تعظیمی قیام اور قیامِ استقبال میں فرق : احادیث، شبہات اور ان کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

تعظیمی قیام اور قیامِ استقبال میں فرق

◈ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلينا ورائه وهو قاعد، وأبو بكر يسمع الناس تكبيره، فالتفت إلينا فرآنا قياما، فأشار إلينا، فقعدنا، فصلينا بصلاته قعودا، فلما سلم، قال: إن كدتم آنفا لتفعلون فعل فارس والروم، يقومون على ملوكهم، وهم قعود، فلا تفعلوا، انتموا بأئمتكم إن صلى قائما فصلوا قياما، وإن صلى قاعدا؛ فصلوا قعودا .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں اس طرح نماز ادا کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی اور ہمیں کھڑے محسوس کیا، تو اشارے کے ذریعے بیٹھنے کا حکم دیا۔ ہم بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں بیٹھ کر نماز ادا کی۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی آپ نے ایرانیوں اور رومیوں جیسا طرز عمل اپنا رکھا تھا، وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، آپ اپنے امام کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ کریں۔ اگر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے، آپ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کریں اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے ، تو آپ بھی بیٹھ کر نماز ادا کریں۔“
(صحیح مسلم : 413)
حافظ نووی رحمہ اللہ (م : 676ھ) فرماتے ہیں :
فيه النهي عن قيام الغلمان والتباع على رأس متبوعهم الجالس لغير حاجة، وأما القيام للداخل إذا كان من أهل الفضل والخير؛ فليس من هذا ، بل هو جائز، قد جاء ت به أحاديث، وأطبق عليه السلف والخلف .
”حدیث میں مذکورہ ممانعت اس قیام کے متعلق ہے، جو چھوٹے بچے اور خادم بغیر ضرورت کے اپنے آقاؤں کے سر کی جانب کھڑے ہوتے ہیں اور وہ بادشاہ وغیرہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ باقی جو قیام اہل فضل و خیر کی آمد پر ہوتا ہے، وہ اس وعید میں شامل نہیں ہے، وہ تو جائز ہے۔ اس بارے میں احادیث بیان ہوئی ہیں اور سلف وخلف کا اس کے جواز پر اتفاق ہے۔“
(شرح صحیح مسلم : 135/4)
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں :
في هذا الحديث أنه أمرهم بترك القيام الذى هو فرض فى الصلاة، وعلل ذلك بأن قيام المأمومين مع قعود الإمام يشبه فعل فارس والروم بعظمائهم ، فى قيامهم وهم قعود، ومعلوم أن المأموم إنما نوى أن يقوم لله لا لإمامه، وهذا تشديد عظيم فى النهي عن القيام للرجل القاعد، ونهي أيضا عما يشبه ذلك، وإن لم يقصد به ذلك، ولهذا نهي عن السجود لله بين يدي الرجل، وعن الصلاة إلى ما قد عبد من دون الله، كالنار ونحوها، وفي هذا الحديث أيضا نهي عما يشبه فعل فارس والروم، وإن كانت نيتنا غير نيتهم لقوله : فلا تفعلوا .
”اس حدیث میں ذکر ہے کہ امام بیٹھا ہو، تو مقتدیوں کے لئے بھی بیٹھنا فرض ہے، کہ امام کے بیٹھے ہونے کے باوجود مقتدیوں کا کھڑا رہنا فارسیوں اور رومیوں سے مشابہت رکھتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے معززین کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ صرف مشابہت کی وجہ سے ناجائز ہے، کیوں کہ مقتدی صرف اللہ کے لئے کھڑا ہوتا ہے، اس کا قیام امام کے لئے ہوتا ہے۔ یہ ممانعت میں مبالغہ ہے، تعظیمی قیام کی مشابہت سے بھی منع کر دیا گیا، تو خود تعظیمی قیام کتنا فتیح عمل ہوگا، جیسا کہ اللہ کو سجدہ کرنا ضروری ہے، لیکن اللہ کو سجدہ کرتے وقت ایسی صورت اختیار کرنا ممنوع ہے، جس سے کسی بندے کو سجدہ ہونے کا گمان گزرے۔ اسی طرح معبودان باطلہ کی طرف منہ کر کے نماز سے روکا گیا ہے، جیسا کہ آگ اور اس جیسی دوسری چیزیں ہیں، چنانچہ اس حدیث میں مذکور فارسیوں اور ررومیوں سے مشابہت والے قیام کی ممانعت ہے۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 226/1-227)
◈ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (م : 751ھ) لکھتے ہیں :
حمل أحاديث النهي عن القيام على مثل هذه الصورة ممتنع ، فإن سياقها يدل على خلافه، وأنه صلى الله عليه وسلم كان ينهى عن القيام له إذا خرج عليهم، ولأن العرب لم يكونوا يعرفون هذا، وإنما هو من فعل فارس والروم، ولأن هذا لا يقال له قيام للرجل ، إنما هو قيام عليهم ففرق بين القيام للشخص المنهي عنه، والقيام عليه المشبه لفعل فارس والروم، والقيام إليه عند قدومه الذى هو سنة العرب، وأحاديث الجواز تدل عليه فقط .
”ممانعت والی احادیث کو ایسی صورت پر محمول کرنا ممکن نہیں ، کیوں کہ اس حدیث کا سیاق اس کے خلاف ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاتے اور عربوں کے ہاں یہ طریقہ معروف نہیں تھا۔ یہ صرف فارسیوں اور رومیوں کا وطیرہ تھا۔ اسے کسی آدمی کے لیے کھڑا ہونا نہیں کہا جائے گا، بلکہ یہ تو کسی آدمی کے پاس کھڑے رہنا ہے۔ لہذا کسی بندے کے لیے کھڑے ہونا، جس سے منع کیا گیا ہے اور فارس وروم کے فعل سے مشابہ قیام، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، جبکہ کسی آدمی کی آمد پر قیام عربوں کا طرزِ عمل ہے اور جو احادیث قیام کو جائز ثابت کرتی ہیں، وہ صرف اسی دوسرے قیام کے متعلق ہیں۔“
(تھذیب السنن : 93/8)

عمرو بن سائب کی مرسل روایت

عمرو بن السائب بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی والد آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی چادر کا بعض حصہ بچھا دیا۔ وہ اس پر بیٹھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کی دوسری جانب ان کے لیے بچھا دی۔ وہ اس پر بیٹھ گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی آگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ان کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔
(سنن أبي داود : 5145)
سند مرسل ہونے کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔

سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے منسوب جھوٹ

◈ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :
أتى النبى صلى الله عليه وسلم، فلما رآه النبى صلى الله عليه وسلم قام إليه فقبل ما بين عينيه، ثم أقعده عن يمينه .
”سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آتے دیکھا، تو ان کے استقبال میں کھڑے ہو گئے ، پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنی دائیں جانب بٹھا لیا۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 235/10 ، تاریخ بغداد : 63/1)
روایت جھوٹی ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے باطل قرار دیا ہے۔
(میزان الاعتدال : 97/1)
◈ احمد بن رشدین کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
هو الذى اختلقه بجهل .
”اسی نے اپنی جہالت کی بنا پر اسے گھڑا ہے۔“
(میزان الاعتدال : 97/1)
اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے الثقات (40/8) میں ذکر کیا ہے۔ یہ ان کا تساہل ہے۔

شبہات اور ان کا ازالہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ اس پر انہوں نے مذکورہ دلائل پیش کئے ہیں، ان دلائل کی فنی حیثیت ملاحظہ ہو :
◈ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس معنا فى مسجد ويحدثنا، فإذا قام، قمنا قياما حتى نراه قد دخل بعض بيوت أزواجه .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں بیٹھے باتیں کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ، تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے ، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے گھر میں داخل ہوتا نہ دیکھ لیتے۔“
(سنن أبي داود : 4775 ، السنن الكبرى للنسائي : 4780 ، سنن ابن ماجه مختصرا : 2093 ، شعب الإيمان للبيهقي : 8930)
یہ حدیث کئی وجہ سے قیام تعظیمی کی دلیل نہیں بن سکتی :
سند ”ضعیف“ ہے۔
◈ ہلال بن ابو ہلال مدنی کے بارے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا أعرفه .
”میں اسے نہیں پہچانتا۔“
(العلل : 1476)
◈ امام ابن شاہین رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں :
لا أعرفه .
”میں اسے نہیں جانتا۔“
(الثقات: 1245)
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
لا يعرف .
”یہ غیر معروف ہے۔“
(میزان الاعتدال : 317/4)
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ”مقبول“ (مستور الحال) کہا ہے۔
(تقريب التهذيب : 7351)
صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے الثقات (503/5) میں ذکر کیا ہے، لہذا یہ ”مجہول الحال“ راوی ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م : 852ھ) فرماتے ہیں :
الذي يظهر لي فى الجواب أن يقال: لعل سبب تأخيرهم حتى يدخل لما يحتمل عندهم من أمر يحدث له حتى لا يحتاج إذا تفرقوا أن يتكلف استدعانهم، ثم راجعت سنن أبى داود، فوجدت فى آخر الحديث ما يؤيد ما قلته، وهو قصة الأعرابي الذى جبذ ردانه صلى الله عليه وسلم، فدعا رجلا فأمره أن يحمل له على بعيره تمرا وشعيرا، وفي آخره، ثم التفت إلينا، فقال: انصرفوا رحمكم الله تعالى .
”میرے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شاید اس لئے کھڑے رہتے ہوں کہ مبادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے کوئی کام پڑ جائے اور انہیں ہمیں بلانے کی مزید زحمت اٹھانی پڑے۔ پھر میں نے سنن ابی داود کی طرف رجوع کیا، تو اس حدیث کے آخر میں وہ الفاظ مل گئے، جو میری بات کی تائید کرتے ہیں۔ یہ ایک اعرابی کا واقعہ ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک کو کھینچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بلایا اور حکم فرمایا کہ وہ اس اعرابی کے اونٹ پر کھجور اور جَو لاد دے، اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ آپ لوگوں پر رحم کرے، اب آپ جا سکتے ہیں۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 52/11-53)
◈ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ (م : 1014ھ) لکھتے ہیں :
لعلهم كانوا ينتظرون رجاء أن يظهر له حاجة إلى أحد منهم، أو يعرض له رجوع إلى الجلوس معهم، فإذا أيسوا؛ تفرقوا، ولم يقعدوا لعدم حلاوة الجلوس بعده عليه السلام .
”شاید کہ وہ اس امید سے انتظار کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں سے کسی سے کوئی کام پڑ جائے یا آپ کا ان کی طرف دوبارہ آنے کا ارادہ بن جائے۔ جب وہ سمجھتے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئیں گے یا نہیں بلائیں گے تو چلے جاتے۔ آپ کے بعد مجلس کا لطف باقی نہیں رہتا تھا۔“
(مرقاة المفاتيح : 488/13)
لہذا اس سے یہ استدلال درست نہ ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں کھڑے ہوتے تھے، پھر یہ تو غلط در غلط ہے کہ اس بات کو بنیاد بنا کر کوئی درود پڑھتے ہوئے تعظیما کھڑا ہونے لگے۔
◈ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لما قدم جعفر من هجرة الحبشة، تلقاه النبى صلى الله عليه وسلم فعانقه، وقبل ما بين عينيه، وقال: ما أدري بأيهما أنا أسر؛ بفتح خيبر أو بقدوم جعفر؟
”سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ہجرت حبشہ سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال کیا، ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا : مجھے معلوم نہیں کہ دو چیزوں میں زیادہ خوشی مجھے کس بات کی ہے، فتح خیبر کی یا جعفر کی آمد کی؟“
(المعجم الكبير : 108/2 ، المعجم الأوسط : 2003 ، المعجم الصغير للطبراني : 30)
سند ”ضعیف“ ہے۔
◈ احمد بن خالد حرانی کے بارے امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ضعيف، ليس بشيء، ما رأيت أحدا أثنى عليه .
”ضعیف ہے، کسی کام کا نہیں، میں نے کسی کو اس کی تعریف کرتے نہیں دیکھا۔“
(سؤالات حمزة السهمي للدارقطني ص : 148)
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
واه .
”یہ کمزور راوی ہے۔“
(المغني : 65/1)
◈ اس کے متابع انس بن سلم کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لم أعرفه .
”میں اسے پہچان نہیں سکا۔“
(مجمع الزوائد : 277/9)
اس کی متابعت عثمان بن محمد بن عثمان نے بھی کی ہے۔
(تاریخ بغداد للخطيب : 292/11)
اس کے بارے میں بھی تعدیل و توثیق کا کوئی قول ثابت نہیں۔ لہذا یہ روایت بھی ”ضعیف“ ہے۔
◈ عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے :
لما بلغ باب رسول الله صلى الله عليه وسلم استبشر، ووثب له رسول الله صلى الله عليه وسلم قائما على رجليه، فرحا بقدومه .
”جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور آنے کی خوشی میں ان کے لیے جلدی سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔“
(المغازي للواقدي : 850/2 – 853 ، المستدرك للحاكم : 269/3)
جھوٹ کا پلندہ ہے۔ محمد بن عمر واقدی جمہور محدثین کرام کے نزدیک ”ضعیف“ اور متروک ہے۔ نیز اس کا استاذ ابوبکر بن عبد اللہ بن ابوسبرہ ”وضاع“ یعنی جھوٹی حدیثیں گھڑنے والا اور کذاب یعنی جھوٹا ہے۔
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يضع الحديث .
”یہ حدیثیں گھڑتا تھا۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 306/7)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری قیام گاہ میں تشریف فرما تھے۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا :
فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم عريانا يجر ثوبه، والله، ما رأيته عريانا قبله ولا بعده، فاعتنقه وقبله .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف مکمل لباس کے بغیر اپنے کپڑے کو سنبھالتے ہوئے کھڑے ہوئے۔ اللہ کی قسم ! میں نے اس سے پہلے اور بعد کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل لباس کے بغیر کسی سے ملتے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معانقہ کیا اور انہیں بوسہ دیا۔“
(سنن الترمذي : 2732 ، وقال : حسن، شرح معاني الآثار للطحاوي : 92/4)
سخت ترین ”ضعیف“ ہے۔
◈ ابراہیم بن یحیی بن محمد شجری ”لین الحدیث“ ہے۔
(تقريب التهذيب لابن حجر : 268)
◈ یحیی بن محمد بن عباد مدنی شجری بھی ”ضعیف“ ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
كان ضريرا يتلقن .
”یہ نابینا تھا اور تلقین قبول کرتا تھا۔“
(تقریب التهذيب : 7637)
◈ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ مدنی ”مدلس“ ہیں۔
◈ امام زہری رحمہ اللہ بھی ”مدلس“ ہیں۔
دونوں نے سماع کی تصریح نہیں کی ، لہذا روایت ”ضعیف“ ہے۔
تاریخ ابن عساکر (360/19) کی سند میں محمد بن عمر واقدی ”متروک“ ہے۔
◈ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مسئلہ بتایا :
قمت إليه، فقلت له: بأبي أنت وأمي، أنت أحق بها .
”میں آپ رضی اللہ عنہ کی طرف کھڑا ہوا اور ان سے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 6/1 ، مسند البزار : 4 ، مسند أبي يعلى : 24)
سند ”رجل مبہم“ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔
◈ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاوا بھیجا، تو وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا :
قوموا إلى سيدكم .
”اپنے سردار کی طرف اُٹھیں!“
(صحيح البخاري : 926/2 ، ح : 6262 ، صحيح مسلم : 95/2 ، ح : 1768)
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنے سردار کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ، بلکہ مطلب یہ تھا کہ کھڑے ہو کر ان کو سواری سے اتارو، کیوں کہ اس وقت وہ زخمی تھے۔ اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :
قوموا إلى سيدكم فأنزلوه، فقال عمر: سيدنا الله عز وجل، قال: أنزلوه، فأنزلوه .
”اپنے سردار کی طرف لپکیں اور سواری سے نیچے اُتاریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ہمارا سردار اللہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد کو نیچے اُتاریں، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں نیچے اُتار دیا۔“
(مسند الإمام أحمد : 141/6-142 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (7028) نے صحیح کہا ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن قرار دیتے ہوئے لکھا ہے :
هذه الريادة تخدش فى الاستدلال بقصة سعد على مشروعية القيام المتنازع فيه .
”یہ زائد الفاظ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے واقعے سے متنازع فیہ یعنی تعظیمی قیام پر استدلال کو باطل قرار دیتے ہیں۔“
(فتح الباري : 51/11)
◈ امام مسلم رحمہ اللہ (م : 261ھ) فرماتے ہیں :
لا أعلم فى قيام الرجل للرجل حديثا أصح من هذا، وهذا القيام على وجه البر لا على وجه التعظيم، أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الأنصار أن يقوموا إلى سيدهم .
”میرے مطابق تعظیمی قیام کے متعلق یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔ البتہ اس قیام سے مراد بہ طور خوش اخلاقی کے کھڑا ہونا ہے، بہ طور تعظیم نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے سردار کی طرف لپکیں۔“
(المدخل إلى السنن للبيهقي : 708 وسنده صحيح)
◈ امام بیہقی رحمہ اللہ (م : 458ھ) فرماتے ہیں :
هذا القيام يكون على وجه البر والإكرام، كما كان قيام الأنصار لسعد، وقيام طلحة لكعب بن مالك، ولا ينبغي للذي يقام له أن يريد ذلك من صاحبه ، حتى إن لم يفعل حنق عليه، أو شكاه، أو عاتبه .
”اس قیام سے مراد حسن سلوک اور بطور عزت کھڑے ہونا ہے، جیسا کہ انصاریوں کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑا ہونا ثابت ہے۔ البتہ جو آدمی اپنے لیے کسی کے کھڑے ہونے کو پسند کرے اور جو اس کے لیے کھڑا نہ ہو، اس پر غصے اور شکایت کے ساتھ ساتھ برہمی کا اظہار کرے، اس کے لیے کھڑا ہونا درست نہیں ہے۔“
(شعب الإيمان : 277/11)
◈ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ (م: 1176ھ) لکھتے ہیں :
عندي أنه لا اختلاف فيها فى الحقيقة، فإن المعاني التى يدور عليها الأمر والنهي مختلفة، فإن العجم كان من أمرهم أن تقوم الخدم بين أيدي سادتهم، والرعية بين أيدي ملوكهم، وهو من إفراطهم فى التعظيم، حتى كاد يتأخم الشرك، فنهوا عنه، وإلى هذا وقعت الإشارة فى قوله عليه السلام: كما يقوم الأعاجم .
”میں سمجھتا ہوں کہ ان احادیث اور روایات میں در حقیقت کچھ بھی اختلاف نہیں، کیونکہ جن معانی اور مقاصد پر امر اور نہی کا انحصار ہے، وہ مختلف ہیں، چنانچہ عجمیوں کا یہ دستور تھا کہ خدام اپنے آقاؤں کے سامنے اور رعیت کے لوگ بادشاہ کے سامنے بیٹھتے نہیں تھے، بلکہ دست بستہ کھڑے رہتے تھے۔ ایسا کرنا تعظیم میں افراط تھا اور شرک کے ساتھ اس کے تانے بانے مل جاتے تھے۔ لہذا اس قسم کے قیام سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روک دیا گیا۔ اسی بات کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں اشارہ موجود ہے کہ عجمیوں کی مانند کھڑے نہ ہو جائیں۔“
(حجة الله البالغة : 306/2)
◈ علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ (م : 1329ھ) لکھتے ہیں :
قد أورد المؤلف فى هذا الباب حديثين دالين على جواز القيام، ثم ترجم بعد عدة أبواب بلفظ: باب الرجل يقوم للرجل يعظمه بذلك، وأورد فيه حديثين يدلان على النهي عن القيام، فكأنه أراد بصنيعه هذا الجمع بين الأحاديث المختلفة فى جواز القيام وعدمه، بأن القيام إذا كان للتعظيم مثل صنيع الأعاجم؛ فهو منهي عنه، وإذا كان لأجل العلم، والفضل، والصلاح، والشرف، والود، والمحبة، فهو جائز .
مصنف امام ابو داؤد رحمہ اللہ اس باب کے تحت دو احادیث لائے ہیں، یہ قیام کے جواز پر دلالت کرتی ہیں، پھر کئی ایک ابواب کے بعد بایں الفاظ باب قائم کیا ہے : آدمی کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کا بیان اور اس میں بھی دو حدیثیں نقل کی ہیں، جن سے اس قیام کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ گویا اس طرز عمل سے امام صاحب قیام کے جواز اور عدم جواز کے متعلق مختلف احادیث میں جمع و تطبیق کی یہ صورت بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جب قیام تعظیم کی خاطر ہو، جیسا کہ عجمی لوگ کرتے ہیں، تو یہ منع ہے اور جب قیام علم وفضل ، نیکی وشرف اور الفت و محبت کی وجہ سے ہو، تو جائز ہے۔
(عون المعبود : 84/14)
◈ علامہ غزالی رحمہ اللہ (م : 505ھ) لکھتے ہیں :
القيام مكروه على سبيل الإعظام، لا على سبيل الإكرام .
”تعظیم کی نیت سے کھڑا ہونا مکروہ ہے، نہ کہ بطور اکرام واحترام۔“
(إحياء علوم الدين : 205/2)
◈ حافظ نووی رحمہ اللہ (م : 676ھ) فرماتے ہیں :
أما إكرام الداخل بالقيام، فالذي نختاره أنه مستحب لمن كان فيه فضيلة ظاهرة من علم أو صلاح أو شرف أو ولاية مصحوبة بصيانة، أوله ولادة أو رحم مع سن ونحو ذلك، ويكون هذا القيام للبر والإكرام والاحترام، لا للرياء والإعظام، وعلى هذا الذى اخترناه استمر عمل السلف والخلف .
”تعظیمی قیام سے متعلق ہمارا مختار مسلک یہ ہے کہ اس میں بظاہر فضل و کمال ہو، مثلاً وہ علم ومعرفت، صلاح و تقویٰ ، عزت و شرف، پرہیز گاری پر مبنی ولایت وجاہ، عمر کی درازی و کبرسنی اور رشتہ داری و قرابت وغیرہ ہو، تو اس کی وجہ سے ایسا کرنا مستحب ہے، بشرطیکہ اس کا کھڑا ہونا بر وصلہ اور احترام واکرام کی وجہ سے ہو، نہ کہ دکھاوے یا تعظیم کے طور پر۔ ہمارے اسی اختیار کردہ مسلک کے مطابق ہی خلف وسلف کا عمل رہا ہے۔“
(الأذكار ص : 268)
◈ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (م : 737ھ) اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :
لو كان القيام المأمور به لسعد هو المتنازع فيه، لما خص به الأنصار، فإن الأصل فى أفعال القرب التعميم، ولو كان القيام لسعد على سبيل البر والإكرام، لكان هو صلى الله عليه وسلم أول من فعله، وأمر به من حضر من أكابر الصحابة، فلما لم يأمر به، ولا فعله، ولا فعلوه؛ دل ذلك على أن الأمر بالقيام لغير ما وقع فيه النزاع، وإنما هو لينزلوه عن دابته لما كان فيه من المرض، كما جاء فى بعض الروايات، ولأن عادة العرب أن القبيلة تخدم كبيرها ، فلذلك خص الأنصار بذلك دون المهاجرين أن المراد بعض الأنصار لا كلهم، وهم الأوس منهم، لأن سعد بن معاذ كان سيدهم دون الخزرج، وعلى تقدير تسليم أن القيام المأمور به حينئذ لم يكن للإعانة؛ فليس هو المتنازع فيه، بل لأنه غائب قدم، والقيام للغائب إذا قدم؛ مشروع .
”اگر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے قیام کے حکم سے مراد متنازع فیہ (تعظیمی) قیام ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم میں انصار کو خاص نہ کرتے، کیوں کہ نیکی کے کاموں میں اصل عموم ہوتا ہے (یعنی وہ سب کے لیے مشترک ہوتے ہیں) اگر سعد رضی اللہ عنہ کے لیے کھڑا ہونا عزت اور نیکی کے لیے ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے ایسا خود کرتے اور وہاں موجود اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس کا حکم دیتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم نہیں دیا، نہ خود ایسا کیا ہے، نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قیام کیا، تو معلوم ہوا کہ قیام کا یہ حکم اس مقصد کے لیے نہیں تھا، جس میں نزاع ہے (تعظیمی نہیں تھا) یہ حکم تو صرف سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو سواری سے اُتارنے کے لیے تھا، کیوں کہ وہ اس وقت بیمار تھے، جیسا کہ بعض روایات میں یہ بات مذکور ہے۔ نیز عربوں کی یہ عادت بھی تھی کہ پورا قبیلہ اپنے بڑے کی خدمت کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم صرف انصار کو دیا تھا، مہاجرین کو نہیں۔ پھر اس سے مراد سارے انصار بھی نہیں، بلکہ بعض انصار، یعنی قبیلہ اوس کے لوگ تھے، کیوں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اوس کے ہی سردار تھے، خزرج کے نہیں۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس وقت قیام کا حکم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو سواری سے اُتارنے میں مدد کرنے کے لیے نہیں تھا، تو بھی یہ قیام متنازع فیہ (تعظیمی) نہیں ہوسکتا، کیوں کہ یہ قیام ایک غائب کے آنے کی وجہ سے تھا اور کسی آنے والے کے لیے کھڑا ہونا شرعاً جائز ہے۔“
(فتح الباري : 51/11)
اگر کوئی اس قیام کو اکرام پر محمول کرے، تو یہ بھی ہمارے نزدیک مشروع ہے۔
◈ امام حماد بن زید رحمہ اللہ (م : 179ھ) کہتے ہیں :
كنا عند أيوب، فجاء يونس، فقال حماد : قوموا لسيدكم، أو قال : لسيدنا .
”ہم ایوب سختیانی رحمہ اللہ کے پاس تھے۔ امام یونس رحمہ اللہ آئے، تو حماد رحمہ اللہ نے فرمایا : اپنے یا ہمارے سردار کے لیے کھڑے ہو جائیں۔“
(الجامع لأخلاق الراوي للخطیب : 302 وسنده حسن)
◈ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
قام إلى طلحة بن عبيد الله يهرول حتى صافحني وهنأني، والله، ما قام إلى رجل من المهاجرين غيره .
”میری طرف سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے کھڑے ہوئے، انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! میری طرف ان کے علاوہ مہاجرین میں سے کوئی آدمی کھڑا نہیں ہوا۔“
(صحيح البخاري : 636/2 ، ح : 4418 ، صحيح مسلم : 362/2 ، ح : 2769)
یہ استقبال کی غرض سے قیام تھا جو کہ جائز ومباح ہے۔