تمام انبیاء کا دین اسلام اور دعوت توحید تھی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

تمام انبیاء کا دین اسلام تھا اور دعوت توحید تھی

اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تاکہ دین الہی کو دوسرے تمام ادیان پر غالب کرے۔ پس اللہ کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا دین دے کر بھیجا جو آپ سے پہلے تمام انبیاء کا دین تھا۔ وہ تھا دین اسلام۔ اب جو شخص دین اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا وہ مقبول نہ ہوگا خواہ اس شخص کا تعلق پہلی امتوں سے ہو یا آخری امت سے ہو۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا جیسا کہ صحیحین کی روایت میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نحن معشر الأنبياء ديننا واحد والأنبياء إخوة لعلات
”ہم انبیاء کی جماعت ہیں۔ ہمارا دین ایک ہی ہے اور ہم آپس میں علاقی بھائی ہیں۔“
(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء : باب قول الله تعالى (واذكر في الكتاب مريم) حدیث 3442-3443، صحیح مسلم کتاب الفضائل : باب من فضائل عيسى علیہ السلام حدیث 2365 باختلاف یسیر)
قرآن کریم میں رب کریم نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اس نے نوح، ابراہیم، اسرائیل، موسیٰ کی اتباع کا ذکر کیا اور فرمایا کہ وہ سب مسلمان تھے وہ ایک اللہ کی عبادت پر متفق تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ان سب کا ہدف اور مشن یہ تھا کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور ایسے دین کو نہ اپنایا جائے جسے اللہ نے مقرر نہیں کیا۔ اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے اسلام میں حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی جائے۔ اس وقت یہی اسلام تھا۔ اور جب اسے منسوخ کر کے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تو پھر یہی دین اسلام ٹھہرا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا
”ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی۔“
(5-المائدة:48)
پس ثابت ہوا کہ توراۃ ایک مستقل شریعت تھی، انجیل ایک مستقل شریعت تھی، اسی طرح قرآن کریم بھی ایک مستقل شریعت ہے۔ توراۃ اور انجیل میں تحریف سے پہلے جس شخص نے اس پر عمل کیا گویا اس نے دین اسلام کی پیروی کی۔
جو شخص تحریف شدہ دین کی اتباع کرتا ہے یا منسوخ شدہ شریعت کی پیروی کرتا ہے وہ دین اسلام سے خارج ہے جیسے یہود و نصاریٰ۔ کیونکہ یہود نے توراۃ کو بدل دیا اور سیدنا مسیح کو جھٹلایا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب بھی کی۔ اسی طرح نصاریٰ نے انجیل کو بدلا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کیا۔
پس یہود و نصاریٰ اس دین اسلام پر قائم نہیں رہے جو انبیاء کا دین تھا بلکہ انبیاء کے مخالف ہیں۔ کیونکہ وہ حق کو جھٹلاتے اور باطل کی ترویج میں پیش پیش ہیں۔