد کے معاملے میں) تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت رکھ دے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم کے مطابق یہ کام میرے لیے دین، معاش (دنیا) اور انجامِ کار میں برا ہے (یا فرمایا: میرے فوری معاملے اور بعد کے معاملے میں) تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور خیر و بھلائی جہاں کہیں بھی ہو میرے لیے مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“ اور اپنی حاجت کا نام لے۔
بخاری، کتاب التوحيد، حديث 7390۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة، حديث 1538۔
اس میں اشارہ ہے کہ رب تعالیٰ کی عطا اس سے افضل ہے۔ اس کی نعمتوں کے متعلق اس پر کسی کا کوئی حق نہیں۔ جیسا کہ اہل السنہ کا مذہب ہے۔
فتح الباری 189/11۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ نماز، فرض نماز کے علاوہ دو رکعت الگ نماز ہے۔ اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد فرض نہ ہو اور جو اس کے متعلق ہو۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ فجر کی دو سنتوں کے علاوہ الگ نماز ہے۔ الشیخ النووی رحمہ اللہ نے ”الاذکار“ میں کہا ہے: اگر نمازِ ظہر کی سنتوں کے بعد یا کسی بھی نفل نماز کے بعد دعائے استخارہ کی جائے تو ٹھیک ہے خواہ دو رکعتیں ہوں یا زیادہ، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: اسے مطلق قرار دینے میں نظر (یعنی درست نہیں) ہے۔ اور جو ظاہر ہے وہ اس طرح ہے کہ اگر اس شخص نے وہ مذکورہ نماز اور نمازِ استخارہ کی ایک ساتھ نیت کی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ لیکن اگر اس نے ان دونوں نمازوں کی ایک ساتھ نیت نہیں کی تو پھر ٹھیک نہیں۔ تحیۃ المسجد کی نماز کا فرق کیا جائے گا؛ کیونکہ اس سے مراد دعا میں مشغول ہونا ہے، جبکہ نمازِ استخارہ سے مراد ہے کہ دعا اس کے بعد کی جائے یا اس کے دوران کی جائے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد دعا کی جائے۔ اس لیے کہ ظاہری خبر کے مطابق یہی ہے کہ نماز اور دعا معاملے کے ارادے کے وجود کے بعد ہو۔
دیکھئے فتح الباری 189/11۔