لوگوں کی تعریف، حسنِ خلق، حلم و وقار اور مسلمان کے حقوق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

لوگوں کی تعریف کرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صنع إليه معروف فقال لفاعله: جزاك الله خيرا؛ فقد أبلغ فى الثناء.
”جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور وہ بھلائی کرنے والے سے کہہ دے: جزاك الله خيرا (اللہ تجھے بہتر جزا دے)، تو اس نے بہت زیادہ تعریف کی“۔
ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2035، روایت حسن ہے، النسائی فی عمل اليوم واللیلة 180۔

حسنِ خلق کے متعلق احکامات

① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو تھے نہ بد زبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
إن من أخياركم أحسنكم أخلاقا.
”تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جس کا تم میں سے اخلاق اچھا ہے“۔
بخاری، کتاب المناقب 3559، مسلم، کتاب الفضائل 2321۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن المؤمن ليدرك بحسن خلقه درجة الصائم القائم.
”مومن اپنے حسنِ خلق کی وجہ سے روزہ دار اور تہجد گزار کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4798، مسند احمد، مسند الشامیین 6 / 94، روایت حسن ہے۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم أخلاقا وألطفهم بأهله.
”اس شخص کا ایمان سب سے کامل ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے اور جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہے“۔
ترمذی، کتاب الایمان 2612، روایت حسن ہے۔
④ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من شيء أثقل فى ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن، وإن الله يبغض الفاحش البديء.
”روزِ قیامت مومن کے ترازو میں حسنِ خلق سے زیادہ وزنی کوئی اور عمل نہیں ہوگا، اس لیے کہ اللہ فحش گو اور بد کلام شخص کو پسند نہیں کرتا“۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4799، ترمذی، کتاب البر والصلة 2003، روایت صحیح ہے۔
⑤ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما من شيء يوضع فى الميزان أثقل من حسن الخلق، وإن صاحب حسن الخلق ليبلغ به درجة صاحب الصوم والصلاة.
”ترازو میں حسنِ خلق سے زیادہ وزنی کوئی اور عمل نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ صاحبِ حسنِ خلق، اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ دار اور تہجد گزار شخص کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے“۔
ترمذی، کتاب البر والصلة 2002، 2013، روایت صحیح ہے۔
⑥ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ (کی تعریف) کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البر حسن الخلق، والإثم ما حاك فى صدرك وكرهت أن يطلع عليه الناس.
”نیکی حسنِ خلق ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناپسند ہو کہ لوگوں کو تیرے متعلق اس کا پتہ چل جائے“۔
مسلم، کتاب البر والصلة 2553، بخاری فی الأدب المفرد 295۔

حلم و وقار

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس سے فرمایا:
إن فيك خصلتين يحبهما الله: الحلم والأناة.
”آپ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: حلم اور سنجیدگی“۔
مسلم، کتاب الایمان 18 / 25۔

مسلمان کا مسلمان پر حق

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حق المسلم على المسلم خمس: رد السلام، وعيادة المريض، واتباع الجنازة، وإجابة الدعوة، وتشميت العاطس.
”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازے میں شریک ہونا، دعوت قبول کرنا اور چھینک آنے پر الحمد لله کہنے والے کو يرحمك الله کہہ کر جواب دینا“۔
بخاری، کتاب الجنائز 1240، مسلم، کتاب السلام 2162۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حق المسلم على المسلم ست.
”مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں“۔
عرض کیا گیا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیا ہیں؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا لقيته فسلم عليه، وإذا دعاك فأجبه، وإذا استنصحك فانصح له، واذا عطس فحمد الله فشمته، وإذا مرض فعده، وإذا مات فاتبعه
”جب تمہاری اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرو، جب وہ تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو، جب تم سے نصیحت (خیر خواہی) طلب کرے تو اسے نصیحت کرو، جب وہ چھینک مارے اور وہ ”الحمد لله“ کہے تو تم ”يرحمك الله“ کہہ کر جواب دو، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو۔“
مسلم، کتاب السلام 2162۔