رحم دلی کے متعلق احکامات
① سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أهل الجنة ثلاثة: سلطان مقسط موفق، ورجل رحيم رفيق القلب لكل ذي قربى، ومسلم عفيف متعفف ذو عيال
”اہل جنت تین قسم کے ہیں: انصاف کرنے والا با مراد بادشاہ، ہر قرابت دار کے ساتھ مہربانی اور نرمی سے پیش آنے والا شخص، اور عیال دار پاک دامن مسلمان۔“
مسلم، کتاب الجنة وصفة نعیمہا وأہلہا 2865، مسند احمد، مسند الشامیین 4/ 162۔
نرمی کے متعلق احکامات
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الرفق لا يكون فى شيء إلا زانه، ولا ينزع من شيء إلا شانه
”یقیناً جس چیز میں نرمی ہوتی ہے تو وہ اسے زینت بخشتی ہے، اور جب کسی چیز سے نرمی نکال لی جائے تو وہ اسے معیوب بنا دیتی ہے۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والأدب 2594، مسند احمد، باقی مسند الأنصار 58/6۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله رفيق يحب الرفق، ويعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف وما لا يعطي على ما سواه
”یقیناً اللہ مہربان ہے، وہ نرمی اور مہربانی کو پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا اور اس کے علاوہ بھی کسی صورت میں عطا نہیں کرتا۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والأدب 2593۔
③ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من يحرم الرفق يحرم الخير
”جسے نرمی سے محروم کر دیا جائے، گویا وہ تمام بھلائیوں سے محروم کر دیا گیا۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والأدب 2592، ابو داؤد، کتاب الأدب 4809۔
مسلمان کا اس کی غیر موجودگی میں دفاع کرنا
① سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو فرمایا:
أين مالك بن الدخشم؟
”مالک بن دخشم کہاں ہے؟“
اتنے میں ایک آدمی نے کہا: وہ تو منافق ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقل ذلك، ألا تراه قال: لا إله إلا الله يريد بذلك وجه الله، وإن الله قد حرم على النار من قال: لا إله إلا الله يبتغي بها وجه الله
”ایسے نہ کہو! کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ کی رضا کی خاطر ”لا إله إلا الله“ کا اقرار کرتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر ”لا إله إلا الله“ کا اقرار کرتا ہے تو اللہ نے اس پر جہنم کی آگ حرام قرار دے دی ہے۔“
بخاری، کتاب الصلاة 424، 425، مسلم، کتاب الإیمان 33۔
مسلمانوں کو ہاتھ اور زبان سے محفوظ رکھنا
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں سے باز آ جائے۔“
بخاری، کتاب الإیمان 10، مسلم، کتاب الإیمان 40، ابو داؤد، کتاب الجهاد 2481۔
② سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون سے مسلمان افضل ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سلم المسلمون من لسانه ويده
”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں“۔
بخاری، کتاب الإیمان 11، مسلم، کتاب الإیمان 42۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمؤمن من أمنه الناس على دمائهم وأموالهم
”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانیں اور اپنے اموال محفوظ سمجھتے ہوں“۔
ترمذی، کتاب الإیمان 2627، النسائی، کتاب الإیمان وشرائعه 104/8، روایت صحیح ہے۔