مضمون کے اہم نکات
والدین اور اولاد کے باہمی تعلقات
اولاد باپ کا راز اس کی خصوصیات کی حامل زندگی میں اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور مرنے کے بعد اس کے وجود کا تسلسل باقی رکھنے والی موت کے بعد اُس کے لیے صدقہ جاریہ، اس کی یاد کا مظہر اس کے حسن و فتح اور امتیازی خصوصیات کی وارث اس کے دل کا ٹکڑا اور جگر گوشہ ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرام ٹھہرایا ہے اور نکاح کو فرض قرار دیا ہے تاکہ نسب کا تحفظ ہو اور نطفوں کا باہم اختلاط نہ ہو۔ نیز اولاد اپنے باپ کو اور باپ اپنی اولاد کو پہچان سکے۔ نکاح ہی وہ مسنون طریقہ ہے جس کی وجہ سے عورت مرد کے لیے مختص ہو جاتی ہے اور اس پر شوہر کی خیانت حرام ہو جاتی ہے۔ نکاح کی صورت میں جو بچہ بھی زوجیت کے بستر پر پیدا ہوتا ہے وہ شوہر کی اولاد کہلاتا ہے۔ اس انتساب (نسبت) کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی کہ باپ کو اعلان کرنا پڑے یا ماں کو دعوی کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق :
الولد للفراش
”بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا۔“
بخاری کتاب الحدود باب للعاهر الحجر ح : 6818 ، مسلم کتاب الرضاع باب الولد للفراش ح : 1457
اپنے بیٹے کے نسب کا انکار کرنا جائز نہیں
بنابریں شوہر کے لیے جائز نہیں کہ اس کی بیوی نے اس کے بستر پر یعنی اس کے ساتھ صحیح ازدواجی رشتہ قائم ہونے کی صورت میں جس بچہ کو جنم دیا ہو اس کے نسب کا انکار کرے۔ اس کا انکار کرنا بیوی دونوں بچہ کے حق میں سخت مضرت رساں اور باعث عار ہوگا لہذا محض وہم وگمان یا افواہ کی بنا پر اس قسم کا قدم اٹھانا صحیح نہیں ہے۔ البتہ اگر ثبوت اور نا قابل انکار قرائن و شواہد کی بنا پر اسے یقین ہو جائے کہ بیوی نے اس کے ساتھ خیانت کی ہے تو ایسی صورت میں اسلامی شریعت بچہ کو پرورش کے لیے زبر دستی ایسے شخص کے حوالہ نہیں کرنا چاہتی جو اسے اپنا بچہ تسلیم نہیں کرتا اور نہ زبردستی اسے اس کا وارث ہی بنانا چاہتی ہے۔
غرضیکہ اسلامی شریعت اسے زندگی بھر کے لیے شک وشبہ میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتی۔ اس الجھن سے نکلنے کی جو شکل اس نے تجویز کی ہے، اسے لعان کہتے ہیں۔ لہذا جس کو اس بات پر وثوق یا غالب گمان ہو کہ اس کی بیوی نے اس کے بستر کو دوسرے کے نطفہ سے آلودہ کیا ہے اور بچہ کسی اور کے نطفہ سے ہے (لیکن اس بات پر کوئی شہادت نہ پیش کر سکتا ہو) تو ایسی صورت میں اسے اپنا مقدمہ قاضی کی عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔ قاضی ان کے درمیان (پورا کیس سننے کے بعد) لعان کرائے گا، جس کی تفصیل قرآن کریم نے سورہ نور میں بیان کی ہے :
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ 6 وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ 7 وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ 8 وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
”جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے (مشاہدہ کے) دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں، تو ایسے شخص کی شہادت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دے کہ وہ اپنے الزام میں سچا ہے۔ اور پانچویں بار کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے۔ اور اس عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دے کہ یہ مرد جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس عورت پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ (مرد) اپنے الزام میں سچا ہے۔“
(سورہ النور : 6 تا 9)
اس کے بعد ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے تفریق کر دی جائے گی اور بچہ کا الحاق ماں سے کر دیا جائے گا۔
تبنیت (لے پالک بنانا) اسلام میں حرام ہے
جس طرح باپ کے لیے اپنی نسبی اولاد کا انکار کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح جو بچہ اس کی صلبی اولاد نہ ہو، اس کو بیٹا بنا لینا بھی جائز نہیں ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عرب دوسری قوموں کی طرح اپنا نسب تبنیت کے ذریعہ جس شخص سے چاہتے ملاتے اور آدمی جس لڑکے کو چاہتا اپنا متبنیٰ بیٹا بنا لیتا اور متبنیٰ کے حقوق و فرائض بیٹوں ہی کی طرح ہوتے۔ یہ تبنیت اس صورت میں بھی اختیار کی جاتی جبکہ متبنیٰ کا باپ معلوم اور اس کا نسب معروف ہوتا۔
اسلام کی جب آمد ہوئی تو عرب سماج میں تبنیت کا یہ طریقہ رائج تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو دور جاہلیت میں متبنیٰ بنایا تھا۔
مستدرک حاکم : 3 / 213 ، طبقات ابن سعد : 3 / 40 ، 27، الاصابہ : 1 / 563
لیکن اسلام نے اس کو ایک خلاف حقیقت جانا ہے یعنی جعلی طور پر ایک اجنبی شخص کو خاندان کا فرد بنادیا جاتا ہے اور وہ گھر کی عورتوں کے ساتھ اس طرح خلوت میں رہتا ہے گویا کہ وہ ان کا محرم ہے حالانکہ وہ ان کا محرم نہیں ہوتا اور یہ عورتیں اس کے لیے اجنبی ہوتی ہیں۔
جو شخص کسی کو متبنیٰ بناتا ہے پھر وہ اس کو اپنا وارث بناتا ہے۔ ایسی صورت میں اصل قرابت دار وراثت کے مستحق ہونے کے باوجود اس سے محروم رہتے ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی رشتہ داروں کے دل میں منہ بولے بیٹے کے بارے میں کینہ وحسد پیدا ہو جاتا ہے۔ اور لامحالہ اس کا نتیجہ فتنہ اور تعلقات کی خرابی کی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ ان وجوہات و اسباب سے قرآن نے اس جاہلی نظام کو باطل اور قطعی حرام قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ 4 ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ
”اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا ہے۔ یہ تمہارے منہ سے نکلی ہوئی بات ہے لیکن اللہ حق بات فرماتا ہے اور صحیح طریقہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اُن کو ان کے باپ کی نسبت سے پکارو کہ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ لیکن اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔“
(سورہ الاحزاب : 4 تا 5)
قرآن کا یہ بیان کہ یہ تمہارے منہ سے نکلی ہوئی بات ہے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ خالی خولی بات ہے جس کے پیچھے کوئی خارجی حقیقت کارفرما نہیں ہے۔
فی الواقع زبان سے نکلی ہوئی بات نہ حقائق کو بدلتی ہے اور نہ واقعات و مشاہدات کو۔ محض اس سے اجنبی شخص رشتہ دار نہیں بن جاتا اور نہ منہ بولا بیٹا کسی طرح حقیقی بیٹا بن جاتا ہے۔ منہ سے نکلی بات متبنیٰ کی رگوں میں گود لینے والے شخص کا خون نہیں دوڑ سکتی اور نہ گود لینے والے شخص کے دل میں شفقت پدری پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح لڑکے کے دل میں پدری جذبات بھی نہیں پیدا کر سکتی اور نہ اس میں اس خاندان کی جسمانی، عقلی اور نفسیاتی خصوصیات پیدا کر سکتی ہے۔ اس نظام کے جملہ نقوش مثلاً وراثت، متبنی کی بیوی سے نکاح کی حرمت وغیرہ کو اسلام نے بالکل مٹا دیا۔ چنانچہ وراثت کے سلسلہ میں قرآن نے کسی ایسے تعلق کو جو نہ خون کا ہو نہ زوجیت کا ہو اور نہ ہی حقیقی قرابت کا ہو، کوئی اہمیت نہیں دی اور اس کو میراث میں حصہ دار نہیں بنایا۔
وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
”اور خون کے رشتہ دار اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔“
(سورہ الانفال : 75)
اور نکاح کے سلسلہ میں قرآن نے اعلان کیا کہ حقیقی بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں نہ کہ منہ بولے بیٹوں کی :
وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ
”اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب (پشت) سے ہوں۔“
(سورہ النساء : 23)
لہذا گود میں لینے والے شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ متبنی کی بیوہ یا مطلقہ بیوی سے نکاح کرے کیونکہ وہ حقیقتاً اجنبی شخص کی بیوی ہے اور جب متبنی نے اس کو طلاق دے دی تو اس کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عملی شہادت کے ذریعہ تبنیت کا ابطال
یہ بات لوگوں کے لیے آسان نہ تھی کیونکہ تبنیت کا اجتماعی نظام عربوں کی زندگیوں میں گہری جڑیں گاڑ چکا تھا۔ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس کا ابطال نہ صرف قول سے بلکہ عمل سے بھی کیا جائے۔ اس اہم کام کو سر انجام دینے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کا انتخاب عمل میں آیا تا کہ ہر قسم کے شک وشبہ کا ازالہ ہو جائے اور مسلمان اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کریں۔ اور انہیں یقین ہو جائے کہ حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال ٹھہرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جو زید بن محمد کہلاتے تھے، زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں، نکاح کر لیا تھا۔ لیکن دونوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور زید اپنی بیوی کی شکایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی معلوم ہو گیا تھا کہ زید طلاق دے دیں گے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی زوجیت میں لے لیں گے۔ لیکن بعض اوقات بشری کمزوری غالب آجاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اظہار لوگوں پر نہ کرتے، بلکہ زید کی شکایت سن کر کہتے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔ اس موقع پر قرآن نازل ہوا اور اس نے اس قدیم نظام جاہلی کا بالکل خاتمہ کر دیا :
فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا
”پھر جب زید نے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے اس کا نکاح تم سے کر دیا تا کہ مؤمنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں۔ اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا۔“
(سورہ الاحزاب : 37) بخاري كتاب التفسير سورة الاحزاب باب قوله وتخفى فى نفسك ح : 4878 ، 7420 ، ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة الاحزاب ح : 3207-3212
تبنیت بمعنی تربیت
یہ وہ تبنیت نہیں ہے جس کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے کہ تبنیت کا یہ طریقہ اختیار کر کے آدمی دوسرے کے لڑکے کو گود میں لے لیتا ہے اور اس کو اپنے نسب اور اپنے خاندان سے ملاتا ہے اور اس پر بیٹے کے احکام کا اطلاق کرتا ہے، مثلاً گھر کی عورتوں کے ساتھ اختلاط جائز، رشتوں کو اس پر حرام کر دینا اور میراث کا اس کو مستحق بنانا وغیرہ۔ لیکن تبنیت بمعنی تربیت ایک صورت ایسی بھی ہے جو مذکورہ قسم سے مختلف ہے۔ لوگ اس صورت کو بھی تبنیت خیال کرتے ہیں۔ در حقیقت یہ وہ تبنیت نہیں ہے جسے اسلام نے حرام ٹھہرایا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کسی یتیم یا لاوارث بچہ کو اپنے پاس رکھ لے اور اس کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کرے نیز اس کی پرورش اور تربیت اس طرح کرے گویا کہ وہ اس کا حقیقی بیٹا ہے۔ اس کو کھلانے پلانے کپڑے پہنانے اور تعلیم وغیرہ دینے کے معاملہ میں بالکل اپنے بیٹے ہی جیسا سلوک کرے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ اسے اپنی طرف منسوب نہ کرے اور نہ ہی بیٹے کے احکام کا اس پر اطلاق کرے۔ اگر ان حدود میں رہ کر معاملہ کیا جاتا ہے تو یہ ایک پسندیدہ بات ہوگی جس پر وہ اجر عظیم کا مستحق ہو گا۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
أنا وكافل اليتيم فى الجنة هكذا وأشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما
”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا، جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اور اس میں تھوڑی سی کشادگی پیدا کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی۔“
بخاری کتاب الطلاق باب اللعان ح : 5304 ، ابوداود ح : 5150
گمشدہ بچہ جو کسی کو مل جائے، یتیم ہی کے حکم میں ہے اور اس پر بدرجہ اولیٰ ابن السبیل یعنی مسافر کا اطلاق ہوتا ہے جس کا خیال (کفالت) رکھنے کی اسلام نے ہدایت کی ہے۔
لہذا جب کسی شخص کے ہاں اولاد نہ ہو اور وہ ایسے بچہ کو مالی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ اپنی زندگی میں جس قدر چاہے ہبہ کر سکتا ہے اور اپنے فوت سے پہلے اپنے ترکہ (مال) میں سے ایک تہائی کی حد تک اس کے لیے وصیت بھی کر سکتا ہے۔
حمل ٹھہرانے کا مصنوعی طریقہ
اسلام نے نسب کے تحفظ کا سامان بہم کر کے اور تبنیت کو حرام قرار دے کر خاندان کو غلط عناصر سے پاک رکھنا چاہا ہے۔ اس کے پیش نظر حمل ٹھہرانے کا مصنوعی طریقہ بھی حرام قرار پاتا ہے جبکہ حمل شوہر کے نطفہ کے علاوہ کسی اور کے نطفہ سے ٹھہرایا جائے۔ بلکہ ایسی صورت میں جیسا کہ استاذ محترم شیخ شلتوت نے کہا ہے، یہ قابل نفرت جرم ہے اور بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔ بلکہ یہ زنا ہی کی ایک شکل ہے کیونکہ دونوں کی اصلیت ایک ہی ہے اور نتیجہ بھی ایک۔ یعنی کسی اجنبی شخص کا نطفہ رحم مادر میں رکھنا جبکہ دونوں کے درمیان شرعی زوجیت کا تعلق نہ ہو جس کی تائید طبیعی قانون اور آسمانی شریعت کرتی ہے۔
جہاں تک اس جرم کی ظاہری شکل کا تعلق ہے، اس میں اگر قانونی سقم نہ ہوتا تو یہ زنا کے حکم میں ہوتا جو الٰہی قوانین کی رو سے ایک ایسا جرم ہے، جس پر حد جاری کی جانی چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ حمل ٹھہرانے کی یہ شکل بدترین جرم ہے اور تبنیت سے بھی بڑا منکر ہے کیونکہ اس طریقہ سے جو بچہ پیدا ہوگا اس میں دونوں قباحتیں جمع ہو جائیں گی ایک تو تبنیت میں پائی جانے والی قباحت یعنی نسب میں غیر متعلق عنصر کو داخل کرنا اور دوسری خست یعنی زنا کا قالب اختیار کرنا جس کو نہ کوئی شریعت پسند کرتی ہے اور نہ کوئی قانون۔ یہ انسانیت کے معیار سے گری ہوئی ایک قبیح حرکت ہے اور اس سے انسان حیوانوں کے درجہ میں اتر آتا ہے جن کو سماجی روابط جیسی محترم چیزوں کا کوئی شعور نہیں ہے۔