مضمون کے اہم نکات
کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں
دین اسلام کی بنیاد عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت پر استوار ہے، یہ شریعتِ مطہرہ کے دو اساسی اور بنیادی اصول ہیں، ان کا ماخذ و مصدر قرآن و حدیث ہے، اہل اسلام کا اجماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث دونوں وحی اور دینِ الٰہی ہیں، نیز دونوں اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محفوظ ہیں۔
قرآن مجید:
قرآن مجید کلامِ رب العالمین ہے، اس کے وحی ہونے میں کوئی شبہ نہیں، یہ ہر قسم کے ریب و شک سے پاک و منزہ کتابِ مبین ہے، اس کے باوجود ظالموں نے اس کا انکار کیا ہے، اس انکار کو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: [اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ یُّؤۡثَرُ]،[اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ]
یہ تو بس ایک مؤثر جادو ہے، یہ تو کسی بشر کا کلام ہے۔ (المدثر:24-25)
ایک جگہ فرمایا:
[اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ] یہ تو محض اپنی طرف سے گھڑی گئی بات ہے۔ (ص:7)
❀ قارئین کرام! انصاف سے بتائیں: کہ ان مشرکوں اور کافروں کی بیزاری سے قرآن مجید میں کیا نقص واقع ہوا؟ عیسائی مشنریوں اور آریوں نے تو قرآن مجید میں شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں اور اس میں اعتراضات بھی وارد کیے ہیں، قادیانیوں نے قرآن مجید کو منسوخ کہا ہے، حدیثوں کا انکار کیا ہے، روافض نے اس میں تواتر کی حد تک تحریف اور کمی و بیشی کا دعویٰ کیا ہے، کیا اس سارے پروپیگینڈے کی وجہ سے مسلمان قرآن مجید کا انکار کر دیں، جو جواب قرآن کے بارے میں ہوگا، وہی جواب حدیث کے بارے میں ہو جائے گا۔
قرآن مجید اور انکارِ حدیث:
ہر منکرِ حدیث درحقیقت منکرِ قرآن ہوتا ہے، منکرینِ قرآن اور منکرینِ حدیث دونوں کے مقاصد ایک ہیں کہ عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت کا انکار کیا جائے، یہ قرآن و حدیث کے انکار سے ہی ممکن ہے، قرآن کی آڑ میں حدیث کو نشانہ بنایا جائے، حدیث پر اعتراضات وارد کیے جائیں، اس میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، حدیث کو تاریخی حیثیت دے کر اسوۂ رسول ﷺ کے خاتمہ کی سازش کی جائے، حدیث کو عجمی سازش قرار دے کر سرے سے انکار ہی کر دیا جائے، دین کی پیروی کے بجائے خواہشات کی پیروی کو ہوا دی جائے، وہ یوں کہ حدیث کو قرآن پر پیش کریں، اگر یہ بزعمِ خویش قرآن کے موافق ہے، تو حدیث ہے، ورنہ جھوٹی داستان! کبھی یہ راگ الاپا کہ قرآن قطعی ہے اور حدیث ظنی ہے، لہٰذا اس سے عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت ثابت نہیں ہو سکتا، کبھی احادیثِ صحیحہ اور ائمہ کی متفقہ تصریحات کے خلاف قرآنی نصوص میں باطل تاویلات کر کے ان کو خواہشات کا تختۂ مشق بنا دیا، کبھی یہ شور مچایا کہ حدیث تو دو سو سال بعد لکھی گئی ہے، اس پر کیا اعتبار؟ کبھی حدیث کو عقلِ سقیم کی بھینٹ چڑھا کر اس کا انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ ہر باطل مذہب کی یہی پہچان ہے کہ وہ دین کو صرف عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے، الغرض ہر بدبخت اور ظالم نے دل کھول کر حدیثِ رسول ﷺ پر ظلم ڈھایا ہے، ہم اپنے اللہ سے شکایت کرتے ہیں، وہی ان ظالموں کو پوچھے گا۔
باطل فرقے اور انکارِ قرآن و حدیث:
جہمی فرقے نے جہاں حدیث کا رد کیا، وہاں قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کا بھی انکار کیا، معتزلہ فرقے نے جہاں حدیثیں رد کیں، وہاں قرآن کو بھی مخلوق کہا۔
نعیم بن حماد خزاعی رحمہ اللہ (228ھ) فرماتے ہیں:
المعتزلة تردون ألفي حديث من حديث النبي صلى الله عليه وسلم أو نحو ألفي حديث.
معتزلہ احادیثِ نبویہ میں سے دو ہزار یا اس کے لگ بھگ احادیث کا انکار کرتے ہیں۔
[سنن أبي داؤد، تحت الحديث: 4772، وسنده صحيح]
❀ اشعری فرقے نے جہاں احادیث کو چھوڑا، وہاں قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی حقیقی کلام ہونے کا انکار کر دیا، خارجیوں نے جہاں احادیث کا انکار کیا، وہاں قرآن مجید کی واضح نصوص میں معنوی تحریف اور تاویلِ باطل کے مرتکب ہوئے، کلابیہ فرقے نے جہاں احادیثِ صحیحہ کو خواہشات کا تختۂ مشق بنایا، وہاں قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا مجازی کلام قرار دیا، مرجئہ نے جہاں بعض احادیث کا رد کیا، وہاں قرآن مجید کی بعض آیاتِ بینات کو مہمل سمجھ لیا، روافض نے جہاں احادیث کا انکار کیا، وہاں قرآن کے محرف و مبدل ہونے کا دعویٰ کر دیا، قادیانیوں نے جہاں احادیث کا انکار کیا، وہاں قرآن کو منسوخ قرار دیا۔
❀ معلوم ہوا کہ ہر گمراہ فرقہ جو حدیث پر ظلم ڈھاتا ہے، وہ ضرور بالضرور قرآن مجید کو اپنی خواہشات کے حوالے کر دیتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ رنگ و روپ مختلف ہے، کردار ایک ہی ہے۔
انکارِ قرآن و حدیث کا ایک نقصان:
منکرینِ قرآن نے نبی اکرم ﷺ کی ذات باصفات کو تنقید کا نشانہ بنایا، منکرینِ حدیث رافضیوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی کردار کشی کی، بعض نے جبریل امین سے دشمنی کر لی، منکرینِ حدیث خارجیوں نے صحابہ کرام کی شان میں تنقیس کی، ناصبی منکرینِ حدیث نے اہل بیت کی ذات باصفات کو تنقید کا نشانہ بنایا، ہمارے دور کے منکرینِ حدیث نے ثقہ ائمہ محدثین سلف صالحین اور ثقہ فقہاء و مجتہدین کی تذلیل و توہین کی کوشش کی، محدثینِ کرام کو جاہل، کم فہم اور قرآن کا دشمن و مخالف قرار دیا۔
اگر نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے وجودِ مقدس اور محدثین رحمہم اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، تو دینِ اسلام کا وجود باقی نہیں رہ سکتا، منکرینِ حدیث بھی یہی چاہتے ہیں کہ دینِ اسلام کا نام و نشان تک نہ رہے (العیاذ باللہ!)، اس لیے وہ ان نفوسِ مقدسہ کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔
کیا حدیث کی حیثیت تاریخی ہے؟:
کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ حدیثِ رسول ﷺ کو تاریخی حیثیت دے کر دین کے بڑے حصے سے دستبردار ہو جایا جائے؟ جبکہ حدیث کے وحی ہونے پر اجماعِ مسلمین ہے، قرآنی دلائل اس پر شاہد ہیں۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا]
تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات بہترین نمونہ ہے، ان کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں۔
(الأحزاب: 21)
❀ رسول اللہ ﷺ کا نمونہ کیا ہے؟ وہ حدیث ہی تو ہے، اگر حدیث کی حیثیت غیر تشریعی اور تاریخی ہے، تو اسوۂ رسول ﷺ کہاں ہے؟ منکرینِ حدیث کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسوۂ رسول ﷺ کا خاتمہ ہو جائے۔
❀ اس سے معلوم ہوا کہ ہر منکرِ حدیث قرآن دشمنی کے درپے ہے، یہ ایسے طریقے سے حدیث کی تردید و تکذیب کرتے ہیں، جس سے قرآن کی تردید و تکذیب لازم آتی ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم تو دیا، لیکن اس کا طریقۂ ادائیگی تاریخ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ]
ہم نے آپ کی طرف ذکر اس لیے نازل کیا کہ آپ لوگوں کے لیے اللہ کی نازل کردہ وحی کی وضاحت کر دیں، تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ (النحل: 44)
❀ کیا نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کا بیان پیش کیا ہے؟ اس کی تبیین و توضیح فرمائی ہے؟ اس کی تفسیر و تشریح کی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو وہ کہاں ہے؟ اگر حدیث کی تشریعی حیثیت کا انکار کر دیا جائے تو قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کی تکذیب لازم آئے گی، بھلا یہ کہنا کہاں تک صحیح ہو گا کہ ’’حدیث کی حیثیت دینی نہیں، محض تاریخی ہے، جو صبح سے شام تک تبدیل ہو کر کچھ سے کچھ ہو جایا کرتی ہے۔
بھلا سوچیں کہ حدیث کیسی تاریخ ہے، جو پوری انسانیت کے لیے سامانِ ہدایت واصلاح مہیا کرتی ہے اور اصلاح وفلاح کے حوالہ سے زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے؟ یہ کیسی تاریخ ہے، جو معیشت و سیاست اور ادب واخلاق کے دائمی ضابطوں سے مالا مال ہے؟ یہ کیسی تاریخ ہے، جو فصاحت وبلاغت، اسلوب واحکام کی بلندی اور وقت تعبیر سے لبریز ہے؟ یہ کیسی تاریخ ہے، جو حلال وحرام اور طیب و خبیث میں فرق کرتی ہے؟
یہ کیسی تاریخ ہے، جو قرآن کی تصدیق کرتی ہے، اس کو وحیِ برحق قرار دیتی ہے، اس پر عمل کرنے کو کہتی ہے، اس میں اختلاف کرنے سے منع کرتی ہے، اس کی فضیلت بیان کرتی ہے، اس کا معجزۂ خالدہ ہونا تسلیم کرتی ہے اور قرآن کریم نے جو تمام اساسی عقائد وعبادات واخلاق بیان کیے ہیں، ان سے سرمو انحراف نہیں کرتی؟
یہ کیسی تاریخ ہے، جو نماز کے طریقۂ ادائیگی کی تفصیل بیان کرتی ہے، نیز یہاں تک بتاتی ہے کہ ہوا خارج ہو جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ یہ کیسی تاریخ ہے، جو رشتوں کی حرمت بیان کرتی ہے؟ یہ کیسی تاریخ ہے کہ اس کی ایک ایک بات کے خلاف بھی مسلمانوں کا اجماع نہ ہو سکا؟ یہ کیسی تاریخ ہے کہ عقلِ سلیم اور فطرتِ سلیمہ اس کی ہر بات کو تسلیم کرتی ہے؟ یہ کیسی تاریخ ہے کہ اس سے پہلے دنیا کی تاریخ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر رہی ہے؟
امام آجری رحمہ اللہ (360ھ) فرماتے ہیں:
كل من رد سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنن أصحابه فهو ممن شاق الرسول وعصاه وعصى الله تعالىٰ بتركه قبول السنن، ولو عقل هٰذا الملحد وأنصف من نفسه علم أن أحكام الله عز وجل وجميع ما تعبد به خلقه إنما تؤخذ من الكتاب والسنة وقد أمر الله عز وجل نبيه عليه السلام أن يبين لخلقه ما أنزله عليه مما تعبدهم به، فقال جل ذكره: [وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ] (النحل:44)وقد بين صلى الله عليه وسلم لأمته جميع ما فرض الله عز وجل عليهم من جميع الأحكام وبين لهم أمر الدنيا وأمر الآخرة وجميع ما ينبغي أن يؤمنوا به ولم يدعهم جهلة لا يعلمون حتى أعلمهم أمر الموت والقبر وما يلقى المؤمن وما يلقى الكافر وأمر المحشر والوقوف وأمر الجنة والنار حالا بعد حال يعرفه أهل الحق.
جو شخص رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی سنت کو ٹھکرائے گا، وہ ان لوگوں میں سے ہوگا، جو رسول اللہ ﷺ کے مخالف اور نافرمان ہیں، نیز وہ سنتوں کو چھوڑنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا بھی نافرمان ہو گیا ہے، اگر یہ ملحد عقل کرے اور خود انصاف کرے، تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام اور مخلوق جو اس کی عبادات بجا لاتی ہے، اس کے سارے طریقے کتاب و سنت سے ہی اخذ کیے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم بھی فرمایا ہے کہ وہ اس کی مخلوق کے لیے اس کے نازل کردہ تعبدی فرامین کی توضیح کریں، چنانچہ فرمایا: [وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ] (النحل: 44) ’’ہم نے آپ کی طرف ذکر اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کے لیے ان کی طرف نازل کردہ وحی کی وضاحت کریں اور تاکہ وہ غور وفکر کریں۔‘‘ لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے لیے وہ سارے کے سارے احکام بیان کر دیئے ہیں، جو ان پر مقرر کیے گئے ہیں، نیز ان کے لیے دنیا و آخرت کے معاملات بیان کر دیئے ہیں اور وہ چیزیں بھی جن پر ایمان لانا ضروری ہے، انہیں بے علم اور جاہل نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ ان کو موت اور قبر کے حالات کی بھی خبر دی ہے، مؤمن وکافر کے انجام، حشر و وقوف (روزِ قیامت حساب کے لیے اجتماع اور قیام) اور جنت و جہنم کے لمحہ بہ لمحہ حالات بھی بیان کر دیئے ہیں، جن کو اہل حق جانتے ہیں۔ [الشَّريعة: 1203/3]