تصویر کی بے وقعتی اسے جائز کر دیتی ہے :
جب کسی تصویر میں ایسا تغیر کر دیا جائے کہ وہ قابل تعظیم نہ رہے بلکہ بے وقعت ہو کر رہ جائے تو وہ جواز کے دائرہ میں آجاتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے گھر کے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أدخل، قال كيف ادخل وفي بيتك ستر فيه تصاوير؟ فإن كنت لا بد فاعلا فاقطع رأسها أواقطعها وسائد أو اجعلها بساطا
تشریف لائیے ؟ جبریل علیہ السلام نے کہا : میں کس طرح اندر داخل ہو جاؤں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تصویروں والا پردہ ہے؟ اگر اس کو رکھنا ہی ہے تو تصویر کا سر کاٹ دیجئے یا پردہ کو پھاڑ کر تکیہ یا بچھونا بنا لیجئے۔
نسائی کتاب الزينة : باب ذكر اشد الناس عذاباً ح : 5367
اسی لیے جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تصویر والے تکیہ کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر ناگواری کے آثار دیکھے تو اس کو پھاڑ کر دو چھوٹے تکیے بناڈالے کہ ایسی صورت میں تصویروں کی بے وقعتی و بے قدری ہوتی ہے اور تعظیم کا ادنی اندیشہ بھی باقی نہیں رہتا۔
سلف سے منقول ہے کہ وہ غیر وقیع تصویروں کے استعمال میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ مشہور تابعی عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ پرندوں اور آدمیوں کی تصویروں والے تکیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے۔ اور عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں تصویروں کا نصب کرنا علماء کو نا پسند تھا اور جن تصاویر کو عام طور سے پامال کیا جاتا ہے، ان میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے اور بچھونے اور تکیے کی تصویروں کے بارے میں جو پامال کی جاتی ہیں، کہتے : یہ ان کی تذلیل ہے۔
فوٹوگرافی کی تصویریں :
یہ بات بالکل واضح ہے کہ تصویر اور مصوری کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں وہ ان تصاویر کے متعلق ہیں جو تراش لی جاتی ہیں یا جن کا خاکہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک عکسی تصویر کا تعلق ہے جو کیمرے کے ذریعہ لی جاتی ہے تو یہ ایک نئی ایجاد ہے۔ یہ فوٹو گرافی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف کے زمانہ میں نہ تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تصاویر اور مصوری کے متعلق جو احکام آئے ہیں، کیا وہ فوٹو گرافی پر بھی منطبق ہوتے ہیں؟
جو علماء یہ سمجھتے ہیں کہ تصویر کی حرمت مجسمہ کی حد تک ہے وہ فوٹو گرافی کی تصویروں میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خاص طور سے اس صورت میں جبکہ تصویر غیر مکمل ہو۔
رہی دوسرے گروہ کی رائے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان عکسی تصاویر کو ان تصاویر پر قیاس کیا جائے جو ایک آرٹسٹ کے برش کی تخلیق ہیں؟ یا کیا بعض احادیث میں جو علت بیان ہوئی ہے کہ مصور اللہ کی تخلیق کی مشابہت کرتا ہے وہ علت فوٹو گرافی میں نہیں پائی جاتی؟ اور اصولِ فقہ کی رو سے جب علت ہی باقی نہیں رہی تو معلول بھی باقی نہیں رہا۔ (یعنی جب مشابہت نہیں پائی جاتی تو حرمت کا اطلاق بھی نہیں ہوگا)
اس سلسلہ میں سب سے زیادہ واضح بات مفتی مصر شیخ محمد بخیت مرزحوم کا فتویٰ ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ فوٹو گرافی کے ذریعہ بنائی ہوئی تصویر جو عکس کو مخصوص ذرائع سے روک لینے سے عبارت ہے یہ اس تصویر کی تعریف میں نہیں آتی جس کی ممانعت کی گئی ہے کیونکہ جس قسم کی تصویر سازی سے منع کیا گیا ہے اس کا اطلاق تصویر ایجاد کرنے اور بنانے پر ہوتا ہے جو پہلے سے موجود یا بنائی ہوئی نہ ہو اور جس کے ذریعہ اللہ کی پیدا کردہ کسی جاندار چیز کی مشابہت کی جائے۔ لیکن کیمرہ کے ذریعہ لیے ہوئے فوٹو کی حقیقت یہ نہیں۔
الجواب الشافى فى اباحة التصوير الفوتو غرافي
فوٹو کی اصل حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت یہی ہے۔ لیکن علماء کا ایک گروہ تصویر کے معاملہ میں بھی ، خواہ وہ کسی قسم کی ہو شدت برتتا ہے اور اس کو مکروہ خیال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ فوٹو گرافی کو بھی۔ تاہم یہ گروہ بھی مجبوری کی صورت میں یا ضرورت و مصلحت کی بنا پر تصویر کے جواز کا قائل و فاعل ہے مثلاً : شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں لگائی جانے والی تصویریں مشتبہ افراد کی تصویریں اور ایسی تصویریں جو توضیح وغیرہ کی غرض سے استعمال کی جائیں۔ اس قسم کی تصاویر سے نہ تعظیم مقصود ہوتی ہے اور نہ عقیدہ کی خرابی کا کوئی اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔ اور پھر ان کے استعمال کی ضرورت کپڑوں کے نقوش کی بہ نسبت جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت سے مستثنیٰ کیا تھا، زیادہ شدید اور اہم ہے۔
تصویر کا مقصد :
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تصویر کے مقصد کو حرمت وغیرہ کے احکام میں کافی دخل ہے۔ اور کوئی مسلمان کسی ایسی تصویر کے حرام ہونے کی مخالفت نہیں کرے گا جس کا مقصد اسلام کے عقائد شریعت اور اس کے آداب کے خلاف ہو۔ پس عورتوں کی عریاں اور نیم عریاں تصویریں اور نسوانیت کی خصوصیات اور جن سے فتنہ کا اندیشہ ہو سکتا ہے ایسے اعضاء کو نمایاں کرنا اور ان کے خاکے اور تصویریں شہوانی ہیجان پیدا کرنے والی اور سفلی جذبات کو بھڑ کانے والی شکلوں میں بنانا جیسا کہ اس کا مظاہرہ رسائل و اخبارات اور سینما گھروں میں کھلے بندوں ہو رہا ہے تو ان تمام چیزوں کے حرام ہونے میں اور اس قسم کی تصویر سازی کی ممانعت میں ادنیٰ شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح ان کی اشاعت کرنا ان کو محفوظ رکھنا اور گھر، دفاتر وغیرہ دیگر مقامات پر ان کی نمائش کرنا اور دیواروں پر آویزاں کرنا ، نیز قصداً ایسی تصویروں کو دیکھنا اور ان کا مشاہدہ کرنا، سب حرمت میں داخل ہے۔
یہی معاملہ کافروں ظالموں اور فاسقوں کی تصویروں کا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کے قماش لوگوں کی تصویریں بنائے یا ان کو محفوظ رکھے۔ مثلاً : ملحد لیڈروں کی تصویریں جو اللہ کے وجود کا انکار کرتے ہیں یا بت پرست اکابر کی ، جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھراتے ہیں یا یہودیوں اور نصرانیوں کی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے منکر ہیں یا ایسے لوگوں کی جو اسلام کے مدعی تو ہیں لیکن اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے بے نیاز ہو کر فیصلے کرتے ہیں یا سماج میں بے حیائی اور فساد پھیلاتے ہیں جیسے ایکٹر ایکٹریس گانے والے مرد اور گانے والی عورتیں وغیرہ۔
