تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
2۔
3۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حرام مال کمائے اور پھر اس سے صدقہ کرے تو وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ [احمد، بحواله مشكوٰاة، كتاب البيوع باب الكسب و طلب الحلال، فصل ثاني]
4۔
5۔
6۔ عطیہ سعدیؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک اندیشہ والی چیزوں سے بچنے کی خاطر ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی اندیشہ نہیں۔“ [ترمذي، ابن ماجه، بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال]
7۔ حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ ”جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ اور وہ اختیار کر جو شک میں نہیں ڈالتی۔“ [احمد بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب مالم يبال من حيث كسب المال]
[209] حرام مال کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا اور شیطان کی پیروی ہے: یہاں شیطان کے پیچھے چلنے سے مراد یہ ہے جو چیزیں اللہ نے حرام نہیں کیں انہیں حرام نہ سمجھ لو، جیسے مشرکین عرب بتوں کے نام سانڈ چھوڑ دیتے تھے۔ پھر ان جانوروں کا گوشت کھانا یا ان سے کسی طرح کا بھی نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے یا کسی مخصوص کھانے پر اپنی طرف سے پابندیاں عائد کر کے اسے حرام قرار دے لیتے تھے۔ یہی صورت کسی حرام چیز کو حلال قرار دینے کی ہے۔ جیسے یہود نے سود کو حلال قرار دے لیا تھا۔ امیوں کا مال کھانا جائز سمجھتے تھے اور یہ شرک ہے۔ کیونکہ حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات اللہ کو ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے قریب میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب کا کوئی دوسرا نام رکھ کر اس کو حلال بنا لیں گے۔ [بخاري، كتاب الاشربه، باب فيمن يستحل الخمر ويسميه بغيراسمه] اور ابو مالک کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجے گاجے وغیرہ کے دوسرے نام رکھ کر انہیں حلال بنا لیں گے۔ [حواله ايضاً] اور ایسی سب باتیں اللہ کی صفات میں شرک کے مترادف ہیں۔ کیونکہ حلت و حرمت کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [35-فاطر: 6] شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اس کی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں۔ [35-فاطر:6] اور جگہ فرمایا آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [18۔ الکہف: 50] کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟ حالانکہ حقیقتاً وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے۔ آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ» [البقرہ: 168] سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:221/1] جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھا لو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا خطاب للناس كلهم مؤمنهم وكافرهم، فامتن عليهم بأن أمرهم أن يأكلوا من جميع ما في الأرض من حبوب وثمار وفواكه وحيوانات حالة كونها {حلالاً}؛ أي: محللاً لكم تناوله ليس بغصب ولا سرقة ولا محصلاً بمعاملة محرمة أو على وجه محرم أو معيناً على محرم {طيباً}؛ أي: ليس بخبيث كالميتة والدم ولحم الخنزير والخبائث كلها. ففي هذه الآية دليل على أن الأصل في الأعيان الإباحة أكلاً وانتفاعاً وأن المحرم نوعان: إما محرم لذاته وهو الخبيث الذي هو ضد الطيب، وإما محرم لما عرض له وهو المحرم لتعلق حق الله أو حق عباده به، وهو ضد الحلال.
وفيه دليل على أن الأكل بقدر ما يقيم البنية واجب يأثم تاركه لظاهر الأمر، ولما أمرهم باتباع ما أمرهم به إذ هو عين صلاحهم نهاهم عن اتباع {خطوات الشيطان}؛ أي: طرقه التي يأمر بها، وهي جميع المعاصي من كفر وفسوق وظلم، ويدخل في ذلك تحريم السوائب والحام ونحو ذلك، ويدخل فيه [أيضاً] تناول المأكولات المحرمة.
{إنه لكم عدو مبين}؛ أي: ظاهر العداوة فلا يريد بأمركم إلا غشكم وأن تكونوا من أصحاب السعير، فلم يكتف ربنا بنهينا عن اتباع خطواته حتى أخبرنا وهو أصدق القائلين بعداوته الداعية للحذر منه، ثم لم يكتف بذلك حتى أخبرنا بتفصيل ما يأمر به، وأنه أقبح الأشياء، وأعظمها مفسدة، فقال: