خیر و بھلائی کی راہنمائی کرنا
① سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میری سواری ہلاک ہو گئی ہے اور میں سفر نہیں کر سکتا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری سواری کا انتظام فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما عندي ما أحملك عليه
”میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں جو میں تجھے سواری کے لیے دے دوں۔“
اتنے میں ایک آدمی نے کہا: میں اسے ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جو اس کی سواری کا انتظام کر دے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من دل على خير فله مثل أجر فاعله
”جس شخص نے کسی خیر و بھلائی کی راہنمائی کی تو اسے بھی وہ نیک عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔“
مسلم، کتاب الإمارة 1893، ابو داؤد، کتاب الأدب 5129۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی سواری طلب کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن اس نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی جو آپ اسے سواری کے لیے عطا فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک اور آدمی کے متعلق بتایا تو اس نے اسے سواری دے دی۔ پس وہ (سواری لے کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدال على الخير كفاعله
”نیکی کی راہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔“
ترمذی 2808، روایت صحیح ہے۔
مسلمان بھائی کی عزت کا خیال کرنا
① سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ذب عن عرض أخيه رد الله النار عن وجهه يوم القيامة
”جو شخص اپنے بھائی کی عزت بچاتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کے چہرے کو آگ (جہنم) سے دور رکھے گا۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 1931، روایت حسن ہے۔
رحم کے متعلق احکامات
① سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يرحم الله من لا يرحم الناس
”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔“
اور ایک روایت میں ہے:
من لا يرحم الناس لا يرحمه الله
”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔“
بخاری، کتاب الأدب 6013، 7376، مسلم، کتاب الفضائل 3319.
② سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الراحمون يرحمهم الرحمن، إرحموا من فى الأرض يرحمكم من فى السماء
”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو آسمانوں والا تم پر رحم فرمائے گا۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4941، ترمذی 1924، روایت حسن ہے۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا تنزع الرحمة إلا من شقي
”رحمت صرف کسی بدنصیب شخص سے چھینی جاتی ہے۔ بدنصیب شخص ہی رحمت سے محروم ہوتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1923، ابو داؤد 3942۔
با ہم محبت کرنے، رحم کرنے اور ہم دردی کرنے کے احکامات
① سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل المؤمنين فى توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى
”مومن با ہم محبت کرنے، رحم کرنے اور ہم دردی کرنے کے لحاظ سے ایک جسم کی مانند ہیں۔ جب اس کے کسی عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو باقی پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6011، مسلم، کتاب السیر والصلة والأدب 2586، مسند احمد، اول مسند الکوفیین 270/4۔