عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے، ذمیوں کو قتل کرنے، تقسیم کی اجرت لینے اور بے صبری کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، کسی غزوہ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
بخارى، كتاب الجهاد والسیر 3015 مسلم، كتاب الجهاد والسیر 1744/25۔

ذمیوں کو قتل کرنے کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة ، وإن ريحها يوجد من مسيرة أربعين عاما
”جس نے کسی ذمی (معاہد) شخص کو قتل کر دیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے“۔
بخاري، كتاب الجزية 6885 مسلم 1660/37۔ سنن ترمذی، کتاب الديان، رقم حديث 1323۔

تقسیم کی اجرت لینے کی ممانعت

① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والقسامة
”تم قسامہ سے بچو“۔
ہم نے عرض کیا: قسامہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشيء يكون بين الناس فينقص منه
”کوئی چیز لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو اور یہ اس میں سے کچھ کم کر دے“۔
اور ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الرجل يكون على الفئام من الناس فيأخذ من حظ هذا وحظ هذا
”آدمی لوگوں کی کئی جماعتوں پر مقرر ہوگا، وہ کبھی ان کے حصے سے کچھ لے لے گا اور کبھی ان کے حصے سے کچھ لے لے گا“۔
ابوداؤد، کتاب الجهاد 2783۔

بے صبری اور بوکھلاہٹ کی ممانعت

① سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال اور قیدی لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو نہیں دیا وہ ناخوش ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
أما بعد، فوالله إني لأعطي الرجل وأدع الرجل والذي أدع أحب إلى من الذى أعطي ، ولكني أعطي أقواما أرى فى قلوبهم الجزع والهلع ، وأكل أقواما إلى ما جعل الله فى قلوبهم من الغنى والخير ، منهم عمرو بن تغلب
”امّا بعد! اللہ کی قسم! میں کسی کو دیتا ہوں اور کسی کو نہیں دیتا اور جس کو میں نہیں دیتا وہ مجھے اس شخص سے زیادہ عزیز ہے جسے میں دیتا ہوں، لیکن میں جن لوگوں کو دیتا ہوں، میں ان کے دلوں میں بوکھلاہٹ اور بے صبری دیکھتا ہوں اور میں جن کو چھوڑ دیتا ہوں وہ اس بے نیازی اور خیر و بھلائی کی وجہ سے ہے جو ان کے دلوں میں پیدا کی گئی ہے، عمرو بن تغلب بھی انہی میں سے ہے“۔
وہ (سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں یہ نہیں چاہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمہ کے عوض مجھے سرخ اونٹ ملیں۔
بخارى كتاب الجمعة 923 مسند احمد، اوّل مسند البصريين 84/5، حديث 20699۔