اونٹ میں دس اور گائے کی قربانی میں سات افراد کی شرکت
عن جابر بن عبد الله أنه قال: نحرنا مع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے حدیبیہ والے سال، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ اور سات آدمیوں کی طرف سے گائے (بطور قربانی ذبح کی)۔
تحقیق: صحیح
تخريج: مسلم
الموطا (روایت یحییٰ 386/2 ح 1068، ک 23 ب 5) التمہید 147/13، وقال: ”لهذا حدیث صحیح عند أهل العلم“ الاستذکار: 1002
وأخرجه مسلم (1318) من حدیث مالک به۔ وصرح ابوالزبیر بالسماع عند احمد (378/3 ح 15043)
تفقہ :
➊ گائے اور اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور دوسری حدیث کی رو سے اونٹ کی قربانی میں دس افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں۔
(دیکھئے سنن الترمذی: 1501، وسندہ حسن، سنن النسائی: 4397، سنن ابن ماجہ: 3131)
➋ حدیبیہ والا سال 6 ہجری ہے۔ دیکھئے التمہید (147/12)
➌ اگر قربانی کے حصہ داروں میں سے ایک شخص ذمی (غیر مسلم) ہو تو علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے۔ راجح یہی ہے کہ ذمی کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔
➍ اگر قربانی کے حصہ داروں میں سے کوئی شخص بدعتی ہے جس کی بدعت بدعت مکفرہ نہیں تو قربانی جائز ہے اور بہتر یہی ہے کہ ذبح کرنے والا صحیح العقیدہ ہو اور کسی بدعتی کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔
➎ ساری قربانی ایک شخص کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔
➏ اگر گائے یا اونٹ میں مثلاً چھ آدمی شریک ہوں تو ایک آدمی کو دو حصے لینے چاہئیں اور یہ نہ کیا جائے کہ ساتویں حصے کو چھ آدمیوں پر تقسیم کر دیا جائے کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
قربانی میں اصل یہ ہے کہ کم از کم ایک خاندان کی طرف سے بکری کا دوندا بچہ اور بامر مجبوری بھیڑ کا جذعہ جائز ہے۔ یہ جو گائے میں سات حصے اور اونٹ میں سات یا دس حصے ہیں، اصل میں یہ سات یا دس بھیڑوں اور بکریوں کے قائم مقام ہیں۔ بھیڑ یا بکری صرف ایک خاندان کو کفایت کرتی ہے، دو خاندانوں کو نہیں۔
نیز دیکھئے کتاب الام للامام الشافعی (580/3)
مگر یاد رہے کہ قربانی میں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے عقیقہ کرنا درست نہیں ہے کیونکہ عقیقے میں باقاعدہ بھیڑ یا بکریاں ہی مشروع ہیں۔ گائے اور اونٹ سے بچنا چاہئے۔ دیکھئے یہی کتاب (ص 86) [معاذ]
➐ اگر کسی عذر کی وجہ سے آدمی حرم نہ جا سکے تو اس کی طرف سے قربانی خارج حرم بھی جائز ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ حدود حرم میں یہ قربانی کی جائے۔
➑ سارے گھر کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کافی ہے۔
دیکھئے سنن الترمذی (1505، وسندہ حسن وقال: ”حسن صحیح“)
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم سارے گھر کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے تھے۔
(الموطا 638/2 ح 1069، وسندہ صحیح، والسنن الکبریٰ للبیہقی 268/9)
اس پر قیاس کرتے ہوئے سارے گھر کی طرف سے گائے کا ایک حصہ کافی ہے۔ واللہ اعلم
➒ حج کے علاوہ قربانی کرنا سنت ہے، واجب نہیں ہے۔
دیکھئے الموطا (487/2 قال مالک: ”الضحیۃ سنۃ ولیست بواجبۃ ولا أحب لأحد ممن قوى على ثمنها أن يتركها“)
➓ اس پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے یعنی گائے کی ہی ایک قسم ہے۔ دیکھئے کتاب الاجماع لابن المنذر (91) لیکن دیگر دلائل اور احتیاط کی رو سے بہتر یہی ہے کہ اس کی قربانی نہ کی جائے۔ واللہ اعلم
(موطا روایت ابن القاسم ص 189)