دعاء مانگنا اور پکارنا عبادت ہے اور غیر اللہ سے کرنا شرک ہے
لفظ صلوۃ دعاء کو متضمن ہے جو حقیقت میں عبادت کا مغز ہے سوال بھی اس کی ذیل میں آتا ہے۔ لہذا لفظ صلوۃ دعاء اور سوال دونوں کو متضمن ہے۔ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴿٦٠﴾
”اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعاء کرو میں تمہاری دعا قبول کر لوں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے از راہِ تکبر سرتابی کرتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔“
(40-غافر:60)
اللہ تعالیٰ نے خود ہی دعاء کی تشریح سوال سے کی اور اپنے محبوب نبی کو حکم دیا کہ وہ یوں کہے:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾
”میری نماز میری قربانی میرے تمام مراسمِ عبودیت میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔“
(6-الأنعام:162)
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ :
● وہ صرف اللہ تعالیٰ سے دعاء و التجاء کرے۔
● اس کے لیے نماز ادا کرے۔
● اس کی رضا کے لیے مساجد تعمیر کرے۔
● کسی کی قبر پر مسجد تعمیر نہ کی جائے۔
● کسی بھی صاحبِ قبر کے لیے مسجد تعمیر نہ کی جائے۔
● اور نہ کسی قبر کی طرف رختِ سفر باندھا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی کے علاوہ کسی مسجد کی طرف سفر کیا جائے اور بیت اللہ کے علاوہ کسی دوسرے گھر کا حج کرنے سے بھی منع فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، آپ کی سنت، خلفائے راشدین کے طریقے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل، تابعین کے طرزِ زندگی اور ائمہ اربعہ کی زندگیوں سے مندرجہ بالا احکام کی معرفت کا علم ہوتا ہے۔ لہذا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ائمہ اسلام میں سے کسی ایک سے ثابت کر سکے کہ انہوں نے کسی نبی یا صالح شخص کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا مستحب کہا ہو۔ جو شخص یہ ثابت کرنا چاہے وہ اس کی صحیح نقل پیش کرے۔ جب ہماری بات ثابت ہوئی جس کا ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے تو ثابت ہوا کہ اس کا مخالف دین اسلام، سنت رسول اور خلفائے راشدین کے عمل کا مخالف ہے۔ نیز شریعت اور ان کتب سماوی کا انکار بھی ہوگا جن کی تبلیغ کے لیے تمام انبیاء کرام مبعوث ہوئے۔ وہ یہ کہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ ایسا یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے جن اعمال کو واجب یا مستحب ٹھہرایا ہے ان میں اس کی اتباع کی جائے اور ان افعال و اعمال کا ہرگز ارتکاب نہ کیا جائے جن کی شریعت حقہ میں اجازت نہیں دی گئی۔