کیا والدین یا فوت شدگان کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

میت کی طرف سے قربانی

سوال :
کیا فوت شدگان کی طرف سے قربانی جائز ہے؟ (ایک سائل)
جواب : سنن ابی داود (کتاب الضحایا باب الاضحیة عن المیت ح2790) اور جامع ترمذی (ابواب الاضاحی باب ماجاء فی الاضحیة عن المیت ح 1495) میں شریک بن عبدالله القاضی عن ابی الحسناء عن الحکم عن حنش کی سند سے مروی ہے کہ میں نے علی ولی اللہ کو دیکھا، آپ دو مینڈوں کی قربانی کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کروں، اس لئے میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔“(انتھی)
اس کی سند ضعیف ہے۔ شریک القاضی مدلس تھے اور یہ روایت عن سے ہے۔ ابوالحسناء مجہول راوی ہے۔
(دیکھئے تقریب التہذیب:8053، اور آثار السفن ص 399 تحت ح 784)
حاکم اور ذہبی دونوں کو وہم ہوا ہے۔ انھوں نے اسے الحسن بن الحکم سمجھ کر حدیث کو صحیح کہہ دیا ہے جبکہ ابن الحکم دوسرے راوی تھے اور ابوالحسناء مذکور دوسرا راوی ہے۔ حکم بن عتیبہ بھی مدلس تھے اور (بشرط صحت) عن سے روایت کر رہے ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو غریب لکھا ہے۔
جب یہ ثابت ہو گیا کہ حدیث مذکور ضعیف ہے تو معلوم ہوا کہ فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اب اگر کوئی شخص ضرور بالضرور قربانی کرنا ہی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے صدقہ قرار دے کر سارا گوشت مساکین و فقراء میں تقسیم کر دے کیونکہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے جس کے بے شمار دلائل ہیں۔ واللہ اعلم
(فتاوی علمیه / 1658)

میت کی طرف سے قربانی کا حکم

سوال :
کیا قربانی والدین یا فوت شدگان بزرگوں کی طرف سے کی جا سکتی ہے جیسے مشہور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قربانی اپنی طرف سے اور ایک اپنی اُمت کی طرف سے کرتے تھے؟ (ظفر عالم، لاہور)
جواب :
اس سلسلے میں راقم الحروف کی تحقیق ماہنامہ شہادت میں چھپ چکی ہے۔ مختصر أعرض ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کے جواز والی حدیث ضعیف ہے تاہم صدقہ کے عمومی دلائل کی رو سے میت کی طرف سے قربانی جائز ہے۔ ایسی قربانی کا سارا گوشت صدقہ کر دیا جائے گا۔
❀ شیخ الاسلام عبد الله بن المبارک المروزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
أحب إلى أن يتصدق عنه ولا يضحى عنه وإن ضحى فلا يأكل منها شيئا ويتصدق بها كلها
میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ میت کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور قربانی نہ کی جائے تاہم اگر کوئی قربانی کرے تو اس میں سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ سارے حصے اور گوشت کو صدقہ کر دے۔
(سنن ترمذی ابواب الاضاحی باب ما جاء فی الاضحیة عن المیت ح 1495)
امام ترمذی نے عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے جو اقوال سنن ترمذی میں نقل کئے ہیں، ان کی صحیح سندیں اپنی کتاب العلل (الصغیر) میں ذکر کر دی ہیں۔ (دیکھئے صیا، دوسرا نسخہ بص889، مطبوعہ دار السلام مع سنن الترمذی) [ ماہنامہ الحدیث حضرو: 11/85]