اور یہی حکم ان تصویروں کا ہے جو بت پرستی کی نمائندگی کرتی ہیں، یا مذہبی شعائر کی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں اسلام ہر گز پسند نہیں کرتا، مثلاً : بت صلیب وغیرہ کی تصویریں۔ غالباً عہد رسالت میں بیشتر فرش پردے اور تکیے اسی قسم کی تصاویر اور نقش و نگار کے ہوتے تھے۔
صحیح بخاری کی حدیث ہے :
أن النبى صلى الله عليه وسلم لم يكن يترك فى بيته شيئا فيه تصاليب إلا نقضه
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں رہنے دیتے تھے جس پر صلیب کی تصویر ہو۔ اگر ایسی کوئی چیز ہوتی تو اسے توڑ دیتے۔“
بخاری کتاب اللباس باب نقض الصور ح : 5952
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
إن الرسول فى عام الفتح لما رأى الصور التى فى البيت الحرام لم يدخل البيت الحرام حتى أمر فمحيت
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو اس میں داخل نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور تصویریں مٹا دی گئیں۔“
بخاری کتاب احادیث الانبياء باب قول الله تعالى (واتخذ الله ابراهيم خليلا) ح : 3352
اس میں شک نہیں کہ یہ ایسی تصویریں تھیں جو مشرکین مکہ کی بت پرستی اور ان کی قدیم گمراہی کی نمائندگی کرتی تھیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم فى جنازة فقال: أيكم ينطلق إلى المدينة فلا يدع بها وثنا إلا كسره ولا قبرا إلا سواه ولا صورة إلا لطخها ! فقال رجل أنا يارسول الله قال فهاب أهل المدينة وانطلق الرجل ثم رجع فقال يارسول الله، لم أدع بها وثنا إلا كسرته ولا قبرا إلا سويته ولا صورة إلا لطختها ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من عاد إلى شيء من هذا فقد كفر بما أنزل على محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون مدینہ میں یہ خدمت انجام دیتا ہے کہ کسی بت کو توڑے بغیر کسی قبر کو ہموار کیے بغیر اور کسی تصویر کو مسخ کیے بغیر نہ چھوڑے؟ ایک شخص نے کہا : میں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راوی کا بیان ہے کہ مدینہ والے اس حکم سے خوفزدہ ہو گئے وہ چلا گیا اور پھر واپس آکر اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے مدینہ میں کسی بت کو توڑے بغیر کسی قبر کو ہموار کیے بغیر اور کسی تصویر کو مسخ کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ان میں سے کسی چیز کا دوبارہ مرتکب ہوگا وہ اس ہدایت کا منکر ہوگا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے۔
مسند احمد : 1 / 138، 139 واسناده ضعيف
صحيح مسلم ميں سيدنا على رضى الله عنه هي سے اس كے بعض كا شاهد ان الفاظ كے ساته هے سيدنا على رضى الله عنه نے ابو الهياج اسدي رحمه الله سے فرمايا : ميں تمهيں اس كام كے ليے بهيجتا هوں، جس كے ليے رسول الله صلى الله عليه وسلم نے مجهے بهيجا تها. كسي تصوير مورت كو مٹائے بغير نه چهوڑ اور نه كسي بلند قبر كو دوسري قبروں كے برابر كيے بغير رهنے دينا.
مسلم كتاب الجنائز باب الأمر بتسوية القبر ح : 969
یہ تصاویر جن کو ایک پیغمبر نے مسخ کرنے اور مٹانے کا حکم دیا زمانہ جاہلیت کی بت پرستی کے مظاہر میں ہونے کے علاوہ ان کی اور کیا حقیقت ہو سکتی ہے؟ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ مدینہ کو اس قسم کے آثار سے پاک کر دیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دوباره ارتکاب کرنے والے کو اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے کفر کرنے کے مترادف قرار دیا۔
تصویر اور مصور سے متعلق احکام کا خلاصہ :
تصویر اور مصور سے متعلق احکام کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
(ا) حرمت اور گناہ میں سب سے زیادہ شدید تصویریں معبودانِ غیر اللہ کی ہیں۔ مثلاً نصاریٰ کے معبودان مسیح اور مریم علیہما السلام کی تصویر۔ اس قسم کی تصویر بنانا کفر کا موجب ہے اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے قصداً ایسی تصویر بنائے ایسی تصویروں کو رواج دے یا کسی نہ کسی طریقہ پر ان کی تعظیم کرے، وہ اپنے حصہ کے بقدر اس گناہ میں شریک ہے۔
(ب) اور گناہ میں اس سے قریب تر وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کی تصویر بنائے جس کی پرستش نہیں کی جاتی لیکن اس سے مقصود اللہ کی تخلیق کی مشابہت ہو یعنی وہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ بھی اللہ تعالی ہی کی طرح تخلیق و ایجاد کا کام کرتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا تعلق صرف مصور کی نیت پر ہے۔
(ج) اس سے کمتر درجہ کا گناہ یہ ہے کہ ایسی شخصیتوں کے مجسمے بنائے جائیں جن کی پرستش تو نہیں کی جاتی لیکن تعظیم ضرور کی جاتی ہے، جیسے بادشاہ قائد لیڈر وغیرہ جن کی یادگار میدانوں وغیرہ میں مجسمے نصب کر کے قائم کی جاتی ہے۔ اور مجسمہ کے کامل یا نصف ہونے سے گناہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
(د) اور اس سے بھی کمتر درجہ میں ایسے اشخاص کے مجسمے ہیں جن کی تقدیس و تعظیم نہیں کی جاتی۔ اس کی حرمت پر بھی اتفاق ہے البتہ جن تصویروں کی بے وقعتی کی جاتی ہے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، مثلاً : بچوں کے کھلونے اور مٹھائی کے مجسمے جو کھائے جاتے ہیں۔
(ھ) اس کے بعد غیر مجسم تصویروں کا درجہ ہے، یعنی فنی تصویریں، ان شخصیتوں کی جن کی تعظیم کی جاتی ہے جیسے حاکموں اور لیڈروں وغیرہ کی تصویریں، خاص طور سے جبکہ وہ نصب یا آویزاں کر دی گئی ہوں۔ ان کی حرمت دو چند شدید ہو جاتی ہے جبکہ تصویریں ظالموں، فاسقوں اور ملحدوں کی ہوں، کیونکہ ان کی تعظیم اسلام کو منہدم کرنے کے مترادف ہے۔
(و) اور گناہ کے لحاظ سے اس سے بھی کمتر درجہ کی وہ تصویریں ہیں جو مجسم نہ ہوں اور ان ذوی الارواح ( جانداروں) کی ہوں جن کی تعظیم نہیں کی جاتی ، لیکن وہ عیش پرستی کے مظاہر میں سے ہوں، مثلاً اس قسم کی تصویروں والے پردہ سے دیوار وغیرہ کو آراستہ کرنا جو کراہت سے کسی طرح بھی خالی نہیں ہے۔
(ر) جہاں تک غیر ذوی الارواح کی تصویروں کا تعلق ہے مثلاً : کھجور وغیرہ کے درخت دریا جہاز پہاڑ وغیرہ قدرتی مناظر کی تصویریں تو ان کو بنانے اور محفوظ کر لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ بشرطیکہ وہ طاعت سے غافل نہ کر دیں، یا تعیش کا باعث نہ بنیں بصورت دیگر ایسی تصویریں مکروہ ہیں۔
(ح) رہی عکسی تصویر یعنی فوٹو تو یہ اصلاً مباح ہے بشرطیکہ اس سے حرام چیز مقصود نہ ہو مثلاً : جس شخص کا فوٹو ہے اس کا مذہبی تقدس یا دنیوی تعظیم۔ خصوصاً جبکہ وہ شخص کافر و فاسق ہو مثال کے طور پر وہ شخص بت پرست ہو یا کمیونسٹ ہو یا گمراہ فن کار۔
(ط) اور آخری بات یہ ہے کہ حرام مجسموں اور تصویروں کو جب مسخ کر دیا جائے یا بے وقعت اور حقیر بنا دیا جائے، تو وہ دائرہ حرمت سے نکل کر دائرہ حلت میں آجاتی ہیں مثلاً : فرش کی تصویریں جنہیں پیر اور جوتے وغیرہ پامال کرتے رہتے ہیں۔