دینی اختلافات میں قرآن کافی ہے یا حدیث بھی حجت ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب "حجیت حدیث” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں

قرآن و حدیث دونوں کا وحی اور اصولِ دین ہونا مسلمانوں کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے تنازع اور اختلاف کو ان کی طرف لوٹانے کا حکم دیا ہے، معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث دونوں اللہ کی طرف سے ہیں اور حق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے ساتھ محفوظ و معصوم ہیں، ورنہ ان کی طرف تنازع اور اختلاف لوٹانے کا کیا معنی؟ نیز ثابت ہوا کہ شرعی نصوص آپس میں متفق و متحد ہیں، حقیقت میں ان کے مابین کوئی تعارض نہیں، ورنہ اختلاف کے وقت ان کی طرف رجوع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:

الأمور التي تتنازع فيها الأمة، في الأصول والفروع، إذا لم ترد إلى الله والرسول، لم يتبين فيها الحق، بل يصير فيها المتنازعون على غير بينة من أمرهم.
جن اصولی اور فروعی مسائل میں امت نے اختلاف کیا ہے، جب ان کو اللہ و رسول کی طرف نہ لوٹایا جائے، حق واضح نہیں، بلکہ اختلاف کرنے والے اپنے معاملے پر بغیر دلیل کے رہ جاتے ہیں۔ [شرح العقيدة الطحاوية: ص 515]

❀ قرآن وحی ہے، حدیث بھی وحی ہے، قرآن محفوظ ہے، حدیث بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محفوظ ہے، قرآن حق ہے، حدیث بھی حق ہے، قرآن نور ہے، حدیث بھی نور ہے، قرآن ہدایت ہے، حدیث بھی ہدایت ہے، قرآن فرقان ہے، حدیث بھی فرقان ہے، جس طرح قرآن کی تصدیق ضروری ہے، اسی طرح حدیث کی تصدیق بھی ضروری ہے، جس طرح قرآن پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح حدیث پر ایمان لانا بھی ضروری ہے، جس طرح قرآن پر عمل ضروری ہے، اسی طرح حدیث پر بھی عمل کرنا بھی ضروری ہے، دونوں کے اللہ کا دین ہونے میں کوئی شک نہیں، اسی لیے اختلاف کے وقت ان کی طرف رجوع ضروری ہے، یہی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان کی دلیل ہے، یہ ایمان کے موجبات اور لوازم میں سے ہے، بلکہ ایمان کی صحت کے لیے شرط ہے، اس کے بغیر امت کے اتحاد و اتفاق کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا، ضلالت و جہالت اور بدعتیوں کے طور طریقوں سے بچنے اور تلاشِ حق کا بھی واحد راستہ ہے، درحقیقت یہی حق کی پیروی ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

[فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا]
اگر تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے، تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، اس میں خیر ہے اور بہترین انجام ہے۔ (النساء:59)

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ (114ھ) فرماتے ہیں:

إلى الله إلى كتاب الله وإلى الرسول إلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم.
اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف رجوع کرنا ہے اور رسول کی طرف رجوع سے مراد رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی طرف رجوع ہے۔ [الشريعة للآجري: 106، وسنده حسن]

میمون بن مہران رحمہ اللہ (117ھ) فرماتے ہیں:

الرد إلى الله الرد إلى كتابه، والرد إلى رسوله إن كان حيا فإن قبضه الله إليه فالرد إلى السنة.
اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے سے مراد اس کی کتاب کی طرف لوٹنا ہے اور جب رسول ﷺ زندہ تھے، اس وقت آپ ﷺ کی ذات کی طرف لوٹنا تھا اور جب آپ ﷺ فوت ہو گئے، تو اب آپ ﷺ کی سنت کی طرف رجوع کرنا ہے۔
[تفسير الطبري: 186/7، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 474/1، الفقيه والمتفقه للخطيب: 144/1، وسنده حسن]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

أجمع المسلمون أن الرد إليه هو الرجوع إليه في حياته، والرجوع إلى سنته بعد مماته، واتفقوا أن فرض هذا الرد لم يسقط بموته فإن كان متواتر أخباره وآحادها لا تفيد علما ولا يقينا لم يكن للرد إليه وجه.
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ (اختلاف کو) نبی ﷺ کی طرف لوٹانے سے مراد آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ ﷺ کی طرف لوٹانا ہے، اور وفات کے بعد آپ ﷺ کی حدیث کی طرف لوٹانا ہے۔ نیز اس پر بھی اتفاق ہے کہ (اختلافات کو) لوٹانے کی فرضیت نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ساقط نہیں ہوئی، لہٰذا اگر متواتر اور آحاد سے علم اور یقین کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا، تو نبی کریم ﷺ کی طرف (اختلافات کو) لوٹانے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا۔
[مختصر الصواعق المرسلة : 352/2]

نیز فرماتے ہیں:

إن الناس أجمعوا أن الرد إلى الله سبحانه هو الرد إلى كتابه، والرد إلى الرسول صلى الله عليه وسلم هو الرد إليه نفسه في حياته وإلى سنته بعد وفاته.
اہل علم کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اختلاف لوٹانے کا مطلب اس کی کتاب کی طرف اختلاف لوٹانا ہے اور رسول کریم ﷺ کی طرف اختلاف لوٹانے کا معنی و مفہوم آپ کی زندگی میں آپ کی ذات بابرکات کی طرف اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی حدیث کی طرف اختلاف کو لوٹانا ہے۔
[إعلام الموقعين: 39/1]

علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:

معنى الرد إلى الله سبحانه الرد إلى كتابه، ومعنى الرد إلى رسوله صلى الله عليه وسلم الرد إلى سنته بعد وفاته، وهذا مما لا خلاف فيه بين جميع المسلمين.
اللہ کی طرف پھیرنے کا معنی قرآن کی طرف پھیرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیرنے کا معنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی طرف
رجوع ہے، اس بارے میں تمام مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ [شرح الصدور بتحريم رفع القبور: ص 3]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

لو لم يكن في كتاب الله ورسوله بيان حكم ما تنازعوا فيه ولم يكن كافيا لم يأمر بالرد إليه؛ إذ من الممتنع أن يأمر تعالىٰ بالرد عند النزاع إلىٰ من لا يوجد عنده فصل النزاع.
اگر کتاب اللہ اور سنتِ رسول میں اختلاف کا حل نہ ہوتا اور یہ چیز کافی نہ ہوتی، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف رجوع کا حکم نہ فرماتے، کیونکہ یہ بات ممتنع ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی چیز کی طرف رجوع کا حکم فرمائے، جس میں اختلاف کا حل موجود نہ ہو۔
[إعلام الموقعين: 39/1]

علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:

هٰذه الآية صريحة في رفع التنازع والاختلاف؛ فإنه رد المتنازعين إلى الشريعة، وليس ذٰلك إلا ليرتفع الاختلاف، ولا يرتفع الاختلاف إلا بالرجوع إلىٰ شيء واحد؛ إذ لو كان فيه ما يقتضي الاختلاف لم يكن في الرجوع إليه رفع تنازع، وهٰذا باطل.
یہ آیت صریح دلیل ہے کہ تنازع و اختلاف کو ختم کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اختلاف کرنے والوں کو شریعت کی طرف لوٹنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ اسی لیے ہے کہ اختلاف ختم ہو جائے، اختلاف تو تب ہی ختم ہو گا، جب ایک ہی چیز کی طرف رجوع کیا جائے، کیونکہ اگر اسی چیز میں ہی اختلاف والی کوئی بات ہوئی، تو پھر اس کی طرف رجوع سے اختلاف ختم نہ ہو گا اور ایسا کرنا باطل ہے۔
[الموافقات: 60/5، الاعتصام: 309/2-310]

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:

هذا أمر من الله عز وجل، بأن كل شيء تنازع الناس فيه من أصول الدين وفروعه أن يرد التنازع في ذلك إلى الكتاب والسنة، كما قال تعالى: [وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ] (الشورى: 10)فما حكم به كتاب الله وسنة رسوله وشهدا له بالصحة فهو الحق، وماذا بعد الحق إلا الضلال، ولهذا قال تعالى: [اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ] أَيْ رُدُّوا الخصومات والجهالات إلى كتاب الله وسنة رسوله، فتحاكموا إليهما فيما شجر بينكم [اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ] فدل على أن من لم يتحاكم في مجال النزاع إلى الكتاب والسنة ولا يرجع إليهما في ذلك، فليس مؤمنا بالله ولا باليوم الآخر، وقوله: [ذٰلِکَ خَیۡرٌ] أي التحاكم إلى كتاب الله وسنة رسوله، والرجوع في فصل النزاع إليهما خير [وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا] أي وأحسن عاقبة ومآلا.
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے کہ دین کے اصول و فروع میں سے ہر وہ چیز جس میں لوگوں کا اختلاف ہو، اس اختلاف کو قرآن و حدیث کی طرف لوٹایا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’جس چیز میں تم اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف لوٹاؤ‘‘، جو فیصلہ کتاب و سنت کریں اور جس کے صحیح ہونے کی وہ گواہی دیں، وہ حق ہے اور حق کے علاوہ صرف گمراہی ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتے ہو تو۔۔۔۔۔۔‘‘، یعنی اپنے اختلافات اور لاعلمی کو کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی طرف لوٹاؤ اور جس بارے تمہارے درمیان جھگڑا ہو، اسے انہی دونوں کی طرف لے کر آؤ، اگر تم اللہ و یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے اختلاف میں کتاب و سنت کی طرف فیصلہ لے کر نہ آئے اور رجوع نہ کرے، وہ اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، نیز فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿ذٰلِكَ خَيْرٌ﴾ کا مطلب ہے کہ اختلاف کے فیصلے کے لیے قرآن و سنت کی طرف ہی رجوع بہتر ہے، ﴿وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ کا معنی ہے کہ یہ کام عاقبت اور انجام کے لحاظ سے بہترین ہے۔ [تفسیر ابن کثیر: 345/2]

اللہ کا فرمان ہے:

[وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ]
جس چیز میں بھی تم اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف (لے کر آؤ)۔ (الشورى: 10)

آیت میں اختلاف کو اللہ کی طرف لوٹانے کا حکم دیا گیا ہے، قرآن اور حدیث دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺ کے فیصلوں کو قبول نہ کرنے پر شدید وعید بھی سنائی ہے، مزید اس آیت کی تفسیر سورت نساء (آیت59) سے ہوتی ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:

أي مهما اختلفتم فيه من الأمور وهذا عام في جميع الأشياء، [فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ] أي هو الحاكم فيه بكتابه، وسنة نبيه صلى الله عليه وسلم، كقوله: [فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ] (النساء:59)
جس چیز میں بھی تم اختلاف کرو۔ یہ تمام اختلافات کو شامل ہے۔ ’’اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لوٹایا جائے۔‘‘ یعنی اللہ اپنی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی حدیث کے ذریعہ سے فیصلہ کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ] (النساء:59) ’’اگر تم کسی بھی چیز میں اختلاف کرو، تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔ [تفسیر ابن کثیر:193/7]

تنبیہ:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ]
جب ان کے پاس امن یا خوف کا کوئی امر آتا ہے، تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹاتے، تو اسے ان میں سے اہل تحقیق جان جاتے۔ (النساء: 83)

❀ اگر یہ کہا جائے کہ اختلاف کو تو صرف اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ہے، جبکہ اس آیت کریمہ میں رسول اور اولی الامر کی طرف لوٹانے کا ذکر ہے، یہ تعارض و اشکال کیسے دور ہوگا؟

اس کے دو جواب ہیں:

[1] اس آیت کریمہ میں تنازع اور اختلاف کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو بیان کیا جا رہا ہے کہ فتح یا شکست کی خبریں بغیر تحقیق آگے پھیلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ تک پہنچا دو، آپ کی وفات کے بعد اہل علم و تحقیق مسلمان حکمرانوں اور مسلمان سپہ سالاروں کے سامنے پیش کریں کہ یہ خبر صحیح ہے یا غلط، اس کو نشر کرنا مفید ہے یا اسلام اور اہل اسلام کی مصلحت کی خاطر چھپانا واجب ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:

إنكار على من يبادر إلى الأمور قبل تحققها، فيخبر بها ويفشيها وينشرها، وقد لا يكون لها صحة.
اس آیت کریمہ میں اس شخص پر انکار ہے، جو تحقیق کیے بغیر جلدی سے امور کی خبر دیتا ہے اور ان کو پھیلاتا ہے، جبکہ بسا اوقات وہ امور صحیح ثابت نہیں ہوتے۔ [تفسیر ابن کثیر: 365/2]

[2] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع.
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرنے لگے۔
[مقدمہ صحیح مسلم: 5، وسندہ صحیح]
لہٰذا آیات کے درمیان ظاہری تعارض دور ہوا، اس تعارضِ قرآنی کو دور کرنے میں حدیث مددگار ثابت ہوئی ہے۔