حالانکہ سیدھا راستہ یہ ہے
مشرکین نماز پڑھتے ہوئے مخلوق سے دعا کرتے ہیں اور ان کی قبروں کا حج کرتے ہیں۔ ان کے برعکس اللہ نے ہدایت کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٦١﴾ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ﴿١٦٣﴾
”اے نبی! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ کہو میری نماز، میرے مراسم عبودیت، میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔“
(6-الانعام:161-163)
وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ
”اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔“
لفظ ”نسكي“ کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین نے اس کا مفہوم یہ لکھا ہے کہ اللہ کے لیے ذبح کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا۔ اس لفظ ”نسك“ میں تمام قسم کی عبادات شامل ہیں۔
قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے ذبح جانور اور حج بیت اللہ کو لفظ ”نسك“ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد الہی ہے:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ
”ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔“
(22-الحج:34)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
من ذبح بعد الصلوة فقد أصاب النسك ومن ذبح قبل الصلوة فإنما هو شاء لحم عجلها لاهله ليس من النسك فى شيء
”جس شخص نے نماز عید کے بعد جانور ذبح کیا، اس نے صحیح قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح کر دیا تو وہ صرف ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے اہل خانہ کے لیے جلدی تیار کیا ہے۔ قربانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔“
صحیح بخاری کتاب الاضاحي : باب سنة الاضحية (حديث : 5545، 5546) صحیح مسلم کتاب الاضاحي : باب وقتها (حديث : 1960، 1961)
سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی دعا نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے یوں دعا کی:
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
”اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے تو سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے رب! ہم دونوں کو اپنا مطیع فرمان بنا۔ ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مطیع ہو۔ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا۔ اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے ان مقامات اور اعمال کی نشاندہی فرمائی جن کا تعلق مناسک حج سے تھا جیسے طواف بیت اللہ، سعی بین الصفا والمروۃ، وقوف عرفات، رمی الجمار وغیرہ۔