من گھڑت کرامات اور توحید فی التصرف کا انکار

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

بے بس و مجبور نام نہاد داتا:

توحید فی التصرف کے متعلق تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔

ان صاحبان کے نام نہاد داتا کتنے مجبور ہیں، ثبوت کے لیے اخبار کا تراشہ پیشِ خدمت ہے: دربار کر مانوالہ شریف قبضہ گروپ سے واگزار کرانے کا مطالبہ۔ لاہور (پ۔ر) انجمن محبانِ حضرت کر مانوالہ شریف کے رہنماؤں شوکت علی، ایچ اے شیخ، ممتاز احمد، محمد طفیل اور عبدالغفور نے صوبائی وزیر اوقاف سے مطالبہ کیا ہے کہ بابا جی سرکار کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، دربار کو قبضہ گروپ سے واگزار کرایا جائے۔ (روزنامہ جنگ لاہور 30 اپریل، 2000ء)

امریکہ نے ان کے نام نہاد غوثِ اعظم کے شہر بغداد پر بلکہ سارے عراق پر جن میں شیعوں کے متبرک مقامات کربلا وغیرہ بھی شامل ہیں، اپریل 2003ء میں قبضہ کر لیا اور اب 2006ء تک امریکہ کا قبضہ ہے۔ ثابت ہوا کہ یہ ان کے غوثِ اعظم نہیں کیونکہ وہ اپنے ملک اور شہر کا دفاع بھی نہیں کر سکے۔ ان کی فریاد رسی وہ کیا کریں گے؟ آج کل بہت سے کلمہ گو لوگ ‘بری بری امام بری….. میری کھوٹی قسمت کرو کھری’ کہتے ہیں، اس کی حقیقت کچھ یوں ہے، میرے سامنے اس وقت نوائے وقت لاہور مورخہ 16 فروری 2005ء موجود ہے جس کے صفحہ اول پر یہ خبر ہے کہ درگاہ بری امام کی روحانی شخصیت راجہ اکرم سمیت 4 افراد قتل۔ راجہ اکرم نمازِ جنازہ ادا کر کے واپس آ رہے تھے کہ چھپ کر حملہ کیا گیا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ اگر امام بری اپنے خلیفہ کی حفاظت نہ کر سکے اور راجہ اکرم کو نہ بتا سکے کہ حملہ آور تمھارے قتل کے لیے چھپے ہوئے ہیں تو سوچیے امام بری ان لوگوں کی کیا کارسازی کریں گے؟

غیر اللہ میں تصرف کے اختیارات ماننے کی کچھ جھلکیاں اولیاء اللہ کا مقام:

اس میں شک نہیں کہ اولیاء اللہ کا مقام بہت بلند ہے، یہ اللہ کی دوستی کے منصب پر فائز ہیں، مگر ستم یہ ہے کہ ان کے حالات لکھنے والوں نے نہایت نادان دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ وہ اگر بہترین مسلمان تھے تو یقیناً انہوں نے توحید ہی پھیلائی ہوگی اور اتباعِ سنت ہی پر زور دیا ہوگا مگر سوانح نگاروں نے ان کا جو نقشہ کھینچا ہے، ان کی جو منظر کشی کی ہے وہ نہایت مکروہ اور مضحکہ خیز ہے۔ اس کے مطابق کبھی وہ جادوگر نظر آتے ہیں، کبھی بھوت پریت لگتے ہیں، کبھی پاگل دکھلائی دیتے ہیں، کبھی شعبدہ باز معلوم ہوتے ہیں اور کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ ان کا لنگوٹیا ہو (نعوذ باللہ!) مثلاً سنیے!

[1] ابراہیم بن ادہم قدم قدم پر دو نفل پڑھتے ہوئے چودہ برس میں بلخ سے خانہ کعبہ کے مقام پر پہنچے تو خانہ کعبہ ندارد۔ ہاتف غیبی نے آواز دی کہ وہ جنگل میں ایک ضعیفہ کی زیارت کو گیا ہے، وہاں پہنچے تو دیکھا کہ خانہ کعبہ رابعہ بصری کا طواف کر رہا ہے۔ [انیس الارواح مترجم ص 17]،[ملفوظات عثمان ہارونی، مرتبہ معین الدین اجمیری]

[2] با یزید بسطامی نے فرمایا: خانہ کعبہ نے میرے گرد طواف کیا۔

[دلیل العارفین، ملفوظات معین الدین اجمیری، مرتبہ بختیار کاکی:ص97]

[3] فرمایا میں دو انگلیوں کے درمیان دنیا و مافیہا کو دیکھتا ہوں۔ [ایضا،ص100]

[4] مقامِ قرب میں پہنچے تو ہاتف نے آواز دی:با یزید! ہم نے بہشت، دوزخ، عرش، کرسی جو کچھ ہماری مملکت ہے، تجھے دے دیا ہے۔کہا تیری عزت و جلال کی قسم! قیامت کے دن آتشِ دوزخ کے سامنے کھڑا ہو کر ایسی سرد آہ کھینچوں گا کہ دوزخ کی حرارت زائل ہو جائے گی حتیٰ کہ کچھ نہ رہے گی۔ [ایضا،ص97]

[5] فرمایا: سبحانی ما اعظم شانی۔ [فوائد فریدیہ مترجم ص 73]

[6] فرمایا: میرا جھنڈا محمد (ﷺ) کے جھنڈے سے زیادہ ہے۔ (ایضا) (نعوذ باللہ!)

[7] فرمایا: میرے دل میں دنیا کا خیال آتا ہے تو وضو کرتا ہوں، آخرت کا خیال آتا ہے تو غسلِ جنابت کرتا ہوں۔ [کشف المحجوب باب31،ص403]

[8] آپ حج کے لیے جا رہے تھے، راستہ میں ایک مفلس ملا، اس نے کہا: یہ رقم مجھے دے کر سات مرتبہ میرا طواف کر لیجیے، آپ کا حج ہو جائے گا۔ آپ نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔ [تذکرہ اولیاء ص101،شیخ فرید الدین عطار]

[9] فرمایا: چالیس برس تک عام انسانوں کی غذا چکھی تک نہیں کیونکہ میرا رزق کہیں اور سے آتا ہے۔ [ایضا،ص103]

[10] فرمایا: خدا کو طالب اور خود کو مطلوب پایا۔ (ایضاً)

[11] فرمایا: اگر تجھ کو صفات آدم (علیہ السلام)، قدس جبریل علیہ السلام، خلعت ابراہیم علیہ السلام، شوق موسیٰ علیہ السلام، پاکیزگی عیسیٰ علیہ السلام اور حب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ عطا ہو جائے، جب بھی خوش نہ ہونا کیونکہ یہ سب حجابات ہیں۔ (ایضاً ص 105)

[12] فرمایا: میں اب ایسا بے نیاز ہو چکا ہوں کہ مجھے نماز معاف ہو چکی ہے۔ (ایضاً ص 105)

[13] کسی نے پوچھا: آپ کے پاس عورتوں کا اجتماع کیوں رہتا ہے، اس میں کیا راز ہے؟ فرمایا: یہ ملائکہ ہیں، میں انہیں علمی مسائل سمجھاتا ہوں۔ (ایضاً ص 108)

[15] خدا نے جن قلوب کو بار محبت اٹھانے کے قابل نہیں پایا ان کو عبادت کی طرف لگا دیا۔ (ایضاً ص 118)

[15] پوچھا گیا:آپ رات میں نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا: مجھے عالم ملکوت کے چکر لگانے ہی سے فرصت نہیں ملتی، اس کے علاوہ لوگوں کی اعانت کرتا رہتا ہوں۔ (ایضاً ص 120)

[16] میں خدا کو دوست نہیں بلکہ وہ مجھے دوست رکھتا ہے۔ (ایضاً ص 121)

[17] مجھے وہ اوصاف حاصل ہوئے کہ اگر ان میں ایک حبہ کے برابر بھی سایہ آئے تو نظام عالم درہم برہم ہو جائے۔ (ایضاً ص 116)

[18] عرش، کرسی، قلم، ابراہیم (علیہ السلام)، موسیٰ (علیہ السلام)، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)، ملائکہ میں ہوں۔ (ایضاً ص 122)

[19] میرے علم کے نیچے مخلوق کے علاوہ انبیائے کرام بھی ہوں گے۔ (ایضاً ص 124)

[20] فضیل بن عیاض نے فرمایا: میں عرش، کرسی، لوح اور قلم ہوں، میں جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل ہوں، میں موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں۔ (فوائد فریدیہ ص 72۔ مصنف خواجہ غلام فرید)

[21] حمزہ خراسانی نے دنبے کی آواز سن کر فرمایا: [لبیک جل شانہٗ] اور وجد میں آ گئے۔ (ایضاً ص 72)

[22] حسین بن منصور نے فرمایا: عارف ایمان نہیں لاتا تاکہ کافر نہ بن جائے۔ (ایضاً ص 76)

[23] کسی نے کہا: اے حسین بن منصور! تو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ فرمایا: افسوس ہے تجھ پر تو نے میری قدر کم کر دی، میں تو خدائی کا دعویٰ کرتا ہوں تو پیغمبری کا دعویٰ کہتا ہے۔ (ایضاً۔ ص 76) (العیاذ باللہ)

[24] ابوالعباس نے فرمایا: سورج میرے حکم سے طلوع ہوتا ہے۔ (ایضاً ص 78)

[25] ابوالحسن خرقانی نے فرمایا: صبح سویرے اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ کشتی کی اور ہمیں پچھاڑ دیا۔ (ایضاً ص 78)

[26] فرمایا: میں اپنے رب سے دو سال چھوٹا ہوں۔ (ایضاً۔ ص 78)

[27] حضرت جنید بغدادی کا ایک مرید بد اعتقاد ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: میں نے تجھے ولایت سے برطرف کر دیا۔ اسی وقت اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا، وہ چلا رہا تھا کہ راحت میرے دل سے غائب ہو گئی۔ وہ توبہ میں مشغول ہو گیا۔ جنید نے کہا تو نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل کے اولیاء رازوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہوتے ہیں اور تو ان کے ضرب کی تاب نہیں لا سکے گا۔ پھر انھوں نے اس پر دم کیا، وہ مراد کو پہنچ گیا۔ (کشف المحجوب، مترجم ص 205)

[28] علی ہجویری نے کئی بار با یزید کے مزار کی مجاورت کی۔ (کشف المحجوب)

[29] جنید یا اللہ! کہتے ہوئے زمین کی مثل چل کر دجلہ نہر کو پار کرنے لگے۔ ایک شخص نے کہا میں کس طرح آؤں؟ فرمایا: یاجنید، یاجنید کہتا ہوا چلا آ۔ چنانچہ وہ بھی دریا پر زمین کی مثل چلنے لگا۔ بیچ دریا میں پہنچا تو شیطان نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یا اللہ! کہیں اور مجھ سے یاجنید! کہلواتے ہیں۔ اس نے یا اللہ! کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا حضرت میں چلا۔ فرمایا یہی کہہ یاجنید، یاجنید۔ جب کہا، دریا سے پار ہوا۔ عرض کی حضرت یہ کیا بات تھی، آپ یا اللہ! کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاؤں؟ فرمایا اے نادان! ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں اللہ تک رسائی کی ہوس ہے۔ (ملفوظات ص 117۔ از احمد رضا خاں)

[30] ایک مرتبہ آپ کے وعظ کے دوران چالیس افراد میں سے 22 پر غشی طاری ہوگئی اور 8 انتقال کر گئے۔ (تذکرہ اولیاء، ص 218)

[31] ایک ہندو لڑکا بے گناہ پھانسی چڑھ گیا۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی دعا سے دوبارہ زندہ ہو گیا۔ یہ کرامت دیکھ کر ہزاروں ہندو مسلمان ہو گئے۔ (اسرار الاولیاء ص 110، ملفوظات خواجہ فرید الدین گنج شکر، مرتبہ خواجہ بدر اسحاق)

[32] تین ابدال اڑتے ہوئے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی خانقاہ سے گزرے، دو تو ادب سے دائیں بائیں ہٹ گئے ایک نے عین اوپر سے گزرنا چاہا تو گر گیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے اور حالت خراب ہوگئی۔ (فوائد الفواد ص 45۔ ملفوظات نظام الدین اولیاء مرتبہ خواجہ حسن دھلوی)

[33] شب معراج جب رسول اللہﷺ کی موسیٰ سے ملاقات ہوئی تو امام غزالی بھی حاضر ہو گئے۔ (امداد المشتاق، مصنفہ اشرف علی تھانوی۔ ص 92)

[34] خواجہ عثمان ہارونی کی مہربانی سے معین الدین اجمیری کو عرش، تحت الثریٰ، حجاب، عظمت اور پھر دو انگلیوں کے درمیان 18 ہزار عالم نظر آئے۔ (انیس الارواح ص 4، 5)

[35] نبی اکرمﷺ کے معجزہ سے ابوبکر صدیقؓ، عمر فاروقؓ، علی بن ابی طالبؓ، ابوذر غفاریؓ بذریعہ ہوائے سلیمانی ایک کمبل کے ساتھ اڑ کر اصحاب کہف کو مسلمان بنا آئے۔ (فوائد الفواد ص 209)

[36] شیخ مودود چشتی اور ایک درویش مراقبہ میں خرقے کے اندر ہی اندر سے غائب ہو کر کوہ قاف کی سیر کر آئے۔ (دلیل العارفین۔ ص 85)

[37] جب خواجہ مودود چشتی کو اشتیاق کعبہ غالب ہوتا تو فرشتوں کو حکم ہوتا کہ خانہ کعبہ کو چشت میں پہنچا دیں اور خواجہ کے آگے کر دیں۔ جب خواجہ اسے دیکھتے، طواف کرتے، نماز پڑھتے پھر فرشتے اس کو اس کے مقام پر پہنچا دیتے۔ (فوائد السالکین۔ ص 168۔ ملفوظات بختیار کاکی مرتبہ فرید الدین گنج شکر)

[38] قیوم ثالث خواجہ محمد نقش بندی مکہ پہنچے تو کعبہ معظمہ آپ کے استقبال کو آیا اور گلے ملا۔ (مشائخ نقش بندی ص: 413)

[39] شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا: میں نے داروغہ جہنم سے دریافت کیا میرے مریدوں میں سے تمھارے پاس کوئی ہے؟ جواب دیا عزت پروردگار کی قسم! کوئی بھی نہیں۔ دیکھو میرا دست حمایت میرے مریدوں پر ایسا ہے جیسے آسمان زمین کے اوپر۔ اگر میرا مرید اچھا نہیں تو کیا ہوا، میں تو اچھا ہوں۔ جلالِ پروردگار کی قسم! جب تک میرے تمام مرید بہشت میں نہیں چلے جائیں گے میں بارگاہِ خداوندی میں نہیں جاؤں گا اور اگر مشرق میں میرے ایک مرید کا پردہ عفت گر رہا ہو اور میں مغرب میں ہوں تو یقیناً میں اس کی پردہ پوشی کروں گا۔ (اخبار الاخیار مترجم مولانا سبحان محمود صاحب مصنفہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی)

[40] آپ کی مجالس وعظ میں تمام اولیاء و انبیاء جو زندہ تھے وہ اپنے جسموں کے ساتھ اور جو زندہ نہیں تھے وہ اپنی روحوں کے ساتھ موجود ہوتے تھے۔ (ایضاً۔ ص 39)

[41] جب آپ منبر پر بیٹھ کر الحمد للہ کہتے تو روئے زمین کا ہر غائب و حاضر ولی خاموش ہو جاتا۔ (ایضاً۔ ص 38)

[42] انسانوں کے بھی پیر ہیں، جنات اور فرشتوں کے بھی لیکن میں تمام پیروں کا پیر ہوں۔ (ایضاً۔ ص 41)

[43] جب بھی اللہ سے کوئی چیز مانگو تو میرے وسیلہ سے مانگو۔ (ایضاً۔ ص 49)

[44] جب میں تم سے کوئی بات کہوں تو تم پر اس کی تصدیق ضروری ہے۔ میری تکذیب تمھارے لیے زہرِ قاتل ہے۔ (ایضاً ص 42) جس نے واصل باللہ ہونے کے لیے عبادت کا ارادہ کیا پس اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔

[45] میرا یہی قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ (ایضاً۔ ص 81)

[46] آپ کے بارے میں عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: باذن الٰہی حوادث زمانہ کا تصرف و انقلاب، مارنے اور زندہ کرنے کے ساتھ متصف ہونا، اندھے اور کوڑھی کو اچھا کر دینا، مریضوں کی صحت، بیماروں کی شفائے طبع، زمان و مکاں، زمین و آسمان پر اجرائے حکم، پانی پر چلنا، ہوا میں اڑنا، لوگوں کے تخیل کا بدلنا، اشیاء کی طبع کا تبدیل کرنا، غیب کی اشیاء کا منگانا، ماضی و مستقبل کی باتوں کا بتلانا اور اس طرح کی دوسری کرامات مسلسل اور ہمیشہ عام و خاص کے درمیان آپ کے قصد و ارادہ سے بلکہ اظہارِ حقانیت کے طریقہ پر ظاہر ہوئیں۔ (اخبار الاخیار۔ ص 45)

[47] آپ کی کرامت سے بارہ برس بعد ڈوبی ہوئی کشتی مع اسباب اور گھوڑے، اونٹ، چھکڑے (براتی، دولہا اور دلہن) باعافیت تمام اسی مقام سے کہ جہاں وہ کشتی ڈوبی تھی باہر نکل آئی۔ (زندہ اور نادرہ کرامات، شائع کردہ بزم احناف مسجد غوثیہ کوچہ غوثیہ لاہور۔ ماخوذ از سلطان)

[48] خواجہ معین الدین چشتی نے امتحان کی غرض سے مرید کو یہ کلمہ پڑھایا: چشتی رسول اللہ۔ (فوائد السالکین۔ ص 127)

[49] آپ ہر شب خانہ کعبہ کے طواف کو جاتے، رات بھر وہیں رہتے، فجر سے پہلے پہلے یہاں پہنچ جاتے۔ (ایضاً)

[50] رابعہ بصریہ شب و روز میں ایک ہزار رکعت نماز نفل پڑھتی تھیں۔ دورانِ حج ان کی دعا سے ایک گدھا زندہ ہو گیا۔ (تذکرہ اولیاء۔ ص 47)

[51] بصرہ کے جنگل سے کروٹ کے بل لڑھکتے ہوئے سات سال میں عرفات پہنچیں۔ (ایضاً ص 48)

[52] فرمایا: مخلوق سے طلب کرنا درکنار اپنے مالک حقیقی سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ (ایضاً ص 58)

[53] ابراہیم بن ادہم نے فرمایا: ایک مرتبہ میں کثیف کپڑوں اور بڑھے ہوئے بالوں کی حالت میں کشتی پر سوار ہو گیا اور اہل کشتی میرا مذاق اڑانے لگے حتیٰ کہ ایک مسخرہ بار بار میرے بال نوچتا اور گھونسے مارتا، چنانچہ اس وقت مجھے اپنے نفس کی رسوائی پر بے حد مسرت ہوئی۔ (ایضاً ص 75)

[54] ایک مرتبہ لوگوں نے زدوکوب کر کے مسجد کی سیڑھیوں پر سے نیچے پھینک دیا اور ہر ہر سیڑھی پر جب سر میں چوٹ لگتی تو میرے اوپر اسرار و رموز آشکار ہو جاتے۔ (ایضاً)

[55] آپ کی کرامت سے پہاڑ چلنے لگا۔ (ایضاً۔ ص 75)

[56] بشر حافی نے مُردوں کو لڑتے دیکھا جو سورہ اخلاص کے ثواب کی تقسیم پر جھگڑ رہے تھے۔ (ایضاً۔ ص84)

[57] امام شافعی رحمہ اللہ نے پانی کے اوپر مصلیٰ بچھا کر فرمایا یہاں آ کر مناظرہ کرو۔ (ایضاً ص 149)

[58] سہل بن عبداللہ تستری سطحِ آب پر چلتے تو قدم کبھی تر نہ ہوتے۔ (ایضاً۔ ص 174)

[59] کبھی چالیس شبانہ روز کے بعد صرف ایک بادام کھا لیا۔ (ایضاً۔ ص 173)

[60] سری سقطی نے فرمایا: محشر میں امتوں کو انبیائے کرام کی جانب سے ندا دی جائے گی لیکن اولیائے کرام کو خدا کی جانب سے پکارا جائے گا۔ (ایضاً۔ ص 185)

[61] ابو تراب بخشی نے فرمایا: مجھے خدا سے بھی حاجت نہیں۔ (ایضاً۔ ص 195)

[62] ابو حفص حداد نے کہا: تیس برس قبل ایک حدیث سنی تھی اور آج تک اس پر مکمل عمل نہیں کر سکا پھر مزید حدیث سن کر کیا کروں گا۔ (ایضاً۔ ص 206)

[63] اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اگر آج تو نے مجھے کچھ عنایت نہ کیا تو کعبہ کی تمام قندیلیں اس پتھر سے توڑ دوں گا۔ (ایضاً۔ ص 209)

[64] عمرو بن عثمان مکی نے کہا: فرشتوں نے اس لیے سجدہ کیا کہ وہ تخلیق آدم کے بھید سے واقف نہیں تھے، ابلیس نے واقفِ اسرار ہونے کی وجہ سے سجدہ سے انکار کیا۔ (ایضاً۔ ص 230)

[65] ابو سعید خراز نے کہا: ایک مرتبہ خواب میں رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا: کیا تو مجھے دوست رکھتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ ہی کی دوستی میرے قلب میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے کہ دوسرے کے لیے جگہ نہیں۔ (ایضاً۔ ص 232)

[66] عبد اللہ خفیف نے وقتاً فوقتاً چار سو نکاح کیے۔ (ایضاً۔ ص 278)

[67] حسین بن منصور نے کہا پچاس برس میں ایک ہزار سال کی نمازیں ادا کر چکا ہوں اور ہر نماز کے لیے غسل ضروری تصور کیا۔ (ایضاً۔ ص 285)

[68] آپ کعبہ کے پاس ننگے سر، برہنہ جسم مکمل ایک سال تک کھڑے رہے۔ (ایضاً۔ ص 285)

[69] آپ کے استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ تہ بند میں ایک بچھونے رہنے کی جگہ بنا لی تھی۔ (ایضاً۔ ص 286)

[70] فرمایا: موسیٰ بھی برحق اور فرعون بھی سچا تھا۔ (ایضاً۔ ص 286)

[71] عبد اللہ طوسی کہتے ہیں: روزِ محشر منصور کو اس لیے زنجیروں میں جکڑ کر پیش کیا جائے گا کہ کہیں میدانِ حشر زیر و زبر نہ ہو جائے۔ (ایضاً۔ ص 290)

[72] ابو بکر واسطی نے کہا: معلوم ہوا طریقت شیطان ہی سے سیکھنی چاہیے جس نے نہ تو خدا کے علاوہ کسی کے سامنے سر جھکایا اور نہ عالم کی ملامت قبول کر کے اس راستہ پر گامزن ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ صحیح معنوں میں جوان مرد وہی نکلا۔ (ایضاً۔ ص 296)

[73] ابو الحسن خرقانی نے کہا: حدیث تو میں نے خود رسول اکرم ﷺ سے پڑھی ہے۔ (ایضاً۔ ص 317)

[74] ابو سعید اور ابو الحسن نے باہم اپنے (مزاج) قبض و بسط کے احوال تبدیل کر لیے۔ (ایضاً)

[75] ابوالحسن نے ابو سعید سے کہا: آج میں نے تمھیں موجودہ دور کا ولی مقرر کر دیا۔ (ایضاً۔ ص 319)

[76] ابوالحسن نے محمود غزنوی سے کہا: میں اطیعوا اللہ میں ایسا غرق ہوں کہ اطیعوا الرسول میں بھی ندامت محسوس کرتا ہوں۔ (ایضاً۔ ص 321)

[77] ایک دن کوئی صوفی ہوا میں پرواز کرتا ہوا آپ کے سامنے آکر اترا اور زمین پر پاؤں مار کر کہنے لگا کہ میں اپنے دور کا جنید اور شبلی ہوں۔ آپ نے بھی کھڑے ہو کر پاؤں مارتے ہوئے فرمایا کہ میں بھی خدائے وقت اور مصطفیٰ وقت ہوں۔ (ایضاً۔ ص 324)

[78] فرمایا: اگر میں چاہوں تو ایک اشارے میں آسمان پکڑ کر کھینچ لوں۔ (ایضاً۔ ص 325)

[79] فرمایا: میں چالیس قدم چلا، جس میں ایک قدم عرش سے تحت الثریٰ تک تھا اور باقی قدموں کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ (ایضاً۔ ص 331)

[80] فرمایا: محشر میں جب رسول اکرم ﷺ مخلوق کے معائنہ کے لیے جنت میں تشریف لے جائیں گے تو ایک جماعت کو دیکھ کر سوال کریں گے کہ یہ لوگ کون ہیں اور یہاں کیسے پہنچ گئے؟ کیونکہ فنا فی اللہ ہونے والی جماعت کو ایسی راہوں سے جنت میں پہنچایا جائے گا کہ کوئی انھیں دیکھ نہیں سکے گا۔ فرمایا خدا تعالیٰ تک رسائی کے لیے ایک ہزار منزلیں ہیں جن میں سب سے پہلی منزل کرامت ہے۔ (ایضاً۔ ص 336)

[81] شبلی نے کہا: عارف کی شان یہ ہے کہ کبھی تو اپنے جسم پر مچھر بیٹھنے نہیں دیتا اور کبھی پلکوں پر ساتوں افلاک اور زمینوں کو اٹھا لیتا ہے۔ (ایضاً۔ ص 355)

[82] ابوالعباس قصاب نے کہا: محشر میں تمام پرچموں سے زیادہ بلند پرچم میرا ہوگا اور جب تک آدم (علیہ السلام) سے لے کر موسیٰ (علیہ السلام) تک میرے پرچم تلے نہیں آجائیں گے، میں باز نہیں آؤں گا۔ (ایضاً۔ ص 362)

[83] ابراہیم بن احمد خواص نے کہا: خضر (علیہ السلام) مرغ کی طرح اڑ کر میرے پاس تشریف لائے میں نے توکل حفاظت سے انھیں سلام تک نہ کیا۔ (ایضاً۔ ص 364)

[84] ابوعلی دقاق نے بے حد اصرار کے بعد منبر پر دائیں جانب اللہ اکبر، بائیں جانب [واللہ خیر و ابقیٰ] اور قبلہ رو [رضوان من اللہ اکبر] کہا، بہت سے لوگ جاں بحق ہو گئے۔ (ایضاً)

[85] اکبر بادشاہ کی قسمت میں اولاد نہیں تھی، شیخ سلیم چشتی نے اپنی بیوی کا حمل بذریعہ کرامت اکبر کی بیوی کے پیٹ میں منتقل کر دیا تو جہانگیر پیدا ہوا۔ (تذکرہ اولیاء پاک و ہند۔ ص 249)

[86] درس و تدریس چھوڑ کر بو علی قلندر بارہ (12) سال تک پانی میں کھڑے رہے، پنڈلیوں کا گوشت مچھلیاں کھا گئیں۔ (ایضاً۔ ص 106)

[87] بو علی قلندر شیر بھی بن جاتے تھے۔ (ایضاً۔ ص 113)

[88] خواجہ شمس الدین ترک نے اپنے سید ہونے کا ثبوت یہ پیش کیا کہ سید کا بال آگ میں نہیں جلتا اور پھر آگ میں کود گئے۔ (ایضاً۔ ص 94)

[89] شیخ جلال الدین نے حجرہ پر تھوکا اور وہ سونے کا بن گیا۔ (ایضاً۔ ص 135)

[90] جلال الدین بخاری نے اپنے چار سالہ بچے کو نماز میں خلل اندازی کی وجہ سے بذریعہ کرامت مار ڈالا۔ (ایضاً۔ ص 145)

[91] علاؤ الدین صابر نے اپنی بیوی دختر فرید الدین گنج شکر کو بذریعہ کرامت جلا دیا۔ (ایضاً۔ ص 178)

[92] شاہ بدیع الدین کے مزار سے مٹھی خاک لے کر دریا میں ڈالی گئی، ڈوبی ہوئی کشتی برآمد ہو گئی۔ (ایضاً۔ ص 189)

[93] عبدالعزیز دباغ نے احمد بن مبارک سے کہا: رات کو تم نے ایک بیوی کے جاگتے دوسری سے ہم بستری کی۔ عرض کیا: آپ کو کس طرح علم ہوا؟ فرمایا: جہاں وہ سو رہی تھی کوئی پلنگ اور بھی تھا؟ عرض کیا: ہاں! ایک پلنگ خالی تھا۔فرمایا: اس پر میں تھا۔ (ملفوظات احمد رضا خاں۔ ص 169)

[94] ایک خضر وقت نے ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں پورے قافلے کو آٹھ دن کے لیے ایک شہر کی سیر کرائی۔

[95] پھر بہادر شاہ گڑھ کی مسجد میں ایک گدھی سے مصروف بھی ہوئے، پھر اپنا لنگوٹ دھلوانے کے لیے اعظم علی شاہ کو دیا۔ شہر میں آدھی رات تھی اور باہر دوپہر لگی ہوئی تھی۔ (تذکرہ غوثیہ)

مندرجہ بالا بریلوی صوفیوں کی کرامات کو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